1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

جون ایلیا کلام جون ایلیا

عرفان سرور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 25, 2011

  1. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
    بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

    خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
    کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

    یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
    وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

    وفا، اخلاص، قربانی،مرو ّت
    اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

    سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
    پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم

    زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
    بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کری ہم

    ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
    تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

    کیا تھا عہد جب لحموں میں ہم نے
    تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم

    اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
    فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم

    جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
    وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم

    نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
    تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم

    برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
    بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم

    ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
    سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم

    پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
    زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم

    یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
    یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم

    جون ایلیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  2. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہم جو گاتے چلے گئے ہوں گے
    زخم کھاتے چلے گئے ہوں گے

    تھا ستم بار بار کا ملنا
    لوگ بھاتے چلے گئے ہوں گے

    دور تک باغ اُسکی یادوں کے
    لہلہاتے چلے گئے ہوں گے

    دشتِ آشفتگی میں خاک بسر
    خاک اُڑاتے چلے گئے ہوں گے

    فکر اپنے شرابیوں کی نہ کر
    لڑکھڑاتے چلے گئے ہوں گے

    ہم خود آزار تھے سو لوگوں کو
    آزماتے چلے گئے ہوں گے

    ہم جو دُنیا سے تنگ آئے ہیں
    تنگ آتے چلے گئے ہوں گے

    جون ایلیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شوق کا رنگ بُجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے
    کیا میری فصل ہو چُکی کیا میرے دن گُزر گئے


    راہگُزرِ خیال میں دوش بدوش تھے جو لوگ
    وقت کے گردباد میں جانے کہاں بکھر گئے


    شام ہے کتنی بے تپاک شہر ہے کتنا سہم ناک
    ہم نفسو کہاں ہو تم جانے یہ سب کدھر گئے


    آج کی شام ہے عجیب کوئی نہیں میرے قریب
    آج سب اپنے گھر رہے آج سب اپنے گھر گئے


    رونقِ بزمِ زندگی طُرفہ ہیں تیرے لوگ بھی
    اک تو کبھی نہ آئے تھے، گئے تو رُوٹھ کر گئے


    خوش نفسانِ بےنوا، بے خبرانِ خوش ادا
    تِیرہ نصیب تھے مگر شہر میں نام کر گئے


    آپ بھی جون ایلیا سوچئے اب دھرا ہے کیا
    آپ بھی اب سدھاریئے آپ کے چارہ گر گئے


    جون ایلیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    چاہتا ھوں کہ بھول جاؤں تمہیں
    چاہتا ھوں کہ بھول جاؤں تمہیں

    اور یہ سب دریچہ ھائے خیال
    جو تمہاری ھی سمت کھلتے ھیں

    بند کر دوں کہ کچھ اسطرح کہ یہاں
    یاد کی اک کرن بھی آ نہ سکے

    چاھتا ھوں کہ بھول جاؤں تمہیں
    اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں

    جیسے تم صرف اک کہانی تھیں
    جیسے میں صرف اک فسانہ تھا

    جون ایلیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    سو وہ آنسو ھمارے آخری آنسو تھے
    جو ھم نے گلے ملکر بہائے تھے
    نہ جانے وقت ان آنکھوں سے پھر کس طور پیش آیا
    مگر میری فریب وقت کی بہکی ھوئی آنکھوں نے
    اس کے بعد بھی
    آنسو بہائے ھیں
    مرے دل نے بہت سے دکھ رچائے ھیں
    مگر یوں ھے کہ ماہ و سال کی اس رائیگانی میں
    مری آنکھیں
    گلے ملتے ھوئے رشتوں کی فرقت کے وہ آنسو
    پھر نہ رو پائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جانے کب سے
    مجھے یاد بھی تو نہیں جانے کب سے
    ھم اک ساتھ گھر سے نکلتے ھیں
    اور شام کو
    ایک ھی ساتھ گھر لوٹتے ھیں
    مگر ھم نے اک دوسرے سے
    کبھی حال پرسی نہیں کی
    نہ اک دوسرے کو
    کبھی نام لے کر مخاطب کیا
    جانے ھم کون ھیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
    کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ھے

    حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام
    عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ھرجائی ھے

    آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
    جوں ھی دروازہ کھولا ھے اس کی خوشبو آئی ھے

    ایک تو اتنا حبس ھے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ھوں
    ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کون سا قافلہ ھے یہ ، جس کے جرس کا ھے یہ شور
    میں تو نڈھال ھو گیا ، ھم تو نڈھال ھو گئے

    خار بہ خار گل بہ گل فصل بہار آ گئی
    فصل بہار آ گئی ، زخم بحال ھو گئے

    شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
    خوں بہا مگر ترے ھاتھ تو لال ھو گئے

    ھم نفسان وضع دار ، مستمعان بردبار
    ھم تو تمہارے واسطے ایک وبال ھو گئے

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر ھو چکے اب کئی سال ھو گئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ھوئی
    لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ھوں میں

    اک حسن بے مثال کی تمثیل کے لیے
    پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رھا ھوں میں

    اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
    ذروں کو آفتاب بناتا رھا ھوں میں

    کیا مل گیا ضمیر ھنر بیچ کر مجھے
    اتنا کہ صرف کام چلاتا رھا ھوں میں

    کل دوپہر عجیب سی اک بےدلی رھی
    بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رھا ھوں میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    تم حقیقت نہیں ھو حسرت ھو
    جو ملے خواب میں وھی دولت ھو

    میں تمہارے ھی دم سے زندہ ھوں
    مر ھی جاؤں جو تم سے فرصت ھو

    تم ھو خوشبو کے خواب کی خوشبو
    اور اتنی ھی بے مروت ھو

    تم ھو انگڑائی رنگ و نکہت کی
    کیسے انگڑائی سے شکایت ھو

    کس طرح تمہیں چھوڑ دوں جاناں
    تم مری زندگی کی عادت ھو

    کس لیے دیکھتی ھو آئینہ
    تم تو خود سے بھی خوبصورت ھو

    داستاں ختم ھونے والی ھے
    تم مری آخری محبت ھو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہم رہے پر نہیں رہے آباد
    یاد کے گھر نہیں رہے آباد

    کتنی آنکھیں ہوئی ہلاک ِ نظر
    کتنے منظر نہیں رہے آباد

    ہم کہ اے دل سخن تھے سر تا پا
    ہم لبوں پر نہیں رہے آباد

    شہرِ دل میں عجب محلے تھے
    جن میں اکثر نہیں رہے آباد

    جانے کیا واقعہ ہوا، کیوں لوگ
    اپنے اندر نہیں رہے آباد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
    شکریہ مشورت کا چلتے ہیں

    ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
    دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں

    کیا تکلف کریں‌ یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ہے اُسے دُور کا سفر درپیش
    ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں

    تم بنو رنگ، تم بنو خوش بُو
    ہم تو اپنے سخن میں‌ ڈھلتے ہیں

    ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
    چل نہ پڑیے تو پائوں جلتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
    خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا

    کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
    تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

    تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
    میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا

    جو بھی ہو تم پہ معترض، اُس کو یہی جواب دو
    آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا

    جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
    ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا

    نسبتِ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز
    اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیاچ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک سایہ مرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا

    وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
    میں بھی حُجرے سے کم نکلتا تھا

    تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کے جو
    تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا

    جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
    وصل سے انتظار اچھا تھا

    بات تو دل شکن ہے پر، یارو!
    عقل سچی تھی، عشق جھوٹا تھا

    اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
    مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا

    جسم کی صاف گوئی کے با وصف
    روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
    زہر جیسی کچھ دوائیں چاہییں
    پوچھتی ہیں آپ، آپ اچھے تو ہیں
    جی میں اچھا ہوں‌، دعائیں چاہییں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    میری عقل و ہوش کی سب حالتیں
    تم نے سانچے میں جنوں‌ کے ڈھال دیں
    کر لیا تھا میں نے عہدَ ترکَ عشق
    تم نے پھر بانہیں‌ گلے میں‌ ڈال دیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    حال خوش تذکرہ نگاروں کا
    تھا تو اک شہر خاکساروں کا

    پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
    اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا

    کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
    بسترا اب کہاں ہے یاروں کا

    چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
    کون پُرساں ہے یادگاروں کا

    اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
    مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا

    ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
    عیش مت پوچھ دعویداروں کا

    کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
    نہ پیادوں کا نہ سواروں کا

    بات تشبیہہ کی نہ کیجو تُو
    دہر ہے صرف استعاروں کا

    میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
    کیا ہوا جانے جانثاروں کا

    کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
    ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
    پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے

    ہے ندامت لہو نہ رویا دل
    زخم دل کے کسی چٹان میں تھے

    میرے کتنے ہی نام اور ہمنام
    میرے اور میرے درمیان میں تھے

    میرا خود پر سے اِعتماد اُٹھا
    کتنے وعدے مری اُٹھان میں تھے

    تھے عجب دھیان کے در و دیوار
    گرتے گرتے بھی اپنے دھیان میں تھے

    واہ! اُن بستیوں کے سنّاٹے
    سب قصیدے ہماری شان میں تھے

    آسمانوں میں گر پڑے یعنی
    ہم زمیں کی طرف اُڑان میں تھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    وہ جو کیا کچھ نا کرنے والے تھے
    بس کوئی دم نہ بھرنے واے تھے

    تھے گلے اور گرد باد کی شام
    اور ہم سب بکھرنے والے تھے

    وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں
    آج ہم رنگ بھرنے والے تھے

    صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں
    تم نہ سنوارے ، سنوارنے والے تھے

    یوں تو مرنا ہے اک بار مگر
    ہم کئی بار مرنے والے تھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. عرفان سرور

    عرفان سرور محفلین

    مراسلے:
    838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
    میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

    تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں
    بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو

    تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
    کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو

    جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا
    یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو

    کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
    میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو

    تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
    کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر