جون ایلیا گذر آیا میں چل کے خود پر سے

نیرنگ خیال

لائبریرین
گذر آیا میں چل کے خود پر سے
اک بلا تو ٹلی مرے سر سے

مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے

مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں
یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر سے

میں خمِ کوچہ ء جدائی تھا
سب گزرتے گئے برابر سے

حجرہ ء صد بلا ہے باطن ذات
خود کو تو کھینچیئو نہ باہر سے

کیا سحر ہوگئی دل بے خواب
اک دھواں اٹھ رہا ہے بستر سے
 
Top