تبصرہ کتب یہ پری چہرہ لوگ

Rashid Ashraf نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 18, 2011

  1. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf محفلین

    مراسلے:
    355
    یہ پری چہرہ لوگ
    بمبئی کی فلمی صنعت کی چند مشہور شخصیتوں کے خاکے
    راشد اشرف

    گزشتہ ایک پوسٹ میں پرانی کتابوں کے اتوار بازار سے خریدی گئی کتابوں کے تعارف میں ۔یہ پری چہرہ لوگ ‘ بھی شامل تھی۔ فلمی صحافی، ہدایتکار، ادیب، ناول نگار شوکت ہاشمی (تاریخ وفات: یکم مئی ۱۹۹۵۔لاہور) کی تحریر کردہ اس کتاب میں بمبئی (ممبئی) کی آٹھ فلمی شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔ یہ کتاب جنوری ۱۹۵۶ میں کراچی سے شائع ہوئی تھی۔ کتاب میں جدن بائی، خواجہ احمد عباس، نگار سلطانہ، دلیپ کمار، شیاما، مدھو بالا ، گیتا نظامی، نادرہ، دیو آنند اور طلعت محمود کے خاکے موجود ہیں۔ کتاب کے مطالعے سے ان شخصیات کے بارے میں کئی دلچسپ باتوں کا علم ہوا ہے۔

    جدن بائی:
    ۔نرگس کی ماں جدن بائی کا موہن بابو سے نکاح مولانا ابو الکلام آزاد نے پڑھایا تھا ، مولانا ہی کے ہاتھوں موہن بابو نے اسلام قبول کیا۔
    ۔جدن بائی ایک اعلی ادبی ذوق رکھنے والی عورت تھی ، ہاشمی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ’ پہلی ملاقات میں جب وہ گویا ہوئیں تو میں حیرت سے ان کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔خوبصورت الفاظ، شاندار استعاروں، عمدہ تشبیہات اور شائستہ جملوںکا ایک سمندر تھا جو ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ ‘‘
    لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ معاملہ بھی تھا کہ جدن بائی کے انتقال پر ہدایتکار محبوب نے بھری محفل میں کہا کہ: ’’ اب بھرے بازار میں منہ پر گالی دینے والی عورت کہاں پیدا ہوگی۔‘‘
    ۔جدن بائی زمیندار، لاہور اور ریاست دہلی جیسے اخباروں میں کافی عرصہ لکھتی رہی تھیں، کلکتہ کے اخبار ’ چونچ‘ میں’ خونی کون‘ کے عنوان سے ان کا ایک طویل افسانہ چالیس اقساط میں شائع ہوا جس کی آخری قسط کی اشاعت کے بعد آغا حشر کاشمیری بھاگے بھاگے جدن بائی کے گھر گئے اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
    ۔ایک شام شوکت ہاشمی، جدن بائی سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر گئے، نرگس کسی سہیلی کے گھر گئی تھی اور دونوں بیٹے (انور اور اختر/انور حسین کو ہم نے دیو آنند کی فلم اصلی نقلی میں دیو آنند کے دوست کے اور گائیڈ میں ہوٹل کے غفور نامی ڈرائیور کے رول میں دیکھا ) بھی غائب تھے۔ ڈارئنگ روم نے ایک کونے میں جدن بائی رامانند ساگر کا ناول ’اور انسان مر گیا‘ پڑھ رہی تھیں اور ساتھ ساتھ ’پورٹ‘ کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھی لیتی جارہی تھیں، ہاشمی صاحب نے فلم ’پیار کی باتیں‘ کے اسکرپٹ کے کچھ سین انہیں سنائے اور اجازت لے کر رخصت ہوئے۔
    اگلی صبح پانچ بجے وائی ایم سی اے کے ہاسٹل میں مقیم شوکت ہاشمی کو اطلاع ملی کہ جدن بائی کا رات کو اچانک انتقال ہوگیا ہے!

    خواجہ احمد عباس:
    خواجہ صاحب نے فلم دھرتی کے لال (بنگال کے قحط کے پس منظر میں بنائی گئی تھی)بنائی۔ فلم پانی پت میں بھی سینماؤں کی زینت بنی جو خواجہ صاحب کا وطن تھا۔وہ یہ سوچ کر ایک سینما میں چلے گئے کہ ان کے ہم وطن فلم دیکھ کر ان کو خوب داد سے نوازیں گے، فلم بین خواجہ صاحب سے مصافحہ کرکے سینما کے اندر جاتے رہے لیکن کچھ دیر بعد وہی تما م لوگ باہر آکر خواجہ صاحب سے جھگڑ رہے تھے:
    ’’ اے عباسوے! اییہ کوئی پھلم ہے ُسسری۔نہ کوئی مجے کا گانا، نہ ناچ۔ساری پھلم میں رونا پیٹنا، ایہو رونا پیٹنا تو روج ہم اپنے گھر میں دیکھت ہیں۔ہمار ٹکٹ کے پیسہ واپس کرو۔ نہیں تو تہار مار مار کے بھرکس نکال دیئی۔‘‘
    خواجہ صاحب کہتے ہیں: دھرتی کے لال کا جنازہ جس دھوم دھام سے پانی پت سے نکلا، اس دھوم سے کسی عاشق کا کہیں نہیں نکلا ہوگا۔ کمپنی ڈیڑھ لاکھ روپوں کا دیوالیہ نکلوا کر ٹھپ ہوگئی۔
    مزے کی بات یہ رہی کہ اگلے برس خواجہ احمد عباس نے ’دھرتی کے لال‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں بھیجا جہاں اسے دنیا کی بہترین فلم تسلیم کرتے ہوئے پہلا انعام ملا۔اس کے فلم سازوں اور تقسیم کاروں نے استعجاب سے اپنا سر پیٹ لیا!

    نگارسلطانہ:
    نگار سلطانہ میں دو عیب تھے، ایک تو اس کی پیشانی بہت تنگ تھی اور دوسرے اس کا اردو کا تلفظ بہت ناقص تھا۔ وہ ق کو خ کہتی تھی اور اپنے لیے تذکیر کا صیغہ استعمال کرتی تھی۔ایک بار میری موجودگی میں اس نے شاہد (لطیف)سے کہا :
    ’’ شاہد صاحب! ایک منٹ رک جائیے، میں ذرا میک اپ روم سے ہوکر آتا ہوں۔‘‘
    دوسری مرتبہ شیام سے مخاطب ہوکر بولی:
    ’’ تم ایسا بے ہودہ مذاق کرو گے تو میں ماروں گا۔‘‘
    اور شیام اپنی تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر سیٹ پر ناچنے لگا۔ غالبا اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر تم مردوں کی نقل کرسکتی ہو تو میں بھی عورتوں سے کم نہیں ہوں۔

    دلیپ کمار:
    دلیپ کے ہمراز مصاحبوں میں ایک لڑکا نذیر ہے جس کی کسی زمانے میں ماہم میں درزی کی دکان تھی۔ پھر وہ پریتم کے نام سے فلموں میں ایکسٹرا رول کرنے لگا۔ فساد کے زمانے میں وہ ایک مرتبہ بھنڈی بازار میں مسلمانوں کے ہاتھ گھر گیا۔ قریب تھا کہ ایک آدھ چاقو اس کی پسلی میں گھس جاتا، لیکن وہ چیخ چیخ کر کہنے لگا:
    ’’ اے برادران اسلام ، میرا نام تو نذیر ہے، پریتم تو میں نے فلمی نام رکھا ہے، مجھے کیوں مارتے ہو۔‘‘
    اور برادران اسلام نے اس کی جان بخشی کردی
    پگر ایک مرتبہ وہ دادر میں ہندو غنڈوں کے چنگل میں پھنس گیا، دہاڑیں مار کر کہنے لگا:
    ’’ ارے بھائیو! میں تو شرنارتھی ہندو ہوں، میرا نام تو پریتم ہے، مجھے کیوں مارتے ہو‘‘
    ایک غنڈے نے کہا: ’’ جھوٹ بکتے ہو، تمہارا نام نذیر ہے‘‘
    نذیر روتے ہوئے بولا: ’’ بھائی! نذیر تو میں نے فرضی نام رکھا ہے، بھنڈی بازار میں رہتا ہوں، نذیر نام نہ رکھتا تو مسلمان غنڈے مجھے مار ڈالتے۔‘‘
    چناچہ یہاں بھی اس جان بخشی ہوگئی۔

    طلعت محمود:
    طلعت محمود نے پہلا آڈیشن نوشاد صاحب کے سامنے دیا تھا، اس موقع پر محمد رفیع بھی موجود تھے، تمام میوزیشنز منہ پھاڑے طلعت کی طرف دیکھ رہے تھے، نوشاد سر جھکائے آہستہ آہستہ پیانو کے سروں پر انگلیاں چلا رہے تھے، طبلچی بڑی مدھم آواز میں طبلے کا ٹھیکہ لگانے میں مصروف تھا، طلعت نے فیض کی غزل شروع کی:
    دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
    وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے
    پھر اس نے انترہ اٹھایا:
    اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن

    انترہ گاکے جونہی اس نے آستائی اٹھائی، نوشاد نے پیانو سے انگلیاں ہٹا لیں اور کہا:
    بس کافی ہے
    چند دنوں بعد مجھے معلوم ہوا کہ نوشاد صاحب سنی کی فلم بابل میں طلعت سے گانے گوا رہے ہیں۱
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر