یہ میرا پاکستان ہے۔

ناعمہ عزیز

لائبریرین
زندگی کتنی غیر اہم سی ہوگئی ہے کوئی وقعت ہی نہیں رہی۔ قتل کر دینا کتنی آسان سی بات ہے، میں سوچتی ہوں کہ ہم آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ اخلاقی قدریں ختم ہو کے رہ گئی ہیں ، کوئی کسی کا آسرا نہیں ہے، بھائی بھائی دشمن بن گئے ہیں یہاں اپنوں کو اپنوں سے ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے تو کیا یہ وہی پاکستان ہے جو علامہ اقبال کا خواب تھا ! جس کی تعبیر کا سہرا قائداعظم کے سر تھا! آج بھی اقتدارمیں آئے ہوئے لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں ، کوئی گھر بیٹھ کر ، کوئی میڈیا پر ، کوئی سڑک پر احتجاج کرتا ہے تو کوئی فٹ پاتھ پہ ہی بیٹھا کوستا رہتا ہے، تو کیا ہم اس پاکستان سے جہاں اپنے اپنوں کے دشمن ہیں اُس ہندوستان میں اچھے نہیں تھے جہاں غلامی کی زندگی تھی پر اپنوں کا خیال تھا احساس تھا ، غلام ہو کر بھی ایک تھے ، ہم کیا باور کروا رہے ہیں دنیا کو کہ ہم نے اس لئے آزاد ملک حاصل کیا تھا کہ یہاں ہم آرام اور سکون سے اپنوں کے ساتھ لڑ سکیں اور کو قتل کر سکیں۔ کیوں مر گئے ہیں ہمارے احساس، جذبات، دوسروں کے لیے محبتیں کیوں ختم ہو گئیں ہیں! ہر طرف مایوسی کا عالم ہے ۔ ہم تو وہ لوگ ہیں کہ عید الضحی سے چار دن پہلے بکرا لا کر پال لیں تو عید پہ اسے قربان کرتے ہوئے گھر اس کونے میں جہاں اس کی چیخوں کی آواز نا آئے جا کر آنسو بہا تے ہیں ۔ تو پھر یہ کون لوگ ہیں جن کو کسی انسان کو قتل کرتے ہوئے ذرا بھی دکھ نہیں ہوتا ! یہاں قاتلوں کو سلیوٹ کیے جاتے ہیں! یہاں بے بس کا مذاق اڑایا جاتا ہے ! یہاں بہن بیٹوں کو عزتوں کو پامال کیا جاتا ہے۔ تو پھر پاکستان اور ہندوستا ن میں کیا فرق ہے؟ کونسے مسلمان ہیں ہم کہ جنت کی خاطر لاکھوں لوگوں کو بم بلاسٹ میں اڑا دیتے ہیں ۔ اب پاکستان میں کچھ نہیں ہے، جہاں بجلی ، گیس ، آٹا ، چینی، حتی کہ ٹماٹر پیاز تک بہران ہے وہاں ہی اخلاقی روایات ، اخلاقی اقدار، جذبات ، احساسات کا بحران ان سب سےکہیں بڑھ کر ہے۔ اور ہم یہ سوچ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ یہی ہے مقدر میں! یا پھر پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کو تر جیح دیتے ہیں۔ مجھے گلہ نہیں کرنا چاہئے شاید کیوں کہ ہم سب ہی اپنے آپ کو بدلنا نہیں چاہتے ۔
اور شاید اب اسے پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا کہ
منیر اب مان لے تو بھی مقدر کی حقیقت کو
جو ہے وہ بھی ضروری ہے جو تھا وہ بھی ضروری تھا۔
واسلام۔
 
Top