1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جگر کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے ۔ جگر مراد آبادی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 3, 2009

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت خوبصورت غزل ہے۔ دو تین فورم پر پوسٹ ہے۔ میں نے ون اردو سے اٹھائی ہے۔ اگر کسی کو شاعر کا نام پتہ ہو تو ضرور بتائیے۔ میرے خیال میں احمد فراز یا مصطفیٰ زیدی ہو سکتے ہیں۔ ایک شعر تو بہت ہی مانوس محسوس ہوتا ہے لیکن شاعر کا نام یاد نہیں آرہا۔
    اللہ رے چشمِ یار کی معجز بیانیاں
    ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے


    کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
    جب تک ہمارے پاس رہے، ہم نہیں رہے

    یارب کسی کے رازِ محبت کی خیر ہو
    دستِ جنوں رہے نہ رہے، آستیں رہے

    دردِ غمِ فراق کے یہ سخت مرحلے
    حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم، اتنے حسیں رہے

    جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر
    اے عشق ! ہم تو اب تیرے قابل نہیں رہے

    اللہ رے چشمِ یار کی معجز بیانیاں
    ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے

    اس عشق کی تلافیء ما بعد دیکھنا
    رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 14
    • زبردست زبردست × 1
    • ناقص املا ناقص املا × 1
  2. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,028
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    تبصرہ محفوظ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    تبصرہ محفوظ کیوں؟ :) کیا آپ نے بھی عدالت عالیہ کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا؟
     
  4. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,028
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔ بس اس وقت ذہن منتشر ہے۔ تبصرہ بھی کروں گی۔۔۔۔۔ اور مزاحیہ تشریح بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر گستاخی میں شمار نہ ہو:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    پہلے مصرع سے تو یہ شعر ذہن میں آتا ہے:
    دیکھو تو چشم ِیار کی جادو نگاہیاں
    بیہوش اِک نظر میں ہوئی انجمن تمام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,170
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واقعی اچھی غزل ہے فرخ صاحب، شکریہ شیئر کرنے کیلیے۔ شاعر کے نام کا علم ہو تو ضرور بتایئے گا :)
     
  7. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,028
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    لو جی یہ تو بقول غالب

    وہ ہم سے بھی زیادہ خستہء تیغِ ستم نکلے


    آپ سے کچھ امید تھی کہ شاعر کا نام آپ بتا دیں گے۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہائے ہائے۔ اب میں کیا کہوں۔ جن احباب سے امید تھی وہی آئے اور کچھ بتائے بغیر چل دئیے۔
    :)
     
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,170
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میں کسی انتخاب میں سے دیکھنے کی کوشش کرونگا، لیکن آج کل ذرا مشکل کام ہے کہ کتابیں سب بکھری ہوئی ہیں اور کچھ علم نہیں ہو رہا کہ کونسی کتاب کہاں پر ہے، اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ غزل مل جائے گی سو فی الحال بغیر خالق کو جانے، تخلیق کا لطف اٹھائیے کہ ساری دنیا یہی کچھ کرتی ہے :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ون اردو پر کسی نے بتایا ہے یہ اصغر گونڈوی کی غزل ہے۔ لیکن میں نے پوری کلیاتِ اصغر چھان ماری اور مجھے یہ غزل نہیں ملی۔ کیا اردو محفل پر کسی اور کے پاس اصغر گونڈوی کی کلیات ہے۔ تاکہ اس غزل کی تصدیق ہو سکے۔ میرے پاس مکتبۂ شعر و ادب کی چھپی ہوئی کلیاتِ اصغر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,902
    بُہت عمدہ انتخاب ہے سخنور صاحب ۔
    مصطفیٰ زیدی کی کلیات میں یہ کلام شامل نہیں ہے ۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    بہت شکریہ شاہ صاحب۔ اوہ اچھا تو پھر کس کی غزل ہے یہ؟ عجیب مخمصے میں ڈالا ہوا ہے۔ خیر اگر آپ کے پاس کلیات مصطفیٰ زیدی ہے تو آپ اس میں سے انتخاب وقتا" فوقتا" پوست کردیا کریں۔ بہت نوازش ہوگی!
    :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  13. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,902
    انشاء اللہ ضرور آپ کے حکم پر ترجیح بنیادوں پر عمل ہو گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ شاہ صاحب! واہ واہ کیا بات ہے جناب آپ نے تو کمال مہربانی کردی زیدی کا کلام پوسٹ کرکے ابھی پڑھتا ہوں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. حارث بن عزیز

    حارث بن عزیز محفلین

    مراسلے:
    12
    کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے

    غزل حضرت جگر مراد آبادی کی ہے۔ چند ایک اشعار کم تھے جنہیں درج کررہا ہوں، تاہم معلوم نہیں غزل مکمل ہوئی یا نہیں۔ آخری شعر میں لفظ مابعد کے بجائے مافات ہے جس کے معنی باوصف تلاش بسیار مجھے نہیں ملے، کسی کو معلوم ہو تو عنایت کردے۔ پروفیسر اقبال عظیم نے بھی مافات کا لفظ
    یہ نہیں کہتا کہ میں ہر رنج سے محفوظ ہوں
    لیکن اب مافات کا ماتم نہیں ہے کم سے کم
    میں استعمال کیا ہے۔

    اب لطف کی بات یہ ہے کہ معجز بیانیاں والا معروف شعر جگر سے منسوب نہیں مل رہا۔ ہوسکتا ہے اصغر گونڈوی کی اسی زمین میں کہی گئی کسی غزل میں ہو۔ جگر کی کلیات دیکھنے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے اگر کوئی دیکھ کر بتادے تو۔

    کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
    جب تک ہمارے پاس رہے، ہم نہیں رہے

    ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے
    اے عشق شادباش کہ تنہا ہمیں رہے

    یارب کسی کے رازِ محبت کی خیر ہو
    دستِ جنوں رہے نہ رہے، آستیں رہے

    دردِ غمِ فراق کے یہ سخت مرحلے
    حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم، اتنے حسیں رہے

    جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر
    اے عشق ! ہم تو اب تیرے قابل نہیں رہے

    مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں
    قسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے

    اللہ رے چشمِ یار کی معجز بیانیاں
    ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے

    اس عشق کی تلافیء مافات دیکھنا
    رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

    (حضرت جگر مراد آبادی)۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  16. محمد سہیل

    محمد سہیل مہمان

    پہلے تو سخنور صاحب کا بہت بہت شکریہ
    آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہر ہر مصرعہ کتنالطف لے لے کر میں نے پڑھا۔۔۔
    اس غزل کا کمال بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔۔۔
    پھرحارث صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے شاعر کا نام تلاش کیا۔
    حارث صاحب!
    "مافات" کا مطلب ہے "جو کچھ ضائع ہو گیا"
    دراصل یہ عربی کا لفظ ہے۔اس میں "ما" اسم موصول اور"فات" فعل ہے۔"فات" ماضی کا صیغہ ہے اور اس کا مصدر"الفوت" ہے۔
    لفظ "فوت" اردو میں جس معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی "مرجانا، ضائع ہوجانا" بس عربی میں بھی یہی معنی ہیں۔
    گویا "لیکن اب مافات کا ماتم نہیں ہے کم سے کم" کا مطلب ہوا
    لیکن اب گزشتہ ضائع شدہ کا غم نہیں ہے کم سے کم
     
  17. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    جزاک اللہ جناب
     
  18. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    جگر کا جواب نہیں۔ ۔ ۔بہت بہت شکریہ
     
  19. حارث بن عزیز

    حارث بن عزیز محفلین

    مراسلے:
    12
    مافات کے معنی ایک پرانی لغت میں مل گئے ہیں:
    وہ چیز جو فوت ہوچکی ہو
    یا
    ایسا کام جسے کرنے کا وقت گزر گیا ہو۔

    جگر کے شعر کا مفہوم ان معنوں کی روشنی میں بہت واضح ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. مجاز

    مجاز محفلین

    مراسلے:
    143
    دردِ غمِ فراق کے یہ سخت مرحلے
    حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم، اتنے حسیں رہے

    بہت خوب۔۔۔!!

    بہت عمدہ کلام ہے۔۔ اور ابھی یہ ٹاپک پڑھتے ہوئے سرچ کے دوران، عابدہ پروین کی آواز میں یہ کلام ملا ہے، سن کر لطف آگیا ہے :)
    شکریہ اتنی اچھی شئیرنگ کے لئے جناب:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر