مومن کہاں نیند تجھ بن مگر آئے غش

مومنؔ خان مومنؔ




کہاں نیند تجھ بن مگر آئے غش
تو یک صورتِ خواب دکھلائے غش

تمھاری کدورت سے غش آگیا
کیا بوئے گل نے مداوائے غش

نہ ٹھہرے بس آئینہ کو دیکھ کر
وہ اتنے کہ دیکھے تماشائے غش

قیامت جلوں میں ہوں نازک دماغ
نہ کیوں نکہت گل سے آجائے غش

ترے بال لا کر سنگھا دے کہیں
کہ غش ہو گئے چارہ فرمائے غش

نہ ہو کہ جب میرا خیالِ وفات
تو کیا اس ستمگر کو پروائے غش

خبر لو مری تم کہاں تک رہے
یہ حالت کہ غش پر چلا ائے غش

خدائی کا جلوہ ہے مومن کہ تو
گر اس بت کو دیکھے ہو جائے غش

مومنؔ خان مومنؔ

دیوان مومنؔ​
 
مدیر کی آخری تدوین:
Top