گلگوں عارض ہے یا کوئی شعلہ ۔ کاشف اختر

کاشف اختر

لائبریرین
غم کا شعلہ پگھل نہ جائے کہیں
اشک بن کر نکل نہ جائے کہیں

پھر سے گلشن میں آگیا کوئی
پھر طبیعت بہل نہ جائے کہیں

گلگوں عارض ہے یا کوئی شعلہ
گلستاں پھر سے جل نہ جائے کہیں

ہم سے نظریں نہ پھیریو ساقی
رند تیرا سنبھل نہ جائے کہیں

ان سے کہدو نہ آئیں مقتل میں
دست قاتل پھسل نہ جائے کہیں

ہم کو ایسے نہ دیکھئے صاحب
پھر سے نیت بدل نہ جائے کہیں

خود ہی مقتل میں آگیا کاشف
اب کے دیکھو اجل نہ جائے کہیں
 
Top