کہاں یہ قصہ تمام ہو گا (اصلاح)

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
معزرت کے ساتھ :( :( :( :( :(


کہاں یہ قصہ تمام ہو گا
کہیں تو اپنا قیام ہو گا

زمین، سورچ سے پوچھتی ہے
سفر کہاں احتتام ہو گا

صدا، یہ کس کی سنی گئی ہے
یہ کون کس کا غلام ہو گا


ہمارے اندر جنون کیسا
کسی سے تو انتقام ہو گا

مجھے میرے ہی خلاف کر دے
ضرور تیرا یہ کام ہو گا

زمین کس کی ہے درسترس میں
جہان کس کا غلام ہو گا

میں اور میرا وجود خرم
فقط تمہارے ہی نام ہو گا
 

الف عین

لائبریرین
بعد میں دیکھتا ہوں فرصت سے، فی الحال اتنا ہی کہ سفر کا اختتام تو ہو سکتا ہے، سفر اختتام نہیں ہوتا، ختم ہوتا ہے۔
 

Imran Niazi

محفلین
ضرور تیرا ہی کام ہوگا

مجھے تو بہت پسند آیا ہے یہ شعر

باقی غزل ہ تو اساتزہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں
 

فاتح

لائبریرین
زمین، سورچ سے پوچھتی ہے
سفر کہاں احتتام ہو گا
اس شعر میں اختتام کے استعمال پر اعجاز صاحب پہلے ہی ذکر فرما چکے ہیں۔ میں بھی انھی کی تائید کرتا ہوں۔

صدا، یہ کس کی سنی گئی ہے
یہ کون کس کا غلام ہو گا
اَلمَعنِی فِی بَطَنُ الشَّاعِر
اب تو دن رات عربیوں کی "لَیش" اور "لَیش یَعنِی" سن سن کر اس قدر تو عربی آ ہی گئی ہو گی:laughing:

ہمارے اندر جنون کیسا
کسی سے تو انتقام ہو گا
انتقام ہونا غلط محاورہ ہے۔ درست محاورہ انتقام لینا ہے۔ یعنی پرخاش، دشمنی یا نفرت ہوتی ہے اور ان پر بدلہ یا انتقام لیا جاتا ہے۔

مجھے میرے ہی خلاف کر دے
ضرور تیرا یہ کام ہو گا
خوبصورت شعر ہے۔ میرے کی املا وزن کے مطابق "مرے" ہو گی۔

زمین کس کی ہے درسترس میں
جہان کس کا غلام ہو گا
ایک مرتبہ پھر اَلمَعنِی فِی بَطَنُ الشَّاعِر کا مقولہ صادق آتا ہے۔
اگر صنعت تضاد قائم رکھنا چاہیں تو زمین کے ساتھ جہان کی بجائے آسمان استعمال کیا جانا چاہیے۔
 

الف عین

لائبریرین
اس کو ابھی تک دیکھنے کی فرصت نہیں ملی۔ بہر حال آج اصلاح کا بہت سا پینڈنگ کام کیا ہے۔ اس کی بھی نوبت آ ہی جائے گی۔
 
Top