مصحفی ہماری طرف آپ کم دیکھتے ہیں

غزل

ہماری طرف آپ کم دیکھتے ہیں
وے آنکھیں نہیں اب جو ہم دیکھتے ہیں

ہمیں جستجو کس کی درپیش آئی
عرب ڈھونڈتے ہیں عجم دیکھتے ہیں

بہت دیکھا دنیا کو جاتے ہیں یارو
ذرا اب تو ملکِ عدم دیکھتے ہیں

بھروسہ ہے کیا دم کا یعنی کہ یاں کی
ہوا مختلف دم بہ دم دیکھتے ہیں

پڑے ہے نظر عیب ہی پر انہوں کی
ہنر مصحفی یار کم دیکھتے ہیں
 

با ادب

محفلین
اِ نھیں اب ہے فرصت کہاں محفلوں کی
یہ عرب وعجم جام و جم دیکھتے ہیں
( تمام شعراء کی روح سے معذرت کے ساتھ)
 

با ادب

محفلین
میں شاعری کی ابجد سے واقف ہونا تو بڑی دور کی بات ہے ابجد والی گلی کے سامنے سے بھی نہیں گزری ..لیکن کہیں نہ کہیں رگ ظرافت پھڑک اٹھتی ہے. اس غزل کو پڑھ کے بھی ایک کیفیت آئی. تمام شاعر حضرات سے پیشگی گزارش ہے کہ اسے مذاق ہی سمجھا جائے. تختئہ مشق سمجھ کے مذاق نہ اڑایا جائے.
 

با ادب

محفلین
وہ لڑکی کی سیرت کو کم دیکھتے ہیں
جو ہو دیکھنا تو حجم دیکھتے ہیں

جو ابا کی گاڑی رہی ہو فراری
تو لڑکی کے عیبوں کو کم دیکھتے ہیں

انھیں جستجو کس کی در پیش آئی
وہ مشرق میں ابرو کے خم دیکھتے ہیں

گھریلو سی لڑکی پَہ ماڈل ہو پوری
کہ خوبی ہر اک اُن میں ضم دیکھتے ہیں

بہت دیکھیں اپنی حسینائیں یارو
ذرا اب تو مُلکِ فرنگ دیکھتے ہیں
 
Top