جون ایلیا ہم تو جیسے وہاں‌کے تھے ہی نہیں --------- جون ایلیا

مغزل

محفلین
غزل

ہم تو جیسے وہاں‌کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں

ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں

ان کو آندھی میں ہی بکھیرا تھا
بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں

اب ہمارا مکان کس کا ہے ؟
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں

ہو تری خاکِ آستاں پہ سلام
ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں

ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں

دل نے ڈالا تھا درمیا ں جن کو
لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا
 

فاتح

لائبریرین
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
سبحان اللہ! عمدہ انتخاب ہے۔ ارسال کرنے پر بہت شکریہ جناب۔
 

مغزل

محفلین
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
سبحان اللہ! عمدہ انتخاب ہے۔ ارسال کرنے پر بہت شکریہ جناب۔

بہت بہت شکریہ فاتح المفتوح‌بھائی ، آپ کی دعائیں چاہتا ہوں‌۔بہت شکریہ
 

ظفری

لائبریرین
واہ مغل بھائی کیا خوب کلام شئیر کیا ہے ۔۔۔ جون ایلیا کے اندازِ بیاں کی تو بات کچھ اور ہے ۔ دیکھیئے اپنے ساتھ دوسروں کو بھی رُلادیا ۔

اب ہمارا مکان کس کا ہے ؟
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں
 
Top