عدیم ہاشمی ہلے نہ ہونٹ ترے قُرب کے بیاں کے لیے۔ عدیم ہاشمی

شیزان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 29, 2012

  1. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    ہلے نہ ہونٹ ترے قُرب کے بیاں کے لیے
    یہ ذائقہ ہی نیا ہے مری زباں کے لیے
    میں کون کون سے دیوار و دَر کو یاد کروں
    دھڑک رہا ہے مرا دل تو ہر مکاں کے لیے
    کہاں لکھوں کہ نہ پہنچے جہاں یہ وقت کا ہاتھ
    قدم کہاں پہ دھروں دائمی نشاں کے لیے
    نہ اب وہ اپنی تمنا، نہ اب وہ خواہشِ خاص
    میں جی رہا ہوں یہ کس عمرِ رائیگاں کے لیے
    خلا میں پھینک رہا ہوں جلا جلا کے چراغ
    بنا رہا ہوں ستارے کچھ آسماں کے لیے
    درخت پہنوں بدن پر ، سنوار لوں شاخیں
    کہ پیڑ ڈُھونڈ رہا ہے وہ آشیاں کے لیے
    بس اِک سفیدی سی تصویر بن گئی ہے عدیم
    ملے نہ رنگ مجھے اپنی داستاں کے لیے
    نذرِاقبال​
    عدیم ہاشمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    واہ! بہت خوب انتخاب۔ شکریہ شیزان صاحب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    پسند فرمانے پر دل سے شکر گزار ہوں فرخ صاحب:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,865
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
    واہ بہت خوب انتخاب
    خوش رہیں

    درخت پہنوں بدن پر ، سنوار لوں شاخیں
    کہ پیڑ ڈُھونڈ رہا ہے وہ آشیاں کے لیے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    پسندیدگی پر مشکور ہوں جناب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر