کلام رفیع الدین راز

F@rzana

محفلین
گذشتہ دنوں ‘فنکار ود فرزانہ‘ میں کراچی پاکستان سے تشریف لائے ہوئے محترم شاعر و بیحد مخلص انسان جناب رفیع الدین راز کا انٹرویو لیا تھا، جیسا کہ باجو نے بھی اطلاع پہنچادی تھی، سو حسب وعدہ ان کے کلام کا کچھ نمونہ حاضر خدمت ہے،
راز صاحب کی شاعری ایک مخصوص مطالعے کا تقاضہ کرتی ہے، ان کی حیات افزا تراکیب ایک اسلوب کو تراش کر خوش فکر زندگی بسر کرنے کی بشارت دیتی ہیں،
پانچ کتابوں کے خالق ہیں ایک مسدس ہے، جبکہ تازہ ترین مجموعہ نظموں پر مشتمل ہے بعنوان ‘ابھی دریا میں پانی ہے‘

تبصرہ و تجاویز کے لیے یہ دھاگہ حاضر ہے
 

F@rzana

محفلین
جناب رفیع الدین راز

شعور و فکر کا ہر زاویہ سنور جائے
فریب ذات کا نشہ اگر اتر جائے

اسے ملال کہ انسان اب نہیں ملتا
مجھے یہ خوف کہیں آدمی نہ مر جائے

نہ کوئی در ہے مقفل نہ بند کوئی گلی
رکے بغیر کوئی کس طرح گزر جائے

یہ وہ سفر ہے کہ مہلت نہیں ہے پل بھر کی
ذرا سی چوک ہو اور وقت وار کر جائے

لکیریں ہاتھ کی ہوجائیں ریزہ ریزہ کیوں
متاع جستجو مٹھی میں کیوں بکھر جائے

عجیب وصف ہے رکھا خدا نے بچوں میں
گلے لگاؤ تو خوابوں سے آنکھ بھر جائے

یہ اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش ہے
نگاہ جب بھی اٹھے اپنے عکس پر جائے

میں اپنے آپ کو شاید کہ جاکے چھولوں راز
ذرا سی دیر کو یہ وقت گر ٹہر جائے

رفیع الدین راز۔ ۔ ۔ کراچی
 
Top