شکیب جلالی :::::: کیا کہیے کہ اب اُس کی صدا تک نہیں آتی :::::: Shakeb Jalali

طارق شاہ

محفلین



شکیب جلالی
غزل

کیا کہیے کہ اب اُس کی صدا تک نہیں آتی
اُونچی ہوں فصِیلیں، تو ہَوا تک نہیں آتی

شاید ہی کوئی آسکے اِس موڑ سے آگے !
اِس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی

وہ گُل نہ رہے نِکہتِ گُل خاک مِلے گی !
یہ سوچ کے، گلشن میں صبا تک نہیں آتی

اِس شورِ تلاطُم میں کوئی کِس کو پُکارے ؟
کانوں میں یہاں، اپنی صدا تک نہیں آتی

خوددار ہُوں، کیوں آؤں درِ ابلِ کَرَم پر
کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی

اُس دشت میں قدموں کے نِشاں ڈُھونڈ رہے ہو
پیڑوں سے جہاں چَھن کےضِیا تک نہیں آتی

یا جاتے ہُوئے مُجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں
یا، میرے بُلانے سے صبا تک نہیں آتی

کیا خُشک ہُوا روشنیوں کا وہ سمندر ؟
اب کوئی کِرن آبلہ پا تک نہیں آتی

چُھپ چُھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوتِ گُل میں
مہتاب کی کِرنوں کو حَیا تک نہیں آتی

یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا !
ٹُوٹی ہوئی قبروں سےصدا تک نہیں آتی

بہتر ہے پَلٹ جاؤ سِیہ خانۂ غم سے
اِس سرد گُپھا میں تو ہَوا تک نہیں آتی

شکیؔب جلالی
 
اِس شورِ تلاطُم میں کوئی کِس کو پُکارے ؟
کانوں میں یہاں، اپنی صدا تک نہیں آتی

کیا کہنے جناب بہت ہی عمدہ شراکت ہے
 
Top