فراز یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے
ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے
یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے
خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے
اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہے
اب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے
آواز د کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے
ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی
تاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے
سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فراز
وہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے
 
علم نہیں کہ کلام درست ہے یا نہیں۔۔۔۔یہ بھی ٹھیک سے علم نہیں کہ فراز کا ہے کہ نہیں۔ اگر غلطی ہو تو درستی کی درخواست ہے۔
 

ارشاد ہادی

محفلین
غزل بہت خوبصورت ہے. میرا گمان ہے کہ مندرجہ ذیل شعر کے دوسرے مصرع میں سہو کتابت ہے:
ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی
تاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے

یہاں " تاکوں" کی جگہ "طاقوں " کا محل ہے. اگر ایسا نہیں ہے ازراہ مہربانی وضاحت فرما دیں.
 
Top