یہ سبق شہر کے لڑکوں کو پڑھایا جائے - سلیم بیتاب

محمد بلال اعظم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 14, 2013

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    یہ سبق شہر کے لڑکوں کو پڑھایا جائے​
    اپنی ہر سوچ کو پاگل نہ بنایا جائے​
    آشیاں اپنا ہی آجائے نہ اس کی زد میں​
    دیکھ کر بحث کا طوفان اٹھایا جائے​
    دیکھ کر اس کو نگاہیں نہ جھکائی جائیں​
    اپنے احساس کو مجرم نہ بنایا جائے​
    مجھ کو یوں ظلمتِ زنداں میں چھپانے والے​
    میں ہو مجرم، تو مرا جرم بتایا جائے​
    جی میں آتا ہے کہ یہ تجربہ بھی کر دیکھیں​
    جیت کر اس کو پھر اک بار گنوایا جائے​
    مدّتیں گزری ہیں دنیا سے جسے بھاگے ہوئے​
    اب تو اس شخص کو خوابوں سے بلایا جائے​
    دیدنی ہوتا ہے وہ لمحۂ سفاک کہ جب​
    اپنے افکار کو سولی پہ چڑھایا جائے​
    آپ کی ضد سے نہ بُجھ جائے چراغِ دانش​
    سوچ کر فلسفی کو زہر پلایا جائے​
    آج بیتابؔ فصیلوں کی ضرورت کیا ہے
    شہر کو شہر کے لوگوں سے بچایا جائے
    سلیم بیتابؔ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر