ہولوکاسٹ

قیصرانی

لائبریرین
زکریا نے کہا:
سیفی کیا آپ میں اظہر الحق کی روح سرایت کر گئی ہے؟

سیفی نے کہا:
میرے سوال کا مقصد یہ تھا کہ اگر مسلمانوں کی بنیادوں پر اسطرح کے رکیک حملوں کا سلسلہ جاری رہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامی حکومتیں اس پر کچھ قابلِ قدر ردعمل نہ کریں تو کیا تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ اس طرح کے اقدامات پر مجبور نہیں ہوں گے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک شخص کے والدین پر کوئی حملہ کرے اور قانون۔۔۔۔۔۔۔ مجرم کی پشت پناہی کر رہا ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو عقل لاکھ دلیلیں دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جو کرتا ہے اس پر اخلاقیات اس کو گرفت نہیں کر سکتیں۔۔۔۔

سیفی: آپ جذباتیت میں آگے نکلتے جا رہے ہیں۔ کیا یہ جذباتی‌پن صرف پڑھے لکھے مڈال اور اپرمڈل کلاس کے مسلمانوں میں آ رہا ہے؟ کیا صرف انہیں احساس ہے اپنے مذہب کا؟

پھر توازن کی بھی بات ہے۔ اگر کوئی میرے والدین کو گالی دے اور میں چھرا لے آؤں تو یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟ اگر کسی نے مجھے اور میرے والدین کو بھوکا اور غریب رکھا ہوا ہے تو چھریوں سے تو معاملہ حل نہیں ہو گا۔

کیا وجہ ہے کہ یہی جذباتیت ان مسلمانوں کو تعلیم، ترقی، فلاح و بہبود وغیرہ پر راغب نہیں کرتی۔

میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہولوکاسٹ۔۔۔۔۔۔سچ ہے یا جھوٹ (ہمیں اس سے سروکار نہیں)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو جھوٹ کہنے پر قید و بند کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اس سے نفرت پھیلتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا سوا ارب سے زائد مسلمانانِ عالم کے اس پیارے پیغمبر کے توہین آمیز خاکے چھاپنے والوں ۔۔۔۔کے لئے کوئی تعزیر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے صرف اس ایک سوال کا جواب دے دیں

آپ نے ہولوکاسٹ کے سچ یا جھوٹ کا لکھ کر اپنے اصلی رنگ تو دکھا ہی دیئے ہیں اب اس پر کیا بات کریں۔ خیر کوشش کرتا ہوں۔

پہلی بات یہ کہ میں ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم نہیں سمجھتا مگر انکار کرنے والے کو حیوان سے بدتر ضرور کہوں گا۔

دوسری بات یہ کہ یہ قانون ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ یہودیوں کے خلاف یورپ میں تعصب صدیوں سے ہے۔ Pogroms یورپ کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ پھر چند ہی سال میں یورپ کی زیادہ‌تر یہودی آبادی کو اس طرح کھلے عام انتہائی ظلم سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ آج ان ممالک کو جہاں حکومت نے یہ کیا اور اس وقت لوگوں نے آواز نہیں اٹھائی کچھ اپنے evil کرتوتوں کا احساس ہوا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ اس طرح کے قانون ہیں۔ میرے خیال سے یہ شاید دوسری جنگ عظیم کے بعد ضروری تھا مگر آج اس قانون کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ شاید نقصان ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان قوانین کے پیچھے ایک لمبی تاریخ ہے۔

آپ ہولوکاسٹ سے انکار اور حضرت محمد کی گستاخی کو ایک زمرے میں ڈال رہے ہیں۔ میرے خیال سے یہ غلط ہے۔ پیغمبر اسلام کی گستاخی غلط سہی اور مسلمانوں کا دل توڑنے والی سہی مگر اس کا مقابلہ اس بات سے نہیں کیا جا سکتا جہاں آپ کے مذہب اور نسل ہی کو مکمل طور پر مٹانے کی کوشش کی گئی ہو۔

اور اگر قانون مجرم کی پشت پناہی کرتا ہے تو تنگ آمد بجنگ آمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کئی عامر چیمہ پیدا ہوتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا دیوانہ کہتی ہے تو کہتی رہے۔۔۔۔۔۔۔۔محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر جان نچھاور کرنے والے ۔۔کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔

چاہے اس سے کسی ملک کی معیشت ڈوبتی ہے یا ۔۔۔۔۔۔میز کی دراز میں چھپے ہوئے ۔۔۔۔دھواں دھار روتے ایٹم بم ۔۔۔۔۔۔۔۔کی تیاری میں مدد سے کوئی ہاتھ کھینچے۔۔۔۔۔۔۔۔

اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اصل مسلمان تو وہ ہیں جو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، جو اپنے گاؤں، شہر یا ملک کو بہتر کرنے کی کوشش میں مگن ہیں، جو اس دنیا کو انسانوں کے لئے بہتر جگہ بنانا چاہتے ہیں، جو اچھا انسان بننا چاہتے ہیں اور علم اور عمل سے دوسروں کو اسلام سکھا رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہیرو کون ہیں؟ قاتل! عامر چیمہ اور علم‌دین۔ اور اس کے بھی حد درجہ برے لوگ: طالبان، اسامہ بن لادن، وغیرہ۔ یہ دیکھ کر جو ذہن میں آتا ہے وہ “لب پہ آ سکتا نہیں“۔
زکریا بھائی ہولو کاسٹ کی بات پر مجھے آپ سے اختلاف ہے۔ میں نے ایک یا ڈیڑھ سال قبل روزنامہ نوائے وقت ملتان میں کالم پڑھا تھاجس میں کالم نگار نے برطانیہ کے وزیرٍ اعظم چرچل کی، امریکی جنرل جو اس دور میں امریکہ کی فوجوں کی کمان کر رہے تھے اور فرانسیسی جنرل کی کتابوں کے حوالے دئے تھے۔ چرچل کی کتاب جو کہ آج کل ماڈرن یورپ کے بارے میں لکھی گئی سب سےمستند کتاب مانی جاتی ہے اور لکھنے والا بھی جرمنوں‌کا مخالف تھا، اس نے اس بات کا کہیں ذکر نہیں‌کیا۔ باقی امریکی اور فرانسیسی جنرلوں نے بھی اپنی کتب اور یاداشتوں میں اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ یہ کتب جنگٍ عظیم دوم کے بعد کئی سال کے دوران لکھی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جرمنی میں ایک نازی کیمپ کے مقام پر جہاں یہودیوں کی یاد میں کتبہ نصب تھا اس پر 60 لاکھ یہودیوں کا ذکر تھا کہ وہ مارے گئے۔ چند سال بعد اسے کاٹ کر 26 لاکھ کیا گیا۔ پھر 20 لاکھ اور پھر کرتے کرتے اب وہ لگ بھگ 1 لاکھ کے قریب کا ہندسہ لکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہودیوں کے انسائکلوپیڈیا کا حوالہ دے کر لکھا تھا کہ اس انسائیکلو پیڈیا کے مطابق اس وقت پورے یورپ میں 60 لاکھ یہودی نہیں تھے۔ کیاجرمنوں نے پوری دنیا سے اس مقصد کے لئے یہودی اکٹھے کیئے؟ اگر کئے تو پھر ان کو مارا کیوں‌نہیں؟اس کے علاوہ جنگ سے قبل کی یہودی اور جنگ کے 10 یا 20 سال کے بعد بھی جو یہودیوں کی آبادی تھی، اس میں نارمل اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ ہولو کاسٹ کی حقیقت تھی تو یہ حیران کن معمہ(کہ اتنے سارے یہودی کہاں سے آئے، اور جنگ کے 10 یا 20 سال میں ان کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ اس کے نہ صرف 60 لاکھ مارے گئے یہودیوں کی کمی کوپورا کیا بلکہ مزید بھی اضافہ کیا)کیسے حل کیا جائے گا؟یہ بات درست ہے کہ یورپ نے ان سے جان چھڑانے کے لئے ان کو اسرائیل کی صورت میں اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ کوشش اپنا گناہ دوسروں پر منڈھنے والی بات ہے۔
بے بی ہاتھی
 

قیصرانی

لائبریرین
اس کے علاوہ یہ دیکھیں کہ 2005 میں یہودیوں کی کل تعداد کتنی ہے۔
http://www.jewishvirtuallibrary.org/jsource/Judaism/jewpop.html#top
اس کی آخری سطر پر لکھا ہے کہ اس کا سورس ویکی ہے۔ اب اگر اس کے مطابق آج اس دنیا میں کل 6,430,856,221 آبادی ہے جس میں‌سے کل 14,596,017 یہودی ہیں۔ یعنی ایک کروڑ اورپینتالیس لاکھ۔ کیا عقل مانتی ہے کہ دوسری جنگٍ عظیم میں کل 60 لاکھ یہودی مارے گئے تھے۔ میرا تو حساب کمزور ہے۔ اور میں ہولو کاسٹ کو نہ ماننے پر جانور سے بدتر سہی، مگر ان اعداد و شمار کے بارے میں آپ کا کیا فرمان ہے؟ ویسے یہ بحث ہم کسی الگ دھاگے پر ڈال دیں تو کیسا ہوگا؟‌ہولوکاسٹ کا اپنا دھاگہ ہوگا۔ اس پر ہم صرف عامر چیمہ کی بات کرتے ہیں۔
بے بی ہاتھی
 

نبیل

تکنیکی معاون
منصور، تم نے نوائے وقت کے کالم کا ذکر کیا ہے۔ نوائے وقت کسی زمانے میں ایک سنجیدہ اخبار ہوتا تھا لیکن آج کل اس کی حیثیت امت جیسے جرائد سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر چاہو تو ایک الگ تھریڈ پر ہولوکاسٹ پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ دیانتداری مانگتا ہے۔ صرف یہودیوں سے نفرت میں تاریخی حقائق کو جھٹلانا قرین انصاف نہیں ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
نبیل نے کہا:
منصور، تم نے نوائے وقت کے کالم کا ذکر کیا ہے۔ نوائے وقت کسی زمانے میں ایک سنجیدہ اخبار ہوتا تھا لیکن آج کل اس کی حیثیت امت جیسے جرائد سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر چاہو تو ایک الگ تھریڈ پر ہولوکاسٹ پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ دیانتداری مانگتا ہے۔ صرف یہودیوں سے نفرت میں تاریخی حقائق کو جھٹلانا قرین انصاف نہیں ہے۔
نبیل بھائی میں‌نے ہولو کاسٹ کے ہونے یا نہ ہونے کی بات نہیں کی، میں‌نے تعداد پر بحث کی ہے۔ اب ان فگرز کو دیکھ کر آپ بتا سکتے ہیں کہ کیا تعداد ہونی چاہئے جس کو ہمارے عقل مان سکے۔
بے بی ہاتھی
 

نبیل

تکنیکی معاون
کیا عقل مانتی ہے کہ جنگ عظیم دو میں 60 لاکھ یہودی مارے گئے تھے؟

اگر میں تاریخ کو یکسر سائیڈ پر رکھ دوں اور اپنے اعدادو شمار سے حساب لگانے لگوں تو میرے ذہن میں اور کئی سوالات اٹھیں گے۔

کیا عقل مانتی ہے کہ روانڈا میں 100 دنوں کے اندر 8 لاکھ افراد قتل کیے گئے تھے؟

کیا عقل مانتی ہے کہ کمبوڈیا میں صرف تین سال میں 20 لاکھ افراد قتل کیے گئے تھے؟

کیا عقل مانتی ہے کہ صدر سہارتو نے انڈونیشیا میں 15 لاکھ افراد کو قتل کرایا تھا؟

کیا عقل مانتی ہے کہ تقسیم ہند کے موقعے پر لاکھوں مسلمان قتل ہوئے تھے اور عزتیں لوٹی گئی تھیں۔ کیا ان کا ہمارے پاس کوئی ڈاکومنٹڈ پروف ہے؟ اس کے مقابلے میں جرمنوں نے تو باقاعدہ ہاؤس کیپنگ کی ہوئی تھی کہ کس روز کتنے افراد گیس چیمبرز کی نظر ہوئے۔ جنگ کے بعد ہونے والے نیورمبرگ ٹرائلز میں یہی ثبوت عدالتوں میں بھی پیش کیے گئے تھے اور اسے جھٹلایا بھی نہیں جا سکا تھا۔ بات وہی ہے کہ ہم تاریخ کو اپنے تعصبات کی عینک سے دیکھتے ہیں اور وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔
 

زیک

تکنیکی معاون
قیصرانی نے کہا:
ہولو کاسٹ کی بات پر مجھے آپ سے اختلاف ہے۔ میں نے ایک یا ڈیڑھ سال قبل روزنامہ نوائے وقت ملتان میں کالم پڑھا تھا

یار یہ آپ پاکستانی لوگ کیوں ہولوکاسٹ کے دشمن بنے پھرتے ہیں؟

اور نوائے وقت پر آپ نے یقین کر لیاِ؟

کچھ خود پڑھیں، کیمپس کی تصاویر دیکھیں، ہولوکاسٹ میوزیم جائیں۔ آپ کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
نبیل نے کہا:
کیا عقل مانتی ہے کہ جنگ عظیم دو میں 60 لاکھ یہودی مارے گئے تھے؟

اگر میں تاریخ کو یکسر سائیڈ پر رکھ دوں اور اپنے اعدادو شمار سے حساب لگانے لگوں تو میرے ذہن میں اور کئی سوالات اٹھیں گے۔

کیا عقل مانتی ہے کہ روانڈا میں 100 دنوں کے اندر 8 لاکھ افراد قتل کیے گئے تھے؟

کیا عقل مانتی ہے کہ کمبوڈیا میں صرف تین سال میں 20 لاکھ افراد قتل کیے گئے تھے؟

کیا عقل مانتی ہے کہ صدر سہارتو نے انڈونیشیا میں 15 لاکھ افراد کو قتل کرایا تھا؟

کیا عقل مانتی ہے کہ تقسیم ہند کے موقعے پر لاکھوں مسلمان قتل ہوئے تھے اور عزتیں لوٹی گئی تھیں۔ کیا ان کا ہمارے پاس کوئی ڈاکومنٹڈ پروف ہے؟ اس کے مقابلے میں جرمنوں نے تو باقاعدہ ہاؤس کیپنگ کی ہوئی تھی کہ کس روز کتنے افراد گیس چیمبرز کی نظر ہوئے۔ جنگ کے بعد ہونے والے نیورمبرگ ٹرائلز میں یہی ثبوت عدالتوں میں بھی پیش کیے گئے تھے اور اسے جھٹلایا بھی نہیں جا سکا تھا۔ بات وہی ہے کہ ہم تاریخ کو اپنے تعصبات کی عینک سے دیکھتے ہیں اور وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔
دیکھیں نبیل بھائی۔ بات پھر وہیں ہے۔ سوال کس لئے اٹھتے ہیں۔ جواب کے لئے۔ کوشش کریں کہ ان پر بھی بحث کی جائے۔ اگر ہم آپ کی بیان کی گئی جگہوں‌کو دیکھیں تو وہاں کل آبادی کتنی تھی، اور کتنے قتل ہوئے۔ اور اب کتنے بچ گئے ہیں۔ اسی نظر سے ہم ہولوکاسٹ کو دیکھیں تو کیا یہ سب باتیں‌ٹھیک ہیں؟ نظر پر تعصب کی عینک تو ہم سب نے لگائی ہوتی ہے۔ کسی کو ایک بات بری لگتی ہے تو کسی کو دوسری۔ لیکن ایک چھوٹی سی عرض ہے۔ آپ کے اور زکریا بھائی کے اس طرح‌کے اکثر کالموں‌میں لہجہ تھوڑا سا تلخ ہوتا ہے۔ آپ لوگ اس طرح‌سے بات کرتے ہیں مثلاً تعصب کی عینک وغیرہ۔ میری ایک درخواست ہے کہ بحث کو میں صرف اس لئے مانتا ہوں‌کہ یہ ترویجٍ علم کا ایک ذریعہ ہے۔ میں بات کو سمجھنےاورسمجھانے کے لئے بحث کرتا ہوں۔ میں‌اپنی معلومات کو کھول کر سامنے رکھ دیتا ہوں کہ میرے علم یہ بات ہے۔ تاکہ آپ کو جواب دینے میں آسانی ہو۔ آپ میرے علم کو دیکھیں۔ جہاں‌غلطی ہے اس کی نشاندہی کریں اور اس کو درست کریں۔ بحث میں‌جب جذباتیت آ جائے تو پھر شایدسر پھٹول تو ہو سکتی ہے، علم کی ترویج نہیں‌ہو سکتی۔ لیکن شاید یہ بات آپ بھائیوں کو ناگوار گزرتی ہے۔میں کوشش کروں‌گا کہ اب اس موضوع پر مزید کچھ نہ کہوں۔آپ میرے بھائی ہیں۔ آپ کا کہنا میرے سر آنکھوں‌پر۔مگر اس محفل کو پڑھنے والے کچھ باہر سے مہمان بھی آتے ہیں جن کے بارے میں آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ اب ان کے سامنے اگر ناظمٍ اعلٰی جذباتی ہوکر کچھ تھوڑی سی بھی غلطی کر جائے تو پورے فورم کے نام پر دھبہ لگ جائے گا۔
بے بی ہاتھی
 

قیصرانی

لائبریرین
زکریا نے کہا:
قیصرانی نے کہا:
ہولو کاسٹ کی بات پر مجھے آپ سے اختلاف ہے۔ میں نے ایک یا ڈیڑھ سال قبل روزنامہ نوائے وقت ملتان میں کالم پڑھا تھا

یار یہ آپ پاکستانی لوگ کیوں ہولوکاسٹ کے دشمن بنے پھرتے ہیں؟

اور نوائے وقت پر آپ نے یقین کر لیاِ؟

کچھ خود پڑھیں، کیمپس کی تصاویر دیکھیں، ہولوکاسٹ میوزیم جائیں۔ آپ کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔
زکریا بھائی پیغام کی غلطی کی درستگی کا شکریہ۔ دوسری بات یہ کہ ہم پاکستانی لوگ اس بات کے مخالف ہیں؟کیا آپ پاکستانی نہیں؟
دوسرے میں نے نوائے وقت کے حوالے سے امریکی، اور فرانسیسی جنرلوں‌اور برطانوی وزیرٍ اعظم کی کتب کے حوالے سےبات کی ہے۔ مجھے ان کے نام نہیں‌پتا، مگر جو علم تھا بتا دیا۔ اگر آپ نے وہ کتب پڑھی ہیں تو بتائیں۔ ورنہ کسی ایسے بندے سے پوچھتے ہیں جس نے یہ کتب پڑھی ہوں۔ مگر کسی بندے کے سورس کو سیدھے سیدھے غلط کہ دینا بحث کے آداب کے خلاف ہے۔ جب آپ ناظمٍ اعلٰی صاحبان میں حوصلہ نہیں ہے بحث کرنے کا اور جذباتی پن سے کام چلانا ہے تو میرا کیا ہے۔ میں چپ ہو جاتا ہوں۔ میرا لہجہ تلخ ہے، مگر جو بندہ اس سارے دھاگے کو پڑھے گا وہ مجھے شاید اتنا موردٍ الزام نہ ٹھہرائے۔
بے بی ہاتھی
 

نبیل

تکنیکی معاون
منصور، ناظم اعلی یا منتظم اعلی محض ایک رینک ہے جو کہ phpbb فورم کی فیچر ہے۔ میں شومئی قسمت اس فورم کا ایڈمن ہوں۔ لیکن کسی بحث مباحثے میں میری رائے کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کسی اور کی۔ ایڈمن حیثیت سے کسی کی رائے میں وزن نہیں بڑھ جاتا اور نہ ہی ہمارا مقصد دوسروں پر اپنی رائے ٹھونسنا ہے۔

وہ سوالات والی بات تو وہیں رہ گئی۔
 

زیک

تکنیکی معاون
قیصرانی نے کہا:
اس کے علاوہ یہ دیکھیں کہ 2005 میں یہودیوں کی کل تعداد کتنی ہے۔
http://www.jewishvirtuallibrary.org/jsource/Judaism/jewpop.html#top
اس کی آخری سطر پر لکھا ہے کہ اس کا سورس ویکی ہے۔ اب اگر اس کے مطابق آج اس دنیا میں کل 6,430,856,221 آبادی ہے جس میں‌سے کل 14,596,017 یہودی ہیں۔ یعنی ایک کروڑ اورپینتالیس لاکھ۔ کیا عقل مانتی ہے کہ دوسری جنگٍ عظیم میں کل 60 لاکھ یہودی مارے گئے تھے۔ میرا تو حساب کمزور ہے۔ اور میں ہولو کاسٹ کو نہ ماننے پر جانور سے بدتر سہی، مگر ان اعداد و شمار کے بارے میں آپ کا کیا فرمان ہے؟ ویسے یہ بحث ہم کسی الگ دھاگے پر ڈال دیں تو کیسا ہوگا؟‌ہولوکاسٹ کا اپنا دھاگہ ہوگا۔ اس پر ہم صرف عامر چیمہ کی بات کرتے ہیں۔

مجھے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ آج دنیا میں یہودی آبادی یہ کیسے ثابت کرتی ہے کہ ہولوکاسٹ نہیں ہوا یا کم ہوا؟

ان 14 ملین میں سے 6 ملین امریکہ میں ہیں جن میں سے کافی ہولوکاسٹ سے پہلے کے یہاں ہیں۔ اسرائیل کے 5 ملین میں سے آدھے وہ ہیں جو عرب ممالک سے نکالے گئے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
نبیل نے کہا:
منصور، ناظم اعلی یا منتظم اعلی محض ایک رینک ہے جو کہ phpbb فورم کی فیچر ہے۔ میں شومئی قسمت اس فورم کا ایڈمن ہوں۔ لیکن کسی بحث مباحثے میں میری رائے کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کسی اور کی۔ ایڈمن حیثیت سے کسی کی رائے میں وزن نہیں بڑھ جاتا اور نہ ہی ہمارا مقصد دوسروں پر اپنی رائے ٹھونسنا ہے۔

وہ سوالات والی بات تو وہیں رہ گئی۔
نبیل بھائی رینک اسے ملتا ہے جس کے پاس اختیارات ہوں۔ اور اختیارات والے بندے کی بات کو زیادہ وزن ملتا ہے۔ یہ ہماری عام نفسیات ہے۔ ویسے وضاحت کا شکریہ۔ :)
بے بی ہاتھی
 

زیک

تکنیکی معاون
قیصرانی: آپ کو شاید میرا لہجہ تلخ لگا ہو۔ اصل میں بات یہ ہے کہ اس موضوع پر میری بہت دفعہ بحث ہو چکی ہے اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ جب میں تاریخ‌دانوں اور ان کی کتابوں کے حوالے دیتا ہوں تو ان کو مغرب یا یہودیوں کی سازش کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اس کی بجائے neonazis وغیرہ کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ سچی بات ہے میں تنگ آ چکا ہوں۔

مگر آپ کے لئے شاید یہ بحث پہلی دفعہ ہے۔ اس لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کے سوالات کے جواب دوں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
اب یہ دیکھیں کہ پاکستان میں کوئی یہودی نہیں۔ مگر ایران میں‌20,405 یہودی ہیں۔ اب اس کا کیا کریں؟ یہ تو وہ ملک ہے جو کہ یہودیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کرتا ہے۔ جذباتی بھی ہے۔ اور بھی سب برائیاں ہیں(یہ میں مانتا ہوں‌کہ ایران میں‌بہت سی غلط باتیں‌بشمول پاکستان میں‌دہشت گردی بھی ہیں)۔ پھر یہ یہودی وہاں‌کیسے رہ رہے ہیں؟
بے بی ہاتھی
 

زیک

تکنیکی معاون
قیصرانی: آپ کے سوال کہ 6 ملین کی تعداد کہاں سے آئی تو اس کا جواب آپ خود دے چکے ہیں کہ جنگ سے پہلے اور بعد کی رائے‌شماری اور جرمنوں کے ریکارڈ سے۔ یہ ریسرچ تاریخ‌دان کر چکے ہیں۔

نہ صرف یہ بلکہ ہولوکاسٹ کے ویب‌سائٹ پر 4 ملین لوگوں کے نام بھی ہیں جو ہولوکاسٹ میں مارے گئے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
زکریا نے کہا:
قیصرانی: آپ کو شاید میرا لہجہ تلخ لگا ہو۔ اصل میں بات یہ ہے کہ اس موضوع پر میری بہت دفعہ بحث ہو چکی ہے اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ جب میں تاریخ‌دانوں اور ان کی کتابوں کے حوالے دیتا ہوں تو ان کو مغرب یا یہودیوں کی سازش کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اس کی بجائے neonazis وغیرہ کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ سچی بات ہے میں تنگ آ چکا ہوں۔

مگر آپ کے لئے شاید یہ بحث پہلی دفعہ ہے۔ اس لئے میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کے سوالات کے جواب دوں۔
دیکھیں بھائی، بات صرف اتنی ہے کہ میری بھی کئی بار بحث ہو چکی ہے، مگر میں ہر بار بحث کو نئے سرے سے شروع کرتا ہوں۔ جو بدمزگی یا ناراضگی کسی اور دوست کے ساتھ ہو چکی ہو اسے میں آپ دوستوں‌پر کیوں‌جاری رکھوں؟میری عقل تو اس بات کو نہیں مانتی ۔
جوابات کا انتظار رہے گا۔ کوشش مت کیجئے گا۔ آپ تو کئی بار بحث کر چکے ہیں‌ناں۔ :wink:
بے بی ہاتھی
 

قیصرانی

لائبریرین
زکریا نے کہا:
قیصرانی: آپ کے سوال کہ 6 ملین کی تعداد کہاں سے آئی تو اس کا جواب آپ خود دے چکے ہیں کہ جنگ سے پہلے اور بعد کی رائے‌شماری اور جرمنوں کے ریکارڈ سے۔ یہ ریسرچ تاریخ‌دان کر چکے ہیں۔

نہ صرف یہ بلکہ ہولوکاسٹ کے ویب‌سائٹ پر 4 ملین لوگوں کے نام بھی ہیں جو ہولوکاسٹ میں مارے گئے۔
زکریا بھائی میں‌نے یہ بات کہی تھی کہ جنگ سے قبل اور بعد یورپ میں‌یہودیوں کی تعداد میں صرف اضافہ ہوا ہے کمی نہیں۔میں‌نے جہاں‌تک یاد پڑتا ہے 60 لاکھ کی بات نہیں‌کی کہ وہ میرے یورپ یا صرف جرمنی میں تھے۔
بے بی ہاتھی
 

زیک

تکنیکی معاون
قیصرانی نے کہا:
اب یہ دیکھیں کہ پاکستان میں کوئی یہودی نہیں۔ مگر ایران میں‌20,405 یہودی ہیں۔ اب اس کا کیا کریں؟ یہ تو وہ ملک ہے جو کہ یہودیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کرتا ہے۔ جذباتی بھی ہے۔ اور بھی سب برائیاں ہیں(یہ میں مانتا ہوں‌کہ ایران میں‌بہت سی غلط باتیں‌بشمول پاکستان میں‌دہشت گردی بھی ہیں)۔ پھر یہ یہودی وہاں‌کیسے رہ رہے ہیں؟

اس بات کا ہولوکاسٹ سے کیا تعلق؟ ایران میں اسرائیل کے قیام کے بعد بہت سے یہودی چلے گئے مگر کچھ باقی ہیں۔ یہودی وہاں ہزاروں سالوں سے ہیں۔ سو ابھی بھی کچھ موجود ہیں۔

عرب ممالک میں اب یہودی برائے نام ہیں۔ ایک وقت تھا کہ بغداد کی ایک تہائی آبادی یہودی تھی۔

اور پاکستان میں یہودیوں کی ایک معمولی تعداد موجود ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
زکریا نے کہا:
قیصرانی نے کہا:
ہولو کاسٹ کی بات پر مجھے آپ سے اختلاف ہے۔ میں نے ایک یا ڈیڑھ سال قبل روزنامہ نوائے وقت ملتان میں کالم پڑھا تھا

یار یہ آپ پاکستانی لوگ کیوں ہولوکاسٹ کے دشمن بنے پھرتے ہیں؟

اور نوائے وقت پر آپ نے یقین کر لیاِ؟

کچھ خود پڑھیں، کیمپس کی تصاویر دیکھیں، ہولوکاسٹ میوزیم جائیں۔ آپ کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔
تصاویر کی بات تو میں کیا کہوں۔ آپ خود کمپیوٹر سے متعلق بندے ہیں۔ ناسا نے جب چاند پر لینڈنگ کا دعویٰ‌کیا تھا اس کی تصاویر پر ابھی تک بحث چل رہی ہے۔ میوزیم کی بات، ایک کتاب ہے A brief history of nearly everything اس کو دیکھیں کہ امریکہ کے عجائب گھروں‌میں‌کیا سچ ہے(میں یہ فرض کر رہا ہوں کہ آپ نے امریکہ کے عجائب گھروں‌کی بات کی ہے)۔
بے بی ہاتھی
 

زیک

تکنیکی معاون
قیصرانی نے کہا:
زکریا نے کہا:
قیصرانی: آپ کے سوال کہ 6 ملین کی تعداد کہاں سے آئی تو اس کا جواب آپ خود دے چکے ہیں کہ جنگ سے پہلے اور بعد کی رائے‌شماری اور جرمنوں کے ریکارڈ سے۔ یہ ریسرچ تاریخ‌دان کر چکے ہیں۔

نہ صرف یہ بلکہ ہولوکاسٹ کے ویب‌سائٹ پر 4 ملین لوگوں کے نام بھی ہیں جو ہولوکاسٹ میں مارے گئے۔
زکریا بھائی میں‌نے یہ بات کہی تھی کہ جنگ سے قبل اور بعد یورپ میں‌یہودیوں کی تعداد میں صرف اضافہ ہوا ہے کمی نہیں۔میں‌نے جہاں‌تک یاد پڑتا ہے 60 لاکھ کی بات نہیں‌کی کہ وہ میرے یورپ یا صرف جرمنی میں تھے۔

اور میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ تاریخ‌دان آپ کو غلط ثابت کر چکے ہیں۔ انہوں نے جنگ سے پہلے اور بعد کے آبادی کے اعداد و شمار پر ریسرچ کی ہے۔
 
Top