1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

احسان دانش کچھ لوگ جو سوار ھیں کاغذ کی ناؤ پر (احسان دانش)

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2008

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    کچھ لوگ جو سوار ھیں کاغذ کی ناؤ پر
    تہمت تراشتے ھیں ھوا کے دباؤ پر

    موسم ھے سرد مہر ، لہو ھے جماؤ پر
    چوپال چپ ھے ، بھیڑ لگی ھے الاؤ پر

    سب چاندنی سے خوش ھیں ، کسی کو خبر نہیں
    پھاہا ھے مہتاب کا گردوں کے گھاؤ پر

    اب وہ کسی بساط کی فہرست میں نہیں
    جن منچلوں نے جان لگا دی تھی داؤ پر

    سورج کے سامنے ھیں نئے دن کے مرحلے
    اب رات جا چکی ھے گزشتہ پڑاؤ پر

    گلدان پر ھے نرم سویرے کی زرد دھوپ
    حلقہ بنا ھے کانپتی کرنوں کا گھاؤ پر

    یوں خود فریبیوں میں سفر ھو رھا ھے طے
    بیٹھے ھیں پل پہ اور نظر ھے بہاؤ پر
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ ۔۔۔۔!

    کیا اچھی غزل ہے۔

    یوں خود فریبیوں میں سفر ھو رہا ہے طے
    بیٹھے ہیں پل پہ اور نظر ہے بہاؤ پر


    بہت خوب
     
  3. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اب وہ کسی بساط کی فہرست میں نہیں
    جن منچلوں نے جان لگا دی تھی داؤ پر

    بے حس اور خود غرض اور بے انصاف معاشرے کی درست عکس بندی !
    بہت اچھا انتخاب ہے۔ :)
     
  4. عبد الرحمن

    عبد الرحمن لائبریرین

    مراسلے:
    1,968
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    زبردست انتخاب!
     

اس صفحے کی تشہیر