کیا ان دو بحروں کو ایک شعر میں لایا جا سکتا ہے؟

کیا ایک ہی شعر میں میں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
اور
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن
کو اکٹھا لایا جا سکتا ہے؟
رہنمائی فرمائیں
اگر اساتذہ میں کوئی شعر بھی مل جائے تو بہر بہر شکر گزار رہوں گا
جزاک اللہ
 

کاشف سعید

محفلین
جی،
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف (مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن) اور مضارع مثمن اخرب محذوف (مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن) کو ایک دوسرے کے مقابل لایا جا سکتا ہے۔
 
Top