1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

ہاں مگر تیرے سوا

میم الف نے 'ادبی ملٹی میڈیا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 10, 2019

  1. میم الف

    میم الف محفلین

    مراسلے:
    164
    گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست
    گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن
    تیری آنکھوں کی اداسی ترے سینے کی جلن
    میری دلجوئی مرے پیار سے مٹ جائے گی
    گر مرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے
    جی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغ
    تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
    تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے
    گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست
    روز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں
    میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریں
    آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت
    آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
    تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
    کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
    گرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں
    کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش
    دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
    کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور
    یک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہے
    کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخِ گلاب
    کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
    یونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطر
    گیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطر
    پر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں
    نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی
    گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی
    تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
    اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
    اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
    ہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا

     
    آخری تدوین: ‏اگست 10, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر