1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

’بند گلی‘ ایک افسانہ ،محممود ایاز

ان کہی نے 'افسانے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 23, 2016

  1. ان کہی

    ان کہی محفلین

    مراسلے:
    129
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    "بند گلی" ایک ایسا افسانہ ہے جس میں جواب ہے ان سوالوں کا جن کی تلاش میں در در بھٹکتا رہا ہوں. جس میں جواب


    ہے ان سوالوں کا جو اَب تک میں نے یا کسی اور نے خدا کی ذات، تقدیر، قسمت اور اختیار پر اٹھائے ہیں! جس میں پنہاں

    میری کیفیات کے دھارے جو میری سوچوں کے ابلتے ہوئے چشموں سے پھوٹتے ہیں!


    محممود ایاز


    میں ایک بند گلی کے آخری حصے میں کھڑا ہوں جہاں حبس زدہ ہوا ہولے ہولے چلتی ہوئی میرے وجود سے ٹکراتی

    ہے اور واپس مڑ جاتی ہے ،ایک نظر پیچھے کی طرف دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ مکانوں کا قبرستان ہے اور تمام

    قبریں بوسیدہ ہو چکی ہیں! گلی کے دونوں اطراف میں سرسبز رنگ کے پتے لہرا رہے ہیں جیسے ان قبروں میں پڑے

    ہوے خوابیدہ جسموں پر احتراما چادر سمجھ کر ڈالے گئے ہوں! میں اکثر اس گلی میں آتا ہوں اور اس آخری حصے

    میں کھڑا ہو کر بند گلی کے پار جانے کی سوچتا ہوں ،میں جانتا ہوں کہ گلی کے پار کچھ نہیں ہے لیکن ہر بار دل کے

    اندر اک ارتعاش کو دھیرے سے کسی طوفاں کی طرح ابھرتا ہوا محسوس کرتا ہوں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ طوفان

    اٹھے گا تو اس بند گلی کے پار جانے کا راستہ دریافت کر پاؤں گا،
    آج دل کی بے چینی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے،یہاں کھڑے میرا دم اب گھٹنے لگا ہے، بوسیدہ مکانوں کی قبروں سے

    آنے والی پرراسرار بو سے میرا سانس رکنے لگتا ہے..میں دھیرے سے واپس جانے کے لیے قدم بڑھتا ہوں لیکن
    اچانک میرے سینے سے نیلے رنگ کی روشنی بھوٹتی ہے اور دیوار سے جا ٹکراتی ہے،ابھی میں اس حیرت زدہ
    منظر کے سحرسے باہر نکل نہیں پاتا تھا کہ دیوار کسی طلسمی دروازے کی طرح کھلنے لگتی ہے،مجھے اپنی بینائی
    پر یقین نہیں آرہا تھا، ایک مشہور فلاسفر کی بات ذہن میں درآئی کہ؛؛ جو انسان سوچتا ہے اسے حاصل کر لیتا ہے؛؛

    مجھے ٹھیک سے یاد نہ آیا کہ فلاسفر نے ایسا ہی کہا تھا.......؟
    اور جب آنکھوں کے سامنے ایسا منظر ہو تو کہاں ایسی باتیں یاد رہتی ہیں.....؟
    دروازہ ،مکمل کھلنے کے بعد
    آواز آتی ہے،


    ؛؛اندر آجاؤ؛؛


    آواز اس قدر سحرانگیز تھی کہ میں نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ آخر مجھے کس نے بلایا ہے،میرے
    اندر داخل ہوتے
    ہی دروزہ بند ہو جاتا ہے ،مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے میں آواز کا مرکز تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ناکام رہتا ہوں میں نے آج سے پہلے کھبی اتنی تاریکی نہیں دیکھی تھی اچانک روشنی کا ایک چھوٹا سے ہالہ نمودار ہوتا ہے تاریکی کے باعث میں یہ اندازہ نہیں لگا پاتا کہ وہ ہالہ مجھ سے کتنی دور ہے دیکھتے ہی دیکھتے اس ہالے کا حجم بڑھنے لگتا ہے عجیب بات یہ تھی کہ وہ ہالہ سفید روشنی کا تھا لیکن حجم بڑھنے کے ساتھ
    اس جگہ وہ روشنی پھیلی نہیں !سوائے اس ہالے کے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی،


    کیا چاہتے ہو تم ...؟ کیوں اس زندگی سے ناراض رہتے ہو..............؟




    کون ہو تم...................؟
    میں نے بوکھلاے ہوے لہجے میں پوچھا ..میں ڈر گیا تھا کہ یہ مجھ سے ایسے سوال کیوں پوچھ رہا ہے جن کا جواب
    میرے پاس بھی نہیں ہے..



    سوال یہ نہیں کہ میں کون ہوں سوال تم خود ہو تمہاری یہاں موجودگی ایک سوال ہے مجھے بتاؤ کہ تم جھوٹ کے اندر
    سچ کیوں تلاش کرتے ہو .....؟ اور سچ کے اندر جھوٹ کی گمشدگی پر کیوں بےچین رہتے ہو........................؟؟



    مجھے احساس ہوا کہ اس آواز کا وجود میرے تمام راز جانتا ہے..




    کوئی دن ایسا نہیں جب تم اپنے جسم اور روح پر زخم کا چرکا نہیں لگتے!کیوں کرتے ہو ایسا ......؟



    اس کی آواز چاروں طرف گونجنے لگی میری سماعت سے چند الفاظ بار بار ٹکرانے لگے ...''کیوں کرتے ہو ایسا''

    کیوں کہ میں تھک چکا ہوں!! میں بہت زور سے چلایا . اور ہر طرف خاموشی چھا گئی ! تمام آوازیں آنا بند ہو

    گئیں......مسلسل ایک ہی حالت میں زندگی گزارتے گزارتے تھک چکا ہوں ،ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے اور ہر رد عمل

    کا تغیر تسکین کا باعث بنتا ہے، لیکن یہاں تو ماجرا ہی کچھ اور ہے آنکھیں زیادہ کیا کھل گئی کہ خوشی کی ساعتوں

    نے غم کا لبادہ اوڑھ لیا !! نیند روٹھ گئی اور جگرتوں نے صرف آنکھوں پر ہی نہیں پورے وجود پر قبضہ کر لیا، اور

    جب بھی میرے وجود نے روح کی جھیل میں اترنا چاہا تو پیچھے سے پتھر گرنے لگے اور پانی میں پیدا ہونے والے

    ارتعاش نے میرے وجود کا نقش تک مٹا دیا!

    جانتے ہو میرے ارگرد اتنے دائرے پھیلے ہوے ہیں جو میری مرکزیت کو کمزور بنتے ہیں ، کمزور ہونے کا احساس

    کیا ہوتا ہے تمہیں کیا معلوم ..؟جب بھی میں نے اپنے درد کی داستان لوگوں کو سنی تو انہوں نے اسے افسانہ قرار دے

    دیا ،میں حیران رہ جاتا ہوں کہ ایک حقیقت اپنے انجام تک پہنچ کر افسانہ کیسے بن گئی ،

    میں کیا ہوں...؟ ،تم کیا ہو...؟ ،یہ سب کیا ہے....؟ ،!! صرف میری ہی سوچ کی تخلیق کر دہ صورت کے سوا کچھ نہیں

    ہے ، میں نے تمہیں سوچا تو آج تم یہاں موجود ہو ،میں نہ سوچتا تو کسی کا وجود حقیقت کا روپ نہ لیتا !.....اچھا ، برا

    ، خوصورت ،بدصورت ،یہ سب کچھ میری سوچ کے تخلیق کردہ روپ ہیں ! لیکن مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ پھول

    اور ان سے پیدا ہونے والی خوشبو میری نہیں ، یہ تتلیاں اور رنگ میرے نہیں ،سورج ،چاند ،ہوا ، میرے نہیں ! میں

    اکثر یہ شکوہ کرتا آیا ہوں کہ خدا نے مجھے میری مرضی کے بغیر دنیا میں بھیجا ہے تو پھر یہ آزمائشوں بھری زندگی

    کس لیے ...؟ یہ قدم قدم مصیبتیں کس لیے ..................؟چلو مانا اس نے مجھے زندگی دے دی تو اس کو گزارنے کا

    اختیار بھی مجھے ہی دیتا !قسمت کا ''پتا ''خدا نے اپنے ہاتھ میں کیوں رکھا ....؟ اگر تقدیر پہلے ہی لکھی جا چکی ہے

    تو کیوں محدود اختیار دے کر مجھے کٹ پتلی کی طرح نچاتا ہے .........؟؟؟ اگر اختیار دینا ہی تھا تو مکمل دیتا اور

    اگر تقدیر لکھ جا چکی ہے تو اختیار کا مقصد ..............؟ ہر شام اپنی صبح اور ہر صبح اپنی شام لے کر آتی ہے تو

    میرے وجود کا کیا مقصد .................؟اگر محض عبادت کے لیے یہ زندگی ہے تو "علی کل شی' قدیر"کہلوانے کا کیا

    مقصد .........................؟اور پھر اس پر یہ امتحان کہ کامیاب رہا تو جنّت اور ناکام رہا تو دوزخ !!! مجھے تو دونوں

    میں دلچسپی نہیں ہے اور پھر کیوں بیٹھوں ایسے امتحان میں جو زبردستی مجھ پر تھونپ دیا گیا ہے ! آخر کیوں۔۔۔۔؟

    میں بولتے بولتے تھک چکا تھا اب مجھ میں مزید بولنے کی ہمت نہ تھی !!میں اپنے دل کا غبار نکال چکا تھا ،ہر طرف

    تاریکی چھائی ہوئی تھی ...

    وہ ہالہ اب بھی اپنی جگہ پہ موجود ویسے ہی روشن تھا جب آواز کو تسلی ہو گئی کہ میں اب مزید نہیں بولوں گا تو اس

    نے بولنا شروع کیا ......




    جب تمہارا وجود روح کی جھیل میں اترنے کی کوشش کرتا ہے تو پیچھے سے پتھروں کا گرنا خلائق اور محلوق ہونے

    کی دلیل ہے ! "خالق کیا ہوتا ہے جانتے ہو"..........؟





    نہ جانے کیوں میں نے نفی میں سر ہلا دیا ،حالانکہ میں جانتا تھا کہ خالق پیدا کرنے والے کو کہتے ہیں !!





    خالق جواب ہے تمہارے ہر سوال کا! جس نے انسان کو تخلیق کیا ہے اس کے پاس اس تخلیق کا جواز بھی ہے اور جس

    کے پاس جواز ہو اسکے پاس جواب بھی ہوتا ہے ! خدا نے انسان کی
    ذات
    میں تجسس رکھا ہے ،اس لیے قدم قدم پر اسکو

    سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،کچھ ان سوالات کو اہمیت نہیں دیتے ،لیکن کچھ ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے

    لیے اپنا سکون تک برباد کر دیتے ہیں اور تم ان میں سے ایک ہو ،تمہارے ارگرد پھیلے ہوئے دائرے تمہاری مرکزیت

    کو کمزور نہیں بناتے ، تمہیں طاقتور بناتے ہیں تمہاری حفاظت کرتے ہیں.!! چلو چھوڑو تمام باتوں کو موضوع پر آتے
    ہیں ،خدا ہر سوال کا جواب ہے ،تو اگر خدا کی ذات پر اٹھاے گے تمام سوالوں کے جواب مل جائیں تو شاید یہ تمہاری تکسین کے لیے کافی ہونگے....!





    اس بار میں نے ہان میں سر ہلایا...........!!





    تم سمجھتے ہو کے خدا نے تمہیں تمہاری مرضی کے بغیر دنیا میں بیجھا ہے ،نہیں ! خدا نے تمہیں تمہاری مرضی کے

    ساتھ اس دنیا میں بیجھا ہے ، بھول گے وہ عہد جو تم نے کیا تھا ،جب تم نے اپنی مرضی سے اس زندگی کا انتخاب کیا

    تھا "'!


    مجھے تو کوئی ایسا عہد یاد نہیں ہے ..""میں نے اپنی یاداشت پر زور ڈالتے ہوئے کہا........!!




    مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ تم نے تین بار خدا کا کلام ترجمے کے ساتھ پڑھا ہے ،اور پھر بھی تمہیں وہ عہد یاد نہیں ...!! "تم سا کم علم کیا ہو گا "




    مجھے حیرت ہوئی کہ یہ آواز تو میرے متعلق تمام علم رکھتی ہے ،میں اسکے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہوں ...!!




    یاد کرو جب تمام ارواح کو خدا نے دنیا کی زندگی کا نقشہ دیکھیا تھا تو ہر کسی نے اپنی اپنی مرضی کے

    مطابق
    دنیاوی زندگی کا انتخاب کیا ،اور پھر خدا نے کہا تھا کہ قیامت کے دن میری توحید کے منکر نہ ہو جانا ،

    یہ ٹھیک ایسے ہی ہے ،جب دنیا میں تم کسی سبجیکٹ کا انتخاب کرتے ہو تو اسکا امتحان بھی دیتے ہو لیکن تمہیں یہ

    معلوم نہیں ہوتا ہے امتحان میں کیا آنے والا ہے ،تم نے وہاں صبر کے امتحان کا انتخاب کے تھا اور اب جب تمہیں
    زندگی کے کئی معاملات میں صبر کرنا پڑ رہا ہے تو تمہیں یہ امتحان

    مشکل لگ رہا ہے اور اس سے فرار کی راہ اختیار کر رہے ہو .....،یہ امتحان تم پر تھونپا نہیں گیا اسکا انتخاب تم نے

    خود کیا ہے ،تم نے دولت شہرت اور اس جیسے دوسرے امتحانات پر صبر کے امتحان کو ترجیع دی ....""



    لیکن خدا کو اس امتحان کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی..........؟ میں نے ایک اور سوال داغا..!!



    "تم نے سوچا کہ تمہاری زندگی کا مقصد محض عبادت کرنا ہے ...؟ نہیں !! عبادت تو ذریعہ ہے تمہیں اچھا بنانے کا

    ،وہ آزمانا چاہتا ہے کہ .......! تم میں اچھا کون ہے ،اور برا کون ہے ! اس لیے امتحان کی ضرورت پیش آئی،اب تم یہ

    بھی کہو گے کہ خدا تو "بکل شی علیم" ہے ،



    میں نے پھر ہان میں سر ہلایا..............!!



    "تم نے کہا تھا کہ قسمت کا پتا خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے تقدیر خدا نے پہلے ہی لکھ دی ہوئی ہے ،ہر شام اپنی

    صبح اور ہر صبح اپنی شام لے کر آتی ہے ،تو اختیار کا مقصد ..؟ ہان تقدیر خدا نے پہلے ہی لکھ دی ہوئی ہے ،لیکن

    قسمت کا "پتا" خدا نے اختیار کی صورت میں تمہارے ہاتھ میں ہی رکھا ہے ،خدا نے ہر لمحے میں دو راستے رکھے

    ہیں ،اگر تم کسی ایک لمحے میں راستہ "A" کا انتخاب کرتے ہو تو تمہاری تقدیر اس کے مطابق ہو گی ،اور اگر راستہ

    "B" کا انتخاب کرتے ہو تو تمہاری تقدیر اس راستے کے مطابق ہو گی ،اور ہر راستہ اگلے ہی لمحے مزید دو راستوں

    میں تقسیم ہو جاتا ہے ،یاد رہے کہ ہر راستہ تمہارے صبر کے امتحان
    کے ساتھ جڑا ہوا ہے ،تم ہر لمحے اپنے اختیار

    کا استعمال کر رہے ہو اور پھر کہتے ہو کہ محدود اختیار دیا ہے ،یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنے اختیار کا استعمال غلط


    کرتے ہو اور قصور وار خدا کو ٹہراتے ہو .....! تم نے کہا کہ تمہیں جنّت اور دوزخ میں کوئی دلچسپی نہیں تو جب

    خدا نے کہا تھا کہ میں انسان کو جنّت کا وارث بنانا چاہتا ہوں تب تو جنّت کی خاطر ہنسی خوشی تم نے اس امتحان کو

    قبول کا لیا تھا ..اب دلچسپی کیوں نہیں ...؟صرف اس لیے کہ وہ عہد تم بھول گے ہو ....؟ انسان ہو نا .....!!جو عہد تم

    سے وہاں لیا گیا تھا وہ تمہیں یہاں یاد نہیں اور جو یہاں کرتے رہو گے وہ حشر کے دن یاد نہیں آے گا تب یاد اے

    گا جب تمہارے ہاتھ ،پاؤں،کان ،اور آنکھیں گواہی دیں گے ،جب تمہارا اعمالنامہ تمھارے ہاتھ میں پکڑایا جائے گا ...."!!





    اس آواز نے میرے تمام سوالوں کے جواب دے دئیے تھے ..."لیکن میں بھی انسان تھا" اتنی جلدی کیسے ہار مان لیتا

    ...!اس لیے میں نے مزید سوال کرنا شروع کیے...،

    "خدا نے مجھے تخلیق ہی کیوں کیا .........؟ اگر تخلیق نہ کرتا تو اچھے اور برے کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور اگر

    اچھے برے کی ضرورت نہ پڑتی تو مجھے یہ امتحان ہی دینا نہ پڑتا...."





    "سوال تمہاری تخلیق کہ نہیں ہے! سوال اس کائنات کی تخلیق کا ہے اور تم اس کائنات کا ایک حصہ ہو...،،خدا نے یہ

    کائنات اور یہ مخلوق کس لیے تخلیق کی اسکا جواب وہ خود دیتا ہے کہ "میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا میں نے چاہا کہ

    پہچانا جاؤں اس لیے کائنات تخلیق کی .."





    "تو گویا خدا تعارف کے لیے اپنی ہی تخلیق کا محتاج ہے............؟ "میں نے تمسخرانہ لہجے میں پوچھا..!




    "خدا کسی کا محتاج نہیں ہے...! مجھے بتاؤ جہاں کوئی ذی روح موجود نہیں ہے کیا وہاں بھی خدا کو اپنے تعارف کی

    ضرورت پڑتی ہے..؟ یہ صرف انسان ہی ہے جو سمجھتا ہے کہ خدا کو تعارف کی ضرورت پڑتی ہے وگرنہ جہاں

    انسان یا کوئی روح موجود نہیں ہے......" وہاں بھی خدا کی شان جھلکتی ہے"




    میں نے مان لی تمہاری ساری باتیں ...... لیکن خدا کو کیوں ضرورت پڑی انسان کو اچھا یا برا جاننے

    کی.................؟کیا اسکی تخلیق میں کوئی نقص تھا....؟ حالانکہ وہ تو ہر عیب سے پاک ہے ،اور اگر ایسا نہیں تھا

    تو وہ " بکل شی علیم ہے" جانتا تھا کہ کون اچھا ہے یا برا .....! تو پھر اس آزمایش یا امتحان کی ضرورت کیوں پیش

    آئی.............................؟ میری عقل نے ابھی تک ہار تسلیم نہیں کی تھی...........!!




    "اگر دنیا کے کسی امتحان میں تمہیں پرچہ دیے بغیر فیل کٹ دیا جائے تو کیا تمہیں اعتراض نہیں ہو گا ....؟ ٹھیک اس

    طرح اگر خدا اپنے علم کی بنیاد پر اچھے یا برے کا فیصلہ کا دیتا اور جزاو سزا کا حکم سنا دیتا تو انسان کہتا کہ

    مجھے تو عمل کا موقع ہی نہیں دیا گیا ! مجھے پرکھے بغیر ہی مجھ پر فیصلہ صارد کر دیا گیا ہے ، خدا نے کھبی

    انسان پر ظلم نہیں کیا ،ہمیشہ انسان نے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے ..........!!



    مجھے میرے ہر سوال کا جواب مل گیا تھا خدا ، تقدیر ،قسسمت اور آزمایش،تمام سوالوں کے ایسے جواب..." جسے

    عقل تسلیم کرتی ہو " جو میں نے پہلے کھبی بھی نہیں سنے تھے .....!! وہ ہالہ اب بھی وہیں موجود تھا " وہ آواز اب

    خاموش تھی شاید اس بات کا انتظار تھا کہ میں کوئی اور سوال کروں گا ،لیکن جب میں کافی دیر تک خاموش رہا تو

    آواز میری سماعت سے پھر ٹکرائی............!!




    " یہ دروازہ آج تک کس کے لیے نہیں کھلا اور آئندہ کس کے لیے کھلے کا میں نہیں جانتا ! اب تمہارے پاس اختیار ہے

    کہ تم دنیا میں جانا چاہو تو جا سکتے ہو،اور اپنی آنے والی زندگی کو سکون کے لمحے فراہم کر سکتے ہو ،لیکن اگر

    انہی تاریکیوں میں کھونا چاہو تو بھی تمہیں اس پر اختیار ہے.....!!




    میں نے واپس جانے کا مطالبہ کیے اور اگلے ہی لمحے وہ ہالہ غائب ہو گیا،ہر طرف اندھیر چھا گیا.....!!

    جب میری آنکھ کھلی تو میں اس بند گلی کے آخری حصے میں پڑا ہوا تھا،میں حیرت سے اس دیوار کو دیکھنے لگا

    جس کے پار کچھ لمحے گزارا کر آیا تھا ،جس نے میری روح کو تکسین بخشی تھی ،شاید اسے نے ٹھیک ہی کہا تھا

    کہ
    خدا نے انسان کی ذات میں تجسس رکھا ہے ،ہمیں ہمیشہ کسی نہ کسی سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،مجھے میرے


    تمام سوالوں کے جواب مل چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!


    لیکن ایک نیا سوال میرے ذہن میں در آیا کہ آخر میں اس دیوار کے پار کیسے گیا................؟؟؟


    حوالہ جات

    سورہ اعراف آیت نمبر ١٨٢اور ١٨٣

    الحديث القدسي



     
    آخری تدوین: ‏جولائی 23, 2016

اس صفحے کی تشہیر