جمال احسانی یہ شہر اپنے حریفوں سے ہارا تھوڑی ہے

شمشاد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 11, 2014

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ شہر اپنے حریفوں سے ہارا تھوڑی ہے
    یہ بات سب پہ مگر آشکارا تھوڑی ہے

    ترا فراق تو رزق حلال ہے مجھ کو
    یہ پھل پرائے شجر سے اُتارا تھوڑی ہے

    جو عشق کرتا ہے چلتی ہوا سے لڑتا ہے
    یہ جھگڑا صرف ہمارا تمہارا تھوڑی ہے

    درِ نگاہ پہ اس کے جو ہم نے عمر گنوائی
    یہ فائدہ ہے مری جاں خسارہ تھوڑی ہے

    یہ لوگ تجھ سے ہمیں دور کر رہے ہیں مگر
    ترے بغیر ہمارا گزارا تھوڑی ہے

    جمالؔ آج تو جانے کی مت کرو جلدی
    کہ پھر نصیب یہ صحبت دوبارہ تھوڑی ہے
    (جمال احسانی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,606
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. حامد عزیز

    حامد عزیز محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    درِ نگاہ پہ اس کے جو ہم نے عمر گنوائی
    یہ فائدہ ہے مری جاں خسارہ تھوڑی ہے
    واااااااہ بہت خوب
     
  4. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

اس صفحے کی تشہیر