1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

احسان دانش یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا (احسان دانش)

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2008

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا
    جیسے کوئی سورج کی تپش میں گل تر تھا

    اٹھتی تھیں دریچوں میں ھماری بھی نگاھیں
    اپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزرتھا

    ھم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھے
    آنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا

    شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ھوئے رخسار
    آنکھوں پہ کبھی میری ترا دامن تر تھا

    خوشبو سے معطر ھے ابھی تک وہ گزرگاہ
    صدیوں سے یہاں جیسے بہاروں کا نگر تھا

    ھے ان کے سراپا کی طرح خوش قد و خوش رنگ
    وہ سرو کا پودا جو سر راہ گزر تھا

    قطرے کی ترائی میں تھے طوفاں کے نشیمن
    ذرے کے احاطے میں بگولوں کا بھنور تھا
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    سبحان اللہ کیا خوبصورت کلام ہے۔

    نہ جانے یہ پیاسا صحرا بھائی آپ کیوں نہیں آتے۔ اس زمرے میں بہت محنت کی ہے انہوں نے۔
     
    • متفق متفق × 3
  3. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    عمدہ انتخاب ہے
     
  4. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اٹھتی تھیں دریچوں میں ھماری بھی نگاھیں
    اپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزرتھا

    ھم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھے
    آنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا

    شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ھوئے رخسار
    آنکھوں پہ کبھی میری ترا دامن تر تھا

    قطرے کی ترائی میں تھے طوفاں کے نشیمن
    ذرے کے احاطے میں بگولوں کا بھنور تھا

    واہ واہ واہ
    کیا اشعار ہیں
    سبحان اللہ
     

اس صفحے کی تشہیر