یہ قطعہ کس شاعر کا ہے؟

عباد اللہ

محفلین
یہ قطعہ اقبال سے منسوب ہے لیکن ہمیں ان کی کلیات میں نہیں مل سکا عین ممکن ہے کہ ہم ہی چوک گئے ہیں ، احباب رہنمائی فرمائیں
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
 
یہ قطعہ اقبال سے منسوب ہے لیکن ہمیں ان کی کلیات میں نہیں مل سکا عین ممکن ہے کہ ہم ہی چوک گئے ہیں ، احباب رہنمائی فرمائیں
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
http://lib.bazmeurdu.net/اقبال۔-کچھ-مضامین-جمع-و-ترتیب-اعجاز-عب/
میں نے کلیات میں پڑھا ہے لیکن فی الوقت کلیات دستیاب نہیں ہے۔۔۔۔
 

عباد اللہ

محفلین
بھائی ہم نے اسی نسبت سے پڑھے ہیں اور غالبا بانگ درا کے آخ میں جو قطعات ہیں جہاں خواتین اور تعلیم سے متعلق قطعات ہیں وہاں ہیں یہ خیر۔ اک نئی بات معلوم ہوئی نسخہ صحیح کرنا پڑے گا۔
 
بھائی ہم نے اسی نسبت سے پڑھے ہیں اور غالبا بانگ درا کے آخ میں جو قطعات ہیں جہاں خواتین اور تعلیم سے متعلق قطعات ہیں وہاں ہیں یہ خیر۔ اک نئی بات معلوم ہوئی نسخہ صحیح کرنا پڑے گا۔
مجھے بانگِ درا کے نسخوں میں نہیں ملا. محترم اعجاز عبید صاحب کی لائبریری میں بھی بانگِ درا موجود ہے.
 

فرخ منظور

لائبریرین
یہ قطعہ اقبال سے منسوب ہے لیکن ہمیں ان کی کلیات میں نہیں مل سکا عین ممکن ہے کہ ہم ہی چوک گئے ہیں ، احباب رہنمائی فرمائیں
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
یہ قطع اقبال کا ہی ہے بال جبریل سے ہے
 
بھیا ھمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ھم سے غلطی ہو گئی ہے ، انسان خطا کا پتلا ہے سو معافی کے خواستگار ہیں،.. یہ قطعہ بالکل بھی حضرت اقبال کا نہیں ہے
ارے بھائی، معذرت کی ضرورت نہیں، مغالطہ ہو جاتا ہے، اور خاص طور پر جب ایک غلط بات مشہور ہو جائے۔ :)
 
جی اوپر اس کا حوالہ موجود ہے۔
http://lib.bazmeurdu.net/اقبال۔-کچھ-مضامین-جمع-و-ترتیب-اعجاز-عب/
میں نے کلیات میں پڑھا ہے لیکن فی الوقت کلیات دستیاب نہیں ہے۔۔۔۔
مگر یہ مضمون نگار کی غلطی ہے۔ مذکورہ قطعہ اقبالؒ کے کسی مجموعۂ کلام میں موجود نہیں۔
 
ان اشعار کے پہلے دو مصرعے دراصل اس طرح ہیں:
جوحق سے کرے دور ،وہ تدبیربھی فتنہ
اولاد بھی، اجداد بھی، جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
یہ اشعار سرفراز بزمی فلاحی صاحب کے ہیں جو راجستھان، بھارت کے ضلع سوائے مادھوپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ طباعت سے پہلے کے اشعار وہی ہیں جو پہلے لکھے ہوئے ہیں، لیکن طباعت کے وقت سن۱۹۹۳ میں عالمی شہرت یافتہ شاعر بزمی صاحب نے خوداس میں کچھ ضروری اصلاح کردی تھی۔
شاعر سے برہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ان کا نمبر یہ ہے:
۹۷۷۲۲۹۶۹۷۰
 
Top