ہمارے معا شعر ے کی عکا سی کر تی ایک تلخ حقیقت

رباب واسطی نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 24, 2018

  1. رباب واسطی

    رباب واسطی محفلین

    مراسلے:
    645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Chatty
    عورت بکے تو طوائف، مرد بکے تو دولہا
    22/10/2018 ✍️ سدرہ ڈار

    آج کی عورت باہمت بھی ہے اور کسی حد تک با اختیار بھی لیکن اگر کوئی عورت مضبوط نظر آرہی ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی ایسی وجہ ہے جس نے اس میں یا تو حوصلہ پیدا کیا ہے یا کمزور سے طاقتور بنایا ہے۔ لیکن وہ کیا ہے ناں ہم دنیا والے ظاہر کو دیکھتے ہیں، رائے دیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ خاص کر اس معاشرے میں اگر کوئی جی دار عورت دکھائی دے تو اس پر تبصرہ کرنا اس کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کردینا ہمارے لئے فرض عین ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بچپن سے ہماری ذہن سازی کردی جاتی ہے کہ عورت مرد کی محتاج ہے اس کی تابع ہے وہ کبھی غلط نہیں ہوسکتا عورت کو یہ مان لینا چائیے۔

    یہ کہانی میری دوست امبر کی ہے جس نے اپنی سہیلی کی کہانی مجھے سنائی جسے میں یہاں لکھ رہی ہوں۔ میری ایک دوست جسے میں نے ہمیشہ ”مائی منڈا“ کہا اسکول کے زمانے سے ہواؤں کو تلواریں ما رنے والی لڑکی رہی۔ اس کی ایک اہم وجہ بچپن سے اس میں اعتماد کا ہونا اور خود کو زیر نہ ہونے دینا کا جذبہ تھا۔ اس کی باتوں سے میں بچپن میں یہ اندازے لگایا کرتی تھی کہ وہ اپنے باپ کی سنجیدہ مزاجی اور بارعب شخصیت سے خاصی متاثر ہے اور ان جیسا ہی بننا چاہتی ہے۔

    والد کی طرح نظر آنے اور ان کی تقلید میں وہ یہ بھولتی چلی گئی کہ بہرحال وہ ہے تو لڑکی ہی، سو وقت گزرتا رہا اور وہ عمر کے اس حصے میں آگئی جہاں لڑکیاں یا تو دو سے تین بچوں کی مائیں بن چکی ہوتی ہیں یا پھر اہم ترین فیصلے لینے کے قابل ہوجاتی ہیں۔ ہم سب شادی کر کے وہی روٹین کی زندگی میں مشغول ہوگئے کہ ایک روز میری ایک دوسری دوست نے میرا اپنی پرانی سہیلی فاطمہ سے رابط بحال کروایا۔ بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ ہمارے بچے تو اب کلاس تھری اور ون میں جاپہنچے لیکن ہماری دوست ابھی بھی سنگل کا ٹیگ لگائے گھوم رہی ہیں۔

    شکل و صورت میں وہ ہم سے بہت اچھی تھی اور تعلیم ہم سے کہیں زیادہ، ہم انٹر کر کے ہانڈی روٹی میں لگ چکے تھے جبکہ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز تھی۔ اچھی تنخواہ، گاڑی، مراعات اس کی شخصیت کو مزید مضبوط بنا چکے تھے۔ ملنے کا پلان ہوا اور میں بیتاب ہوگئی کہ جس لڑکی کو میں جانتی ہوں اس سے تھوڑی مختلف لڑکی بس کہیں سے کب میرے سامنے آدھمکے گی۔ بچپن کی طرح ایک مکا رسید کرے گی اور ابے اوئے، یار تو کہاں تھی؟ جیسے جملوں سے بات کا آغاز ہوجائے گا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد میرے سامنے جو لڑکی بیٹھی تھی وہ نہ صرف یکسر مختلف تھی بلکہ میچور اور سنجیدہ بھی۔

    بہت دیر اسے دیکھ کر دل میں رشک کیا پھر گفتگو کا آغاز اس پتھر سے کیا جو میرے رشک نے اچانک حسد میں تبدیل ہوتے ہی میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ فاطمہ تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟ دل میں تھوڑا سکون سا آیا کہ اب مزا آئے گا جب کوئی جواب نہیں بن پائے گا۔ لیکن جواب ایسا آیا کہ یقین آگیا کہ یہ ہی میری دوست ہے۔

    مجھے کوئی غیرت مند نہیں ملا، اب تک جتنے ملے ایسے تھے جن کا نام تاریخ میں سیاہ لفظوں سے بھی لکھا گیا تو سیاہی کی توہین ہوگی۔ نام مختلف تھے لیکن کردار ایک جیسے جن کا فرمان یہی رہا کہ تم کماؤ ہمیں بھی کھلاؤ اور خود بھی عیش کرو، میں کوئی سوال نہیں کروں گا نہ ہی اعتراض۔ میں نے پوچھا کیا آج تک کوئی ایسا نہیں ملا، تو اس نے اپنی کہانی بتائی جو ا سکی زبانی سنیں۔

    میں نے انٹر کیا تو گھر والوں نے میرا رشتہ خاندان میں کردیا جہاں سے پہلا حکم یہ صادر ہوا کہ اب آگے نہ پڑھنا چونکہ میں انٹر کر رہی تھی تو اسے جاری رکھنا ضروری تھا اسی اثناء میں سسرال سے ابو کو یہ پیغام آیا کہ مشترکہ جائیداد میں جو حصہ ابو کا بنتا ہے وہ میری شادی میں ابھی سے لکھ دیا جائے مطلب ابو اپنی زندگی میں ہی مجھے حصہ دے دیں۔ یہ بات گھر والوں کے لئے کسی دھچکے سے کم نہ تھی۔ ابو نے جب اعتراض اٹھایا تو کہا گیا کہ تم تو زمانے سے شہر جا بسے ہو۔ شادی بھی غیر برادری کی عورت سے ہوئی، اولاد بھی شہر کی ہے نہ جانے اس عورت نے بیٹی کی کیسی تربیت کی ہوگی۔ ہم نے تو رشتہ تمہاری وجہ سے کیا ہے ورنہ برادری میں بیٹے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی تھی۔ ابو نے منگنی ختم کردی اور مجھے آگے پڑھنے کی اجازت دیدی۔

    میں نے ماسٹرز کیا تو میرا رشتہ امی کے رشتے دارو ں کے توسط سے آیا۔ گھر والے خوش ہوگئے۔ لڑکا بینک میں اچھی پوسٹ پر تھا۔ دھوم دھام سے منگنی کا کوئی قائل نہ تھا سو دعائے خیر ہوئی اور بات ایک سال بعد شادی پر تمام ہوئی اب دونوں خاندانوں کا میل جول ہوگیا کہ ایک دن لڑکے کا میرے نمبر پر فون آیا جو کہ پہلے ہی طے ہوچکا تھا کہ لڑکا لڑکی آپس میں بات چیت نہیں رکھیں گے۔

    میں نے رسمی سلام دعا کی تو ایک سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ اس ر شتے سے خوش نہیں؟ میں نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا آپ کو میری تصویر دکھائی گئی ہے؟ میں نے ہاں کا جواب دیا۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ نہیں سمجھتی کہ میں آپ کے لئے اجنبی ہوں آپ کو میرے بارے میں جاننا چائیے۔ میں نے اس پر بھی ہاں کا جواب دیا تو موصوف نے کہا کہ آپ مجھ سے کہیں مل لیں۔ جس پر میں نے صاف منع کردیا اور کہا کہ آپ والدین کو کہیں اور گھر آکر بات کرلیں۔

    اس بات کے بعد متواتر میسجز اور کالز آتی رہیں۔ ملنے کا اصرار بڑھتا گیا جس پر میں نے صاف منع کیا اور پھر یہ سلسلہ دھمکیوں پر آگیا۔ جس پر زچ ہوکر میں نے اتنا کہا کہ میں اس واقعے اور آپ کی ضد پر گھر والو ں کو مطلع کردیتی ہوں۔ جس کے بعد خاموشی ہوگئی۔ مجھے لگا کہ اب سکون ہے لیکن چند دن بعد مجھے گھر والوں نے بتایا کہ لڑکے نے والد سے ملاقات کی اور بتایا کہ انکل آپ کی بیٹی کسی اور کو پسند کرتی ہے اور مجھ سے شادی آپ لوگوں کے دباؤ پر کر رہی ہے یہ بات اس نے فون پر کہی۔ چونکہ میرے فون پر مسیجز موجود تھے۔ لیکن جو ماحول بن چکا تھا اور عدالت کے کٹہرے میں مجھے کھڑا کیا گیا تھا اس میں مجھے صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔

    خاندان میں بدنامی ہونے کے ممکنہ خدشے پر ماتم کیا جاتا رہا، میں نے چپ لگائے رکھی۔ منگنی ختم ہوئی میں نے اپنی بہن کو وہ ثبوت دکھائے اس کو حیرانی ہوئی۔ اس نے جب مقدمہ گھر والوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے کہا کہ اب جو ہونا تھا ہوچکا۔ اس لڑکے نے تو ہر جگہ یہی کہا ہے کہ لڑکی نے منع کیا۔ اب ہم کیا بول سکتے ہیں۔

    بدقسمتی سے کچھ عرصہ بعد میرے والد دنیا سے رخصت ہوگئے تو گھر میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ اب اس گھر میں کبھی کوئی خوشی نہیں آئے گی۔ ہم نے ہنسنا بولنا جینا چھوڑ دیا۔ مجھے ملازمت مل گئی دو سال گزرے تو میری شب و روز کی محنت سے ترقی بھی ہوئی اور میں مزید تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرلیا۔ یہ میری ترقی کا ایک اور راستہ بن گیا۔ جس فرم میں، میں ملازمت کرتی تھی وہاں میری سپر وژن میں پانچ لڑکے اور ایک لڑکی کام کر رہے تھے۔ مجھے کسی کے توسط سے بتایا گیا کہ ان میں سے ایک لڑکا میرے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہے۔ تعلیمی اعتبار اور تنخواہ کے مقابلے میں وہ مجھ سے کم تھا تاہم مجھ پر گھر والوں پر سماجی دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ میں نے جب گھر ذکر کیا تو انھیں لگا کہ یہ لڑکا دنیا کا آخری لڑکا رہ گیا ہے جس سے میری شادی ہوسکتی ہے۔
    انکوائری کی رسمی کارروائی کے بعد دھوم دھام سے منگنی کی گئی کہ بہت عرصے بعد گھر کو کوئی خوشی ملی ہے۔ لیکن ساتھ ہی لڑکے نے یہ تنبیہ کر ڈالی کہ دفتر میں اس بات کا کسی کو پتہ نہ لگے کیوںکہ لوگ یہ باتیں بنا سکتے ہیں کہ میری تنخواہ کم اور ہونے والی بیوی کی زیادہ ہے میں نے جان بوجھ کر یہاں رشتہ کیا ہے۔ وعدے کی پاسداری کی گئی لیکن منافقت کا آغاز یہاں سے ہوا کہ منگیتر کی جانب سے مجھ پر دباؤ بڑھتا گیا کہ میں اس کی ترقی کے لئے اپنے سینیئرز کو قائل کروں یہاں تک کہ اگر کچھ بھی کرنا پڑے تو کروں جبکہ یہ کسی طرح ممکن نہ تھا۔ میرے مزاج سے سب واقف تھے کہ میں دفتر میں کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی اور جب یہ با ت عیاں ہی نہ تھی کہ وہ میرا منگیتر ہے تو کیسے اس کے لئے بات کی جاتی۔

    میں نے کس سے بات کی، سینئرزنے میرے کام کی تعریف سب کے سامنے کیوں کی؟ ڈارک لپ اسٹک کیوں لگائی، سیاہ یا سرخ رنگ کا جوڑا کیوں پہنا؟ کس کا فون آیا؟ فلاں میرے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے؟ فون اٹینڈ کیوں نہیں کر رہی تھی؟ دفتر میں آفس بوائے میرے آنے سے قبل ہی میری ڈیسک پر چائے، اخبار کیوں رکھ دیتا ہے۔ یہ سب باتوں کا حساب کتاب لیا جانے لگا یہاں تک کہ میرے پیٹھ پیچھے لوگوں سے میرے آنے جانے اور کردار کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جاتی رہیں کہ کوئی افئیر یا سکینڈل نکالا جاسکے۔

    جب کہ دوسری جانب مجھے اپنی ترقی کی سیڑھی بنانے کے لئے خوشامد کی جاتی رہی۔ شادی کا مقررہ وقت جب قریب آیا تو جواب دیا گیا کہ میں ابھی سیٹل نہیں ہاں اگر جلدی ہے تو خرچہ تم کرلو بعد میں، میں لوٹا دوں گا۔ میرے گھر والوں کے سامنے کہا جاتا تھا کہ شا دی کے بعد نوکری کی ضرورت نہیں اور مجھے با توں باتوں میں بتایا جاتا کہ تمہاری نوکری بیحد ضروری ہے۔ ایک دن مجھ سے سوال کیا گیا کہ زمانے سے نوکری کر رہی ہو شا دی پر الگ فلیٹ اور گاڑی لازمی ہونی چائیے تمہارا ہی مستقبل محفوظ رہے گا۔

    اس بات نے مجھے بولنے پر مجبور کردیا۔ میں نے گھر یہ فر مائش بتائی تو والدہ نے کہا کہ یہ زیادتی ہے۔ جب خاندانوں میں بات کی گئی تو موصوف آپے سے باہر ہوئے اور کہا کہ آپ کی بیٹی مردوں کے ساتھ کام کرتی ہے، آزاد اور خود مختار ہے ایسی لڑکیوں کے ساتھ کون گھر بساتا ہے میں تو پھر شادی کر رہا ہوں اگر اسی کے بھلے کو یہ کہہ دیا تو کون سی قیامت آگئی۔ گھر والوں نے جب ایسا مزاج دیکھا تو رشتہ ختم کردیا۔

    اب میرے گھر والوں کو لوگ یہ احساس دلا رہے ہیں کہ آپ کی بیٹی کو حد سے زیادہ خود اعتمادی نے ڈبو دیا۔ اب اس کا کوئی رشتہ نہیں آئے گا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ کہ کسی نے آج تک ان لڑکے والوں کو یا ان کے گھرانوں کو کچھ نہیں کہا جن کی تربیت میں کمی رہ گئی۔ مجھے سننے کو ملا کہ میرے باپ نے میری تربیت لڑکوں کی طرح کی مجھے نڈر، بے خوف بنایا۔ میں اس بات کو تسلیم بھی کرتی ہوں اور خوش بھی ہوں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج میں ان مردوں کی ہوس اور میرے ذریعے کچھ پانے کی قیمت چکا رہی ہوتی۔ میں آج اپنی زندگی سے مطمئن ہوں مانا کہ مرد کا سہارا بہت بڑا ہوتا ہے لیکن اگر وہ مرد ہو تو۔ افسوس میرے حصے میں جو مرد آئے انھوں نے یا تو خود کو بیچنا چاہا یا میری قیمت لگانے کی کوشش کی جسے میں نے مسترد کردیا۔

    مجھے تاقیامت ایک فلم کا وہ ڈائیلاگ ہمیشہ یاد رہے گا کہ ”عورت اگر خود کو بیچے تو طوائف اور اگر مرد خود کو بیچے تو دولہا“۔ لیکن ہمارا معاشرہ کبھی مرد کو برا نہیں کہتا ساری ذمہ داری عورت پر عائد کردی جاتی ہے کہ اب اس کا کیا مستقبل ہوگا کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ مجھے آج تک محسوس ہوتا ہے کہ مجھے کیا بنائے جانے کی کوشش کی گئی، کیا سمجھا گیا؟ کیا یہ تذلیل کے زمرے میں نہیں آتا؟ لوگوں کی نظر میں شاید میں ”بیچاری“ ہوں گی لیکن میں جانتی ہوں کہ ان جیسے مردوں کے بغیر میں نے بہت کچھ پایا ہے اور آج آسودہ ہوں ہاں کبھی کبھی جب یہ یاد آئے تو افسوس ضرور ہوتا ہے۔

    ربط
    عورت بکے تو طوائف، مرد بکے تو دولہا - ہم سب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. اظہرعباس

    اظہرعباس محفلین

    مراسلے:
    11
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    تلخ حقیقت
     

اس صفحے کی تشہیر