کس طرح دیکھوں خواب میں اپنی بھلائی کا ۔

عظیم

محفلین


کس طرح دیکھوں خواب میں اپنی بھلائی کا
جب تک نہیں خیال مجھے میرے بھائی کا

کس واسطے نہیں ہے اب آپس میں میل جول
یارو کوئی بتاؤ مجھے بھی لڑائی کا

الٹا ہے ڈر کہ ٹوٹ نہ جائے یہ حوصلہ
ہرگز نہیں ہے مان مجھے پارسائی کا

بندہ ہوں بندگی سے ہی مجھ کو ہے صرف کام
دل میں کوئی خیال نہیں ہے خدائی کا

میری طرف سے بس ہے کہ حاصل نہیں ہے کچھ
آپس میں اس طریق سے زور آزمائی کا

دل میں ہے نفرتوں کو مٹاؤں کسی طرح
ورنہ نہیں مقام یہ ہرگز صفائی کا



 
Top