کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا (باقی صدیقی)

نیرنگ خیال

لائبریرین
کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا

کان پڑتی نہیں آواز کوئی
دل میں وہ شور بپا ہے اپنا

اب تو ہر بات پہ ہوتا ہے گماں
واقعہ کوئی سنا ہے اپنا

ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے
دشت تک سایہ گیا ہے اپنا

خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے
خود ہی در کھول دیا ہے اپنا

دل کی اک شاخ بریدہ کے سوا
چمن دہر میں کیا ہے اپنا

کوئی آواز کوئی ہنگامہ
قافلہ رکنے لگا ہے اپنا

اپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہے
دل میں جو چور چھپا ہے اپنا

کون تھا مد مقابل باقیؔ
خود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا​
 

کاشفی

محفلین
عمدہ و لاجواب! بہت خوب جناب۔
اگر ممکن ہو تو باقی صدیقی کی مزید شاعری بھی شیئرکریں پلیز۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
لاجواب انتخاب جناب
بہت شکریہ احمد بھائی :)

شکریہ عمر بھائی :)

عمدہ و لاجواب! بہت خوب جناب۔
اگر ممکن ہو تو باقی صدیقی کی مزید شاعری بھی شیئرکریں پلیز۔۔
شکریہ کاشفی بھائی۔۔۔
ضرور۔۔۔ باقی صاحب کا کلام مجھے بےحد پسند ہے۔ لیکن عہد حاضر نے لگتا ہے ان کو فراموش کر دیا ہے۔
اب باقی صاحب کا کلام محفل میں جوں جوں لکھتا رہوں گا شامل کرتا رہوں گا۔
 
Top