1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

سراج الدین ظفر گردشِ شام و سحر سے ہیں قدح خوار بَری ۔ سراج الدین ظفر

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 2, 2017

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    گردشِ شام و سحر سے ہیں قدح خوار بَری
    بَھر نہ اے موسمِ گُل اِن سے دَمِ ہم سفری

    ہو کے میخانے سے گُزری جو نسیمِ سحری
    مے گُساروں میں اُٹھا ولولۂ ہم سفری

    شب کو کیا شے تھی سبُو میں کہ سحر کے ہنگام
    چشمِ مَے خوار میں ہے نُورِ فراست نظری

    بات اُس زُلف کی کرتا ہُوں تو کُھل جاتے ہیں
    مَیرے الفاظ میں انفاسِ نسیمِ سحری

    ساتھ لے جائے نسیمِ سحری کو کوئی رِند
    ہائے اِس آہُوئے آوارہ کی تنہا سفری !

    ایک ترکیب ہے تسخیرِ غزالاں کے لئے
    ورنہ مَیں اور یہ بدحالی و شوریدہ سری

    پھینک اے عِشق نہ میخانہ نشِینوں پہ کمند
    کج کُلاہوں کو نہ راس آئے گی شوریدہ سری

    مُجھ کو اے شاہدِ مَےخانہ دَمِ صُبح نہ بُھول
    یاد کر معرکۂ شب میں مِری بے جگَری

    منزلِ دار و رسَن میں تھے ہزاروں منصُور
    مَیں نے بخشا نہ کسی کو شرفِ ہم سفری

    شک مجھے واعظِ خوش گو کی کرامت میں نہیں
    اس کی ہر بات ہے مُعجزۂ بے اثری

    ناگہاں سارے زمانے کے ہُنر روند گیا
    شاہدِ شب کہ تھا آراستۂ بے ہُنری

    کوئی کل رات تِری بزم میں پہنچا تو سہی
    یہ نہیں یاد ، وُہ مَیں تھا کہ مِری بے خبری

    شوقِ سیّاحیِ گیسُو نے کہاں پہنچایا
    َمیں ہُوں اور عالمِ اَسرار میں تنہا سفری

    شب کو جو رقصِ غزالاں نے مُقرّر کر دِیں
    دِن کو گُزری اُنھِیں راہوں سے نسیمِ سحری

    خلوتِ بادہ میں ادراک کی قدریں ہیں الگ
    نہ یہاں کوئی خبر ہے نہ کوئی بے خبری

    یہ ظفرؔ کی ہے غزل یا بہ طلسمِ اشعار
    اُڑ کے پہنچی ہے کوئی شہرِ سُلیماں سے پَری

    (سراج الدین ظفرؔ)
     

اس صفحے کی تشہیر