کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں
شکوہ کریں کہ شرحءحالات ہم کریں

کچھ دیر کو سہی ، پہ ملے درد سے نجات
کچھ دیر کو تو دل کی مدارات ہم کریں

مانا کہ اُن کی بزم میں ہے اذنِ گفتگو
اتنا بھی اب نہیں کہ سوالات ہم کریں

جب تک ہیں درمیان روایات اور اصول
دشمن سے کیسے ختم تضادات ہم کریں

وقتِ عمل ہے دوستو ! اب کیسا انتظار
آتے رہیں گے لوگ شروعات ہم کریں

سجدے میں سرجھکے ہیں مگر دل میں وسوسہ
الحمد ہم کہیں کہ مُناجات ہم کریں

شکوے سبھی لبوں پہ زمانے کے ہیں ظہیر
آؤ ذرا سا ذکرِ عنایات ہم کریں

ظہیراحمدظہیر ۔۔۔۔۔۔۔ ۱۹۹۷
ٹیگ: فاتح محمد تابش صدیقی سید عاطف علی کاشف اختر
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
واہ بہت خوب ظہیر بھائی۔
اس مصرع میں شرح ہے یا شرحہ؟
شکوہ کریں کہ شرحء حالات ہم کریں
 
واہ
جب تک ہیں درمیان روایات اور اصول
دشمن سے کیسے ختم تضادات ہم کریں
بہت خوب
وقتِ عمل ہے دوستو ! اب کیسا انتطار
آتے رہیں گے لوگ شروعات ہم کریں
انتظار میں غلطی سے ظ کی جگہ ط ٹائپ ہو گیا ہے۔

کاش کہ ہم لوگ شکر گزار ہو جائیں۔
شکوے سبھی لبوں پہ زمانے کے ہیں ظہیر
آؤ ذرا سا ذکرِ عنایات ہم کریں
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ بہت خوب ظہیر بھائی۔
اس مصرع میں شرح ہے یا شرحہ؟
شکوہ کریں کہ شرحء حالات ہم کریں
فاتح بھائی شرح ہے۔ اگرچہ عربی میں شرح بالفتح اول و دوم ہے لیکن اردو میں رائے ساکن سے مستعمل ہے۔ نیر صاحب نے نوراللغات میں ناسخ کا شعر بطور حوالہ نقل کیا ہے۔
چنانچہ میرے خیال میں رائے ساکن کے ساتھ شرحِ حالات = شرحائے حالات ہوگا۔

فاتح بھائی یہی استفسار تھا یا میں غلط سمجھا ہوں ؟
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھائی شرح ہے۔ اگرچہ عربی میں شرح بالفتح اول و دوم ہے لیکن اردو میں رائے ساکن سے مستعمل ہے۔ نیر صاحب نے نوراللغات میں ناسخ کا شعر بطور حوالہ نقل کیا ہے۔
چنانچہ میرے خیال میں رائے ساکن کے ساتھ شرحِ حالات = شرحائے حالات ہوگا۔

فاتح بھائی یہی استفسار تھا یا میں غلط سمجھا ہوں ؟

کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں
شکوہ کریں کہ شرحءحالات ہم کریں
فعلن مفاعلن فعِلاتن مفاعلن

فعلن ۔۔ مفاعلن ۔۔۔ فعِلاتن ۔۔۔۔ مفاعلن
کس طو ۔ ر اُن سے آ ۔ ج ملاقا ۔۔۔ ت ہم کریں
شکوہ ۔ کریں کہ شر۔۔حِ حالا ۔۔۔۔ت ہم کریں

کیا اس مصرع میں "حِ حالا" کو بر وزن فعِلاتن باندھا گیا ہے؟

شرحِ حالات کو "شرحائے" حالات کیسے پڑھا یا باندھا جا سکتا ہے؟
 
ظہیر بھائی آپ برا نہ مانیں تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ پھر سے چھا گئے ہیں۔
کچھ دیر کو سہی ، پہ ملے درد سے نجات
کچھ دیر کو تو دل کی مدارات ہم کریں
مانا کہ اُن کی بزم میں ہے اذنِ گفتگو
اتنا بھی اب نہیں کہ سوالات ہم کریں
جب تک ہیں درمیان روایات اور اصول
دشمن سے کیسے ختم تضادات ہم کریں
بہت خوب۔ کیا اسلوب ہے۔واہ واہ
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں
شکوہ کریں کہ شرحءحالات ہم کریں
فعلن مفاعلن فعِلاتن مفاعلن

فعلن ۔۔ مفاعلن ۔۔۔ فعِلاتن ۔۔۔۔ مفاعلن
کس طو ۔ ر اُن سے آ ۔ ج ملاقا ۔۔۔ ت ہم کریں
شکوہ ۔ کریں کہ شر۔۔حِ حالا ۔۔۔۔ت ہم کریں

کیا اس مصرع میں "حِ حالا" کو بر وزن فعِلاتن باندھا گیا ہے؟

شرحِ حالات کو "شرحائے" حالات کیسے پڑھا یا باندھا جا سکتا ہے؟
فاتح بھائی! اب سمجھا میں آپ کا سوال ۔:) سوال شرح کے تلفظ کے بارے میں نہیں بلکہ اس کی اضافت کے بارے میں تھا ۔ میں نے صرف تلفظ کی وضاحت کے لئے ’’شرحائے‘‘ لکھا تھا لیکن اصل تو شرحہءحالات ہے اور تقطیع بھی ’’شرحہء ‘‘ ہی ہوا ہے۔

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن ۔ بحر مضارع
شکوہ ک۔ رے ک شرح۔ءحالات ۔ہم کرے
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھائی! اب سمجھا میں آپ کا سوال ۔:) سوال شرح کے تلفظ کے بارے میں نہیں بلکہ اس کی اضافت کے بارے میں تھا ۔ میں نے صرف تلفظ کی وضاحت کے لئے ’’شرحائے‘‘ لکھا تھا لیکن اصل تو شرحہءحالات ہے اور تقطیع بھی ’’شرحہء ‘‘ ہی ہوا ہے۔

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن ۔ بحر مضارع
شکوہ ک۔ رے ک شرح۔ءحالات ۔ہم کرے
میری رائے میں شرحِ کی تقطیع شرحۂ کرنا درست نہیں۔
یہ تو آپ ایک اضافی حرف "ہ" لا کر شامل کر رہے ہیں جو اصل لفظ میں موجود ہی نہیں۔
اگر ایسے ہی رہنے دینا چاہتے ہیں تب اسے شرحۂ حالات کی بجائے محض شرحِ حالات ہی پڑھتے رہیں اور اس مصرع کی تقطیع میں "فعِلاتن" کو فعلاتن (ع ساکن) یا مفعولن سے تبدیل کر دیں۔ عروض کے قواعد میں بہرحال اس تسکین اوسط کی اجازت موجود ہے گو کہ اردو عروض میں ہم اسے شاذ ہی استعمال کرتے ہیں۔
یعنی اس مصرع کی تقطیع یوں ہو جائے گی
فعلن ۔۔ مفاعلن ۔۔۔ مفعولن۔۔۔۔ مفاعلن
شکوہ ۔ کریں کہ شر۔۔حِ حالا ۔۔۔۔ت ہم کریں
شکوہ ۔ کرے کِ شر۔۔حے حالا ۔۔۔۔ت ہم کرے
:)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میری رائے میں شرحِ کی تقطیع شرحۂ کرنا درست نہیں۔
یہ تو آپ ایک اضافی حرف "ہ" لا کر شامل کر رہے ہیں جو اصل لفظ میں موجود ہی نہیں۔
اگر ایسے ہی رہنے دینا چاہتے ہیں تب اسے شرحۂ حالات کی بجائے محض شرحِ حالات ہی پڑھتے رہیں اور اس مصرع کی تقطیع میں "فعِلاتن" کو فعلاتن (ع ساکن) یا مفعولن سے تبدیل کر دیں۔ عروض کے قواعد میں بہرحال اس تسکین اوسط کی اجازت موجود ہے گو کہ اردو عروض میں ہم اسے شاذ ہی استعمال کرتے ہیں۔
یعنی اس مصرع کی تقطیع یوں ہو جائے گی
فعلن ۔۔ مفاعلن ۔۔۔ مفعولن۔۔۔۔ مفاعلن
شکوہ ۔ کریں کہ شر۔۔حِ حالا ۔۔۔۔ت ہم کریں
شکوہ ۔ کرے کِ شر۔۔حے حالا ۔۔۔۔ت ہم کرے
:)
فاتح بھائی ۔ دیکھنا پڑے گا اس کو ۔ میرے کان اسے شرحہء ہی سنتے آئے ہیں جو کہ غلط بھی ہوسکتا ہے ۔ اٹھارہ سال پرانی غزل ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ مصرع بدل ڈالوں ۔ بہت بہت شکریہ۔ توجہ کیلئے ممنون ہوں۔
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھائی ۔ دیکھنا پڑے گا اس کو ۔ میرے کان اسے شرحہء ہی سنتے آئے ہیں جو کہ غلط بھی ہوسکتا ہے ۔ اٹھارہ سال پرانی غزل ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ مصرع بدل ڈالوں ۔ بہت بہت شکریہ۔ توجہ کیلئے ممنون ہوں۔
بڑا پن ہے آپ کا کہ میری گستاخی کو محبت سے لیا۔
دراصل شرح کا حال بھی شمع سے ملتا جلتا ہے۔ جیسے شمع کو عموماًہم ہر کسی سے شمعہ یا شمّا (شم۔ما) سنتے ہیں لیکن بحیثیت شاعر جب اسے شعر میں باندھنا ہو تو ہمیں درست تلفظ ہی باندھنا ہو گا ۔
ویست تو تسکین اوسط کی اجازت سے مصرع اب بھی وزن کے اعتبار سے درست ہی ہے لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ شاید آپ نے تسکین اوسط کی اجازت کو استعمال نہیں کیا بلکہ شرح کو شرحہ باندھا ہوا ہے، اسی لیے سوال اٹھایا تھا۔
 

سارہ خان

محفلین
جب تک ہیں درمیان روایات اور اصول
دشمن سے کیسے ختم تضادات ہم کریں

واہ واہ ۔۔ بہت اچھی پروئے ہیں الفاظ آپ نے ۔۔ :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بڑا پن ہے آپ کا کہ میری گستاخی کو محبت سے لیا۔
دراصل شرح کا حال بھی شمع سے ملتا جلتا ہے۔ جیسے شمع کو عموماًہم ہر کسی سے شمعہ یا شمّا (شم۔ما) سنتے ہیں لیکن بحیثیت شاعر جب اسے شعر میں باندھنا ہو تو ہمیں درست تلفظ ہی باندھنا ہو گا ۔
ویست تو تسکین اوسط کی اجازت سے مصرع اب بھی وزن کے اعتبار سے درست ہی ہے لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ شاید آپ نے تسکین اوسط کی اجازت کو استعمال نہیں کیا بلکہ شرح کو شرحہ باندھا ہوا ہے، اسی لیے سوال اٹھایا تھا۔
فاتح بھائی ! گستاخی کی بات ہی نہیں ۔۔ گفتگو علمی ہورہی ہے کہ جس میں ادب پہلا قرینہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔:)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میری رائے میں شرحِ کی تقطیع شرحۂ کرنا درست نہیں۔
یہ تو آپ ایک اضافی حرف "ہ" لا کر شامل کر رہے ہیں جو اصل لفظ میں موجود ہی نہیں۔
اگر ایسے ہی رہنے دینا چاہتے ہیں تب اسے شرحۂ حالات کی بجائے محض شرحِ حالات ہی پڑھتے رہیں اور اس مصرع کی تقطیع میں "فعِلاتن" کو فعلاتن (ع ساکن) یا مفعولن سے تبدیل کر دیں۔ عروض کے قواعد میں بہرحال اس تسکین اوسط کی اجازت موجود ہے گو کہ اردو عروض میں ہم اسے شاذ ہی استعمال کرتے ہیں۔
یعنی اس مصرع کی تقطیع یوں ہو جائے گی
فعلن ۔۔ مفاعلن ۔۔۔ مفعولن۔۔۔۔ مفاعلن
شکوہ ۔ کریں کہ شر۔۔حِ حالا ۔۔۔۔ت ہم کریں
شکوہ ۔ کرے کِ شر۔۔حے حالا ۔۔۔۔ت ہم کرے
:)

بڑا پن ہے آپ کا کہ میری گستاخی کو محبت سے لیا۔
دراصل شرح کا حال بھی شمع سے ملتا جلتا ہے۔ جیسے شمع کو عموماًہم ہر کسی سے شمعہ یا شمّا (شم۔ما) سنتے ہیں لیکن بحیثیت شاعر جب اسے شعر میں باندھنا ہو تو ہمیں درست تلفظ ہی باندھنا ہو گا ۔
ویست تو تسکین اوسط کی اجازت سے مصرع اب بھی وزن کے اعتبار سے درست ہی ہے لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ شاید آپ نے تسکین اوسط کی اجازت کو استعمال نہیں کیا بلکہ شرح کو شرحہ باندھا ہوا ہے، اسی لیے سوال اٹھایا تھا۔

فاتح بھائی ہماری یہ گفتگو تو کچھ دو لخت سی ہو گئی ۔ :):):)آپ شرح کے وزن کی بات کرتے رہے اور میں شرح ِ حالات کے وزن کی۔ بھئی شرح اور شمع کے عوامی تلفظ اوران کے درست صرفی وزن کا تو مجھے علم ہے اورمیں نے شرح کے ہجےاپنے پہلے مراسلے میں لکھ بھی دیئے تھے۔ میں تو بات یہ کررہا تھا کہ جب شرح کو مرکب اضافی میں استعمال کیا جائے تواس کا کیا وزن بنے گا۔ میں ہمیشہ "شرحہء" ہی سنتا آیا۔ جیسا کہ " شرحہء دیوانِ غالب" ۔ کوئی بھی اسے ’ ’شرحے دیوانِ غالب‘‘ نہیں کہتا۔ لیکن آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ املا کےاصول کے لحاظ سے درست شرح ِ دیوان ہی ہے ۔ اسے شرحہء نہیں باندھنا چاہیئے۔
جہاں تک بات تسکینِ اوسط کے استعمال کی ہے وہ اس بحر میں بالکل روا ہے۔ مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن (مضارع اخرب مکفوف محذوف) کو مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن (مضارع اخرب محذوف) میں حسبِ مرضی تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ آپ کا مشورہ بالکل درست ہے لیکن مجھے شرح ِ حالات میں ’’ح‘‘ کااتنا اشباع اچھا محسوس نہیں ہورہا ہے۔ روانی کم ہورہی ہے۔ کوشش کرتا ہوں کہ مصرع بدل ڈالوں ۔ اگر کچھ نہیں سوجھا تو پھر اسی کو رکھ لوں گا۔ اٹھارہ سال پرانی غزل ہے اب اس پر نظر ثانی کرنا بھی ایک مسئلہ ہے۔

فاتح بھائی جو بحر آپ اس غزل کی لکھ رہے ہیں وہ عروضی وزن کے اعتبار سے تو مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن کی ہموزن ہے لیکن یہ کوئی معروف و مطبوع بحر نہیں ہے کہ جسے کوئی نام دیا جاسکے۔ اور یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی معروف افاعیل کو جوڑ کر بحریں بنائی جاسکتی ہیں اور ان بحروں کا کسی ایک خاص عروضی دائرے میں واقع ہونا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی ان کا معروف و مطبوع بحور پر منطبق ہونا ضروری ہے ۔ ناک کو چاہے سیدھے ہاتھوں پکڑو یا ہاتھ گھماکر بات ایک ہی ہے ۔ بس ایک اہم فرق یہ ہےکہ درست بحر کی نشاندہی سے اس کے جائز زحافات اور دیگر عروضی اجازتوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ خیر ، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ فاتح ، آپ کی توجہ اور پرخلوص نشاندہی کا بہت بہت شکریہ ۔ امید ہے اسی طرح نظرِ عنایت کرتے رہیں گے۔ ایکبار پھر بیحد ممنون ہوں ۔
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھائی ہماری یہ گفتگو تو کچھ دو لخت سی ہو گئی ۔ :):):)آپ شرح کے وزن کی بات کرتے رہے اور میں شرح ِ حالات کے وزن کی۔ بھئی شرح اور شمع کے عوامی تلفظ اوران کے درست صرفی وزن کا تو مجھے علم ہے اورمیں نے شرح کے ہجےاپنے پہلے مراسلے میں لکھ بھی دیئے تھے۔ میں تو بات یہ کررہا تھا کہ جب شرح کو مرکب اضافی میں استعمال کیا جائے تواس کا کیا وزن بنے گا۔ میں ہمیشہ "شرحہء" ہی سنتا آیا۔ جیسا کہ " شرحہء دیوانِ غالب" ۔ کوئی بھی اسے ’ ’شرحے دیوانِ غالب‘‘ نہیں کہتا۔ لیکن آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ املا کےاصول کے لحاظ سے درست شرح ِ دیوان ہی ہے ۔ اسے شرحہء نہیں باندھنا چاہیئے۔
محبت ہے آپ کی
شرحِ اسبابِ گرفتاریِ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا

شرحِ ہنگامۂ مستی ہے، زہے! موسمِ گل
رہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین

سید عاطف علی

لائبریرین
لفظ شرح کی کافی "شرح "تو ہو چکی ، ایک معروف شعر ذہن میں فی الفور آتا ہے مولانا کا ، اگر چہ فارسی ہے۔ پر برمحل ہے کہ
سینہ خواہم شرحہ شرحہ از فراق
تا بگوئم شرحِ درد اشتیاق۔
۔ شرح (شرح ِ آرزو وغیرہ ) تو واضح ہے ہی۔ البتہ شرحہ فارسی میں کتلے(قاش) کی شکل کٹے ہوئے گوشت کو کہا گیا ہے اوراصل پر لوٹیں تو عربی میں بھی شریحۃ ۔(موبائل سم) کے لیے استعمال ہوگیا ہے ۔اس لیے کہ وہ بھی کارڈ کا کٹا ہوا حصہ ہے۔ بہر ہماری زبان تک پہنچتے ہوئے ۔ یہی اجمالی ومعنوی پہلو برقرار ہیں جہاں تک میں سمجھا :)۔
یہاں غزل کے لفظی پیرائے میں فاتح بھائی سے اتفاق کر تاہوں۔
بہرحال جو بھی ہے ہمارے منظور نظر تو پوری غزل بھی ہے اورحسب روایت خوب ہے ۔ ماشاء اللہ
 
Top