انشا اللہ خان انشا کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں۔ انشاء اللہ خان انشاّ‌کی مشہور غزل

جیہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 2, 2009

  1. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,025
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    انشاء اللہ انشاء کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی یہ غزل سکول کے زمانے سے میری پسندیدہ ہے۔ یہی وہ غزل ہے جسے انشاء نے آخری مرتبہ منظر عام پر آکر کہی تھی۔ مولانا محمد حسین آزاد نے انشاء اور اس غزل کے بارے میں اپنی کتاب آب حیات میں جو نقشہ کھینچا ہے، وہ پر تاثیر ہے



    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں

    تصور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی ہر
    غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں

    بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
    نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں

    یہ اپنی چال ہے افتادگی سے اب کہ پہروں تک
    نظر آیا جہاں پر سایہء دیوار بیٹھے ہیں

    کہاں صبر و تحمل، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
    یہاں رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں

    نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
    جہاں پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں

    بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشا
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 15
    • زبردست زبردست × 5
  2. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    السلام علیکم
    محترمہ جیہ بہنا
    سدا خوش و آباد رہیں آمین
    بہت خوب
    بہت شکریہ
    "گزرا زمانہ یاد آیا "
    نایاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. ملائکہ

    ملائکہ محفلین

    مراسلے:
    10,592
    موڈ:
    Daring
    شکریہ جیہ سس:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,512
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    واہ واہ ! انشا اللہ خان انشا کی مشہورِ زمانہ غزل۔ بہت شکریہ جویریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. آصف شفیع

    آصف شفیع محفلین

    مراسلے:
    501
    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں


    بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشا
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

    بہت خوب۔ یہ تین اشعار تو مشہورِ زمانہ ہیں اور زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ شکریہ پوسٹ کرنے کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,701
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ جیہ سدا بہار غزل شیئر کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,025
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    آپ سب کا بہت بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,902
    بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
    نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں

    بہت خوب جناب عمدہ انتخاب ہے
     
  9. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,685
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    آج جلیل قدوائی کا ایک انتخاب نظر سے گزرا اور اس میں اس مشہورِ زمانہ غزل کے چند مصرعے مختلف شکل میں درج تھے جب کہ ایک شعر بھی اضافی موجود تھا۔ اضافی شعر اور مختلف شکل کے مصرعے سرخ رنگ میں درج کر رہا ہوں۔

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں

    تصور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی ہر
    خیال ان کا پرے ہے عرشِ اعظم سے کہیں ساقی
    غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں

    بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
    نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں

    یہ اپنی چال ہے افتادگی سے اب کہ پہروں تک
    یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں
    نظر آیا جہاں پر سایہء دیوار بیٹھے ہیں

    کہاں صبر و تحمل، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
    کہیں ہیں صبر کس کو، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
    یہاں رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں
    غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں

    نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
    جہاں پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں

    نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے
    ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں

    بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشا
    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشا
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,025
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    آ جا اوپر
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کیا اس غزل میں کچھ نئے شعر شامل کرنے ہیں جو اوپر لائی ہو۔
     
  12. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,025
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    نہیں وہ فاتح نےشامل کر دئے تھے گھڑ کر:)
     
  13. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,606
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میں سمجھا شاید 5 سال میں کوئی "آمد" ہوئی ہو۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,512
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کلیاتِ انشا مطبع نول کشور 1876 سے دیکھ کر یہ غزل نقل کی گئی۔

    کمر باندھے ہوئے چلنے پہ یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں

    خیال ان کا پرے ہے عرشِ اعظم سے کہیں ساقی
    غرض کچھ اور دھُن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں

    بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
    نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں

    یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں
    نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں

    کہیں ہیں صبر کس کو، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
    غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں

    کہیں بوسہ کی مت جرات دلا کر بیٹھیو ان سے
    ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں، ہشیار بیٹھے ہیں

    نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
    جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں

    نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے
    ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں

    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشا
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

    (انشاءاللہ خان انشا)
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر