سعود عثمانی کشیدہ پر کو مخالف ہوا بھی ملتی ہے............سعود عثمانی

قرۃالعین اعوان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 13, 2012

  1. قرۃالعین اعوان

    قرۃالعین اعوان محفلین

    مراسلے:
    8,647
    موڈ:
    Lurking
    کشیدہ پر کو مخالف ہوا بھی ملتی ہے
    یہ وہ ہنر ہے کہ جس کی سزا بھی ملتی ہے

    تیری شبیہ جو ملتی نہیں کسی سے کبھی
    کبھی کبھی کسی چہرے سے جا بھی ملتی ہے

    میں اپنے ساتھ بہت دور جا نکلتا ہوں
    اگر کبھی مجھے فرصت ذرا بھی ملتی ہے

    یہ سیپیوں کی خموشی ہے کان دھر کے سنو
    سمندروں کی اسی میں صدا بھی ملتی ہے

    تو جانتا نہیں مٹی کی برکتیں کہ یہیں
    خدا بھی ملتا ہے، خلقِ خدا بھی ملتی ہے

    میں اک شجر سے لپٹتا ہوں آتے جاتے ہوئے
    سکوں بھی ملتا ہے مجھ کو، دعا بھی ملتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر