یہ اور بات ہے کہ اندھیرا دیر تک رہے
ماہنامہ نوائے منزل کی دوسری سا ل گرہ مبارک پر خصوصی تحریر
عبدالرزاق قادری
میں 2008 میں پولٹری فارم پرمزدوری کرتا تھا۔ میرے عزیز از جان دوست حافظ محمد حسنین شاہ صاحب نے مجھے ڈھونڈ نکالا۔ ایک دن ان کی کال میرے ایک ماموں زاد کے فون پر آئی۔ پھر وہ بنفسِ نفیس میرے پاس تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی ۔ جس کا نام گلستانِ تخیل تھا۔ اور اس پر شاعر کا نام محمد کامران اخترؔ شاہین درج تھا۔ میں نے تھوڑے سے وقت میں پڑھ ڈالی۔ اشعار کے فنی محاسن کاعلم قطعاَ نہ تب تھا نہ اب ہے۔ لیکن جذباتی طور پر اس شاعر کے کلام سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ اور شاعری کو سراہا بھی۔ پھر شاہ صاحب کی مسجد میں آنا جانا ہوا۔ وہیں پر ایک دن ان صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ پہلی ملاقات میں پوری رات مذہبی اور غیر مذہبی اختلافی باتوں کی نذرکردی۔ بالآخر پتہ یہ چلا کہ آپ ایک رسالے کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔اور ایک کلینک میں بھی ہومیو پیتھی کی پریکٹس کے لیے جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے ایک کمرہ لالہ زار فیز ٹو کالونی میں کرایے پر لے لیا۔
اور بعد ازاں 2009 میں مَیں بھی حسنین شاہ صاحب کے پاس ہی چلا آیا۔ وہیں سکونت اختیار کی۔ پھر میری بی۔اے کی تیاری کا مرحلہ آیا۔ ایک بار کامران صاحب کے رہائشی کمرے میں ملاقات ہوئی۔ وہ ایک قریبی اکیڈمی ٹائمز میں پڑھا بھی رہے تھے۔ میں نے بھی حال ہی میں سکول کی تعلیم کی گھریلو ٹیوشن پڑھانے کا آغاز کیا تھا۔ ملاقات دن اکیڈمی میں ایک محفل نعت تھی جو کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منعقد کی گئی۔ میں بھی حاضر ہوا ۔ اور وہیں ان کو ایک صاحب کا انتظار تھا۔ جن کا نام ملک تصدق ریاض تھا۔ آپ نے بتایا ہوا تھا کہ وہ میرے ایک کلاس فیلو(مزمل ریاض) کے بھائی ہیں۔ اور مجوزہ میگزین کے حوالے سے مددگار ثابت ہوں گے۔ محفل کے بعد تصدق صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ اور رات کے وقت انٹرنیٹ سے کچھ معلومات حاصل کیں۔ نیٹ کے معاملے میں ملک تصدق ریاض کی رہنمائی ساتھ ساتھ تھی۔ پھر ایک دن اُسی کمرے میں ایک صاحب جن کا نام جاوید تھا ان سے علیک سلیک ہوئی۔ وہ بھی میگزین کے معاون ہونے کے حوالے سے پُر جوش تھے۔ بعد میں بوجوہ منظر نامے سے غائب بھی ہو گئے۔ بہر حال بچپن سے خواہش تھی کہ کبھی ہمارا لکھا ہوا بھی کسی ڈائجسٹ وغیرہ کی زینت بنے گا ہی نا! بلکہ اس سے پہلے ایک بار ایک دوپہر کے روزنامہ کو ایک مسودہ بھیج کر پینتیس دن باقاعدگی سے اسے پڑھا بھی تھا لیکن وہی ہوا جو ہر نئے لکھاری کے ساتھ ہوتا ہے۔ بہر حال ابتدائی پیچیدگیوں ، سر نعیم قیصر جیسے رہنماؤں کی رہنمائی اور میاں عارف سعید صاحب کی سرپرستی میں اکتوبر،نومبر 2010 کا پہلا نوائے منزل کا شمارہ ہاتھوں میں آیا۔جس میں حضرت علامہ محمد ارشدالقادری کی بھی ایک تحریر چھپی۔ ہوتے ہوتے دو تین ماہ کے بعد راقم کی تحریریں بھی شمارے کا حصہ بننے لگیں ۔ اور یوں قطرے سے لکھاری ہونے کا معاملہ رو بہ عمل ہوا۔ پھر اکثر راتیں الریاضپرنٹر یعنی نوائے منزل کے دفتر کی نذر ہوئیں۔ وہیں سے انٹر نیٹ میں اکاؤنٹ بنانے سیکھے اور تدریجا نیٹ گردیاں سیکھیں۔
سن 2010ء کے اکتوبر /نو مبر سے نوائے منزل نے آغاز اشاعت کیا اور اس کی نوا دُور دُور تک گونجی اور مثالی پذیر ائی ہوئی ۔ اس نے ہمیشہ قوم و ملت کو فکری رہنمائی فراہم کی جس کی بناء پر ادب دوستی سے دور ہوتے ہوئے بے شمار لو گ دو بارہ مطالعہ کے صحت مند رحجان کی طرف واپس لوٹ آئے ۔ مادیت کے اس دور میں مصروفیت کا دائرہ بڑھ چکا ہے اور کتب بینی یا رسالوں کی ورق گردانی کا دور سمٹا جاتا ہے ایک اہل قلم نجانے کن کن مشکلات سے گزر کر ایک شاہ کار تخلیق دیتا ہے ۔ لیکن اُسے قدر دان بہت کم ملتے ہیں اور اگر اسی فن کو روزی روٹی کا ذریعہ بنا نا ہوتو پھر حالات کچھ زیادہ ہی مخدوش ہو جاتے ہیں ۔ اس سب کے باوجود ہر اذان دینے والا اپنی رسمِ اذان کو پورا کرتا ہے ۔ تاکہ
اب جس کے جی میں آئے وہ پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کر سرِ عام رکھ دیا
محمد کامران اخترؔ نے بھی اسی طریقے پر عمل کرتے ہوئے رسمِ اذاں کو برقرار رکھا ہوا ہے اورمیاں عارف سعید صاحب کی سرپر ستی اور شفقت شامل حال ہے ۔ میاں صاحب کے زیر سایہ بہت سے پر اجیکٹ اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا نام ’’ ماہنامہ نوائے منزل لاہور ‘‘ بھی ہے۔ جیسا کہ نوائے منزل کے قارئین کے علم میں ہے کہ یہ ایک اصلاحی اور اخلاقی میگزین ہے۔ نہ کہ سستی شہرت حاصل کرنے ولا کوئی بزنس۔ بلکہ یہ تو ایک مشن ہے ۔ ایک فکر ہے ۔ معاشرے میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیو ں کا متمنّی ہے ۔کیونکہ چھوٹی چیزوں ہی سے بڑی تشکیل پاتی ہیں ۔
اللہ عزو جل نے آڑے وقتوں میں بھی معاشی تنگیوں میں بھی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے صدقے سے اس رسالے کو اتنی توفیق عطافرمائی کہ وہ مستقل مزاجی سے ثابت قدم رہا ۔ اس کی ناؤ کئی بار ہچکولوں کی زد میں آئی لیکن ہر بار ڈوبنے سے بچ گئی ۔
وہ ہنوز اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور اپنی نوا کو پختگی سے نشر کرنے کا عزم صمیم کیے ہوئے ہے ۔ اور تاریک راتوں میں چراغِ سحر جلانے کا فریضہ سر انجام دے رہا ہے۔ اللہ کرے محبتوں کا یہ قافلہ حقانیت کے ساتھ گامزن بہ منزل رہے اور نئی سحر کے پیام لاتارہے کیونکہ
ایسی کون سی شب ہے جس کا سویرا نہیں
یہ اور بات ہے کہ اندھیرا دیر تک رہے
 

نایاب

لائبریرین
ماشاءاللہ
بلا شک سچی نیت کے ساتھ کی گئی کوشش با امراللہ کامیاب ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی آپ سب کی ہمتوں کو سدا جواں رکھے ۔ اور تاریکی میں روشن کیئے چراغوں کی روشنی کو سدا قائم رکھے آمین
 

معظم جاوید

محفلین
برادرم! ابھی تو آغاز کے مراحل ہیں۔ آپ نے ہمت باندھی ہے منزل تک بھی پہنچ جائیں گے۔ مشکلات تو ہر راہ میں آزمائش بن کر کھڑی رہتی ہیں۔ مردِ حق ان سے گھبراتا نہیں بلکہ انہیں تسخیر کرنے کی سعی میں مصروف رہتا ہے۔
 
ماشاءاللہ
بلا شک سچی نیت کے ساتھ کی گئی کوشش با امراللہ کامیاب ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی آپ سب کی ہمتوں کو سدا جواں رکھے ۔ اور تاریکی میں روشن کیئے چراغوں کی روشنی کو سدا قائم رکھے آمین
آمین!
جی سر ! کامران صاحب کی بہت زیادہ ثابت قدمی اور استقامت کا ثبوت ہے۔ آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ نیک خواہشات کے اظہار پر آپ کا شکریہ
 
برادرم! ابھی تو آغاز کے مراحل ہیں۔ آپ نے ہمت باندھی ہے منزل تک بھی پہنچ جائیں گے۔ مشکلات تو ہر راہ میں آزمائش بن کر کھڑی رہتی ہیں۔ مردِ حق ان سے گھبراتا نہیں بلکہ انہیں تسخیر کرنے کی سعی میں مصروف رہتا ہے۔
جی بجا فرمایا آپ نے۔ اسی طرح با ہمت قافلے اپنی منزلوں کی جانب بڑھتے ہیں۔
 
Top