فرخ منظور

لائبریرین
غزل

ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بلند آج نہایت غبار راہ میں ہے

شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طفلی
ہنوز حسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے

عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر نہ کوئی دیار راہ میں ہے

طریقِ عشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط
کہیں چڑھاؤ کسی جا اتار راہ میں ہے

طریقِ عشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن
ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے

جگہ ہے رحم کی یار ایک ٹھوکر اس کو بھی
شہیدِ ناز کا ترے مزار راہ میں ہے

سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش
عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے

نہ بدرقہ ہے نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروردگار راہ میں ہے

نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی
بہت سی گرد بہت سا غبار راہ میں ہے

تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے

جنوں میں خاک اڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غبار راہ میں ہے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

کوئی تو دوش سے بارِ سفر اتارے گا
ہزار راہزنِ امیدوار راہ میں ہے

مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے
خدا تو دوست ہے دشمن ہزار راہ میں ہے

بہت سی ٹھوکریں کھلوائے گا یہ حسن اُن کا
بتوں کا عشق نہیں کوہسار راہ میں ہے

پتا یہ کوچۂ قاتل کا سن رکھ اے قاصد
بجائے سنگِ نشاں اِک مزار راہ میں ہے

پیادہ پا ہوں رواں سوئے کوچۂ قاتل
اجل مری مرے سر پر سوار راہ میں ہے

چلا ہے تیر و کماں لے کے صیدگاہ وہ تُرک
خوشا نصیب وہ جو جو شکار راہ میں ہے

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتش
گُلِ مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے

(خواجہ حیدر علی آتش)
 

جیہ

لائبریرین
خوبصورت غزل۔ ایک شعر تو اب ضرب المثل بن گیا ہے


سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
 

فرخ منظور

لائبریرین
خوبصورت غزل۔ ایک شعر تو اب ضرب المثل بن گیا ہے


سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

بہت شکریہ جویریہ! دو ضرب المثل اشعار کے ساتھ استاد ابراہیم ذوق کی دو غزلیں بھی ملاحظہ کیجیے گا۔ کل رات ہی پوسٹ کی ہیں۔
 

فاتح

لائبریرین
جنوں میں خاک اڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے

شریکِ حال ہمارا غبار راہ میں ہے
یہ خوبصورت غزل ارسال فرمانے پر آپ کا شکریہ!
 

کاشفی

محفلین
گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے - آتش

غزل
(آتش)

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بلند آج نہایت غبار راہ میں ہے

شباب تک نہیں پُہنچا ہے عالمِ طفلی،
ہنوز حُسنِ جوانی ِ یار راہ میں ہے

عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار، راہ میں ہے

نہ بدرقہ ہے، نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروردگار راہ میں ہے

نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے، گرمی ہے،
بہت سی گرد، بہت سا غبار ، راہ میں ہے

جنون میں خاک اُڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غبارِ راہ میں ہے

کوئی تو دوش سے بارِ سفر اُتارے گا
ہزار راہزن اُمیدوار راہ میں ہے

پیادہ پا ہوں رواں سوئے کوچہء قاتل
اجل مری، مرے سر پر سوار راہ میں ہے

تھکے جو پاؤں، تو چل سر کے بل، نہ ٹھہر آتش
گل مراد ہے منزل میں، خار راہ میں ہے
 

طارق شاہ

محفلین

غزلِ

خواجہ حیدر علی آتش

ہَوائے دَورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بُلند آج نہایت غُبار راہ میں ہے

شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طِفلی
ہنوز حُسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے

عدَم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر، نہ کوئی دیار راہ میں ہے

طریقِ عِشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط
کہیں چڑھاؤ، کسی جا اُتار راہ میں ہے

طریقِ عِشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن
ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے

جگہ ہے رحم کی، یار ایک ٹھوکر اِس کو بھی
شہیدِ ناز کا تیرے مزار راہ میں ہے

سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش
عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے

نہ بدرقہ ہے، نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروَردِگار راہ میں ہے

نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی
بہت سی گرد، بہت سا غبار راہ میں ہے

تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے

جنُوں میں خاک اُڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غُبار راہ میں ہے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

کوئی تو دوش سے بارِ سفر اُتارے گا
ہزار راہزنِ اُمیدوار راہ میں ہے

مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے
خدا تو دوست ہے، دشمن ہزار راہ میں ہے

بہت سی ٹھوکریں کِھلوائے گا یہ حُسن اُن کا
بُتوں کا عِشق نہیں کوہسار راہ میں ہے

پتا یہ کوچۂ قاتل کا سُن رکھ اے قاصد
بجائے سنگِ نِشاں اِک مزار راہ میں ہے

پیادہ پا ہُوں رَواں سُوئے کوچۂ قاتل
اجَل مِری، مِرے سر پر سوار راہ میں ہے

چلا ہے تیر و کماں لے کے صید گاہ وہ تُرک
خوشا نصیب وہ جو جو شِکار راہ میں ہے

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل، نہ ٹھہرآتش
گُلِ مُراد ہے منزِل میں، خار راہ میں ہے

خواجہ حیدر علی آتش
 
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
-
بے مثال اشعار ہیں ۔ یہاں اس شعر میں نہ صرف "ہزار ہا شجر --- "کی جمع کے صیغے کی ترکیب بلکہ اس پر "بہتیرے" کا مفعولی اطلاق ، غزل کی ردیف "ہے" کی مفرد نوعیت سے متصادم ہے ا۔ لیکن بیان جاندار ایسا ہے کہ شعر زبان کا محاورہ بلکہ ایک ضرب المثل بن گیا ۔ یہی کمال ہے آتش کے آتشیں بیان کا۔
 
Top