کر اچی کو جہادی مدرسوں نے گھیر لیا، ہمارے علاقوں پر حملہ ہو اتو بھر پور دفاع کر ینگے۔

کاشف رفیق

محفلین
کراچی ( اسٹاف رپورٹر، پ ر ) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ہمارا فیصلہ اٹل ہے، ہم ڈنڈا بردار کلاشنکوفی شریعت ہرگز قبول نہیں کریں گے، کراچی کو جہادی مدرسوں نے گھیر لیا ہے، ایم کیو ایم کسی سے محاذ آرائی نہیں چاہتی لیکن اگر انتہا پسندوں نے ہمارے علاقوں پر حملہ کیا تو ہم بھی اسلام اور شریعت کے مطابق اپنا بھرپور دفاع کریں گے اور صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ مقابلہ کریں گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سالانہ امدادی پروگرام کے شرکا سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں تاجروں، صنعتکاروں، سائٹ ایسوسی ایشنوں کے نمائندوں، مختلف شعبہٴ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، حق پرست ارکان پارلیمنٹ، وزرا، رابطہ کمیٹی کے ارکان اورخدمت خلق فاوٴنڈیشن کے ٹرسٹیز سمیت لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں طالبانائزیشن اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ کراچی پر طالبانائزیشن کا خطرہ منڈلا رہا ہے، طالبان کے جہادی مدرسوں نے شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے تاکہ کراچی میں بھی قبائلی علاقوں کی طرح طالبان کا نظام رائج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سیکٹرز اور یونٹوں کے کارکن اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کیلئے اپنے اپنے علاقوں میں دن رات جاگ کر محنت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اسلام اور شریعت کے نام پر لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کو آگ لگاتے ہیں، خواتین کو گھروں میں بندکرکے رکھتے ہیں، ان کے چہروں پرتیزاب پھینکتے ہیں، جس کوچاہیں الزام لگا کر تلواروں سے گردنیں کاٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے تمام حاظرین خصوصاً مخیر حضرات سے کہاکہ وہ اپنے گھروں اورعلاقوں کی حفاظت سے قطعی طورپرغافل نہ ہوں اور حفاظتی بندوبست میں کوئی کوتاہی نہ کریں، میں کافی عرصے سے عوام کو کراچی میں طالبانائزیشن کی سازشوں سے آگاہ کر رہا ہوں اورکل عوام نے دیکھ لیا کہ بلدیہ ٹاوٴن میں 3 جہادیوں نے خودکودھماکے سے اڑالیا، ہلاک ہونیوالوں میں ایک ایسا بیگناہ بھی شامل تھا جسے ان دہشت گردوں نے تاوان کیلئے اغوا کیا تھا، ان دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدارمیں انتہائی خطرناک بارود C4 بھی برآمد ہوا، اگر یہ دہشت گرد اس بارود کو استعمال کرلیتے توکراچی میں بہت بڑی تباہی آتی۔ الطاف حسین نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مشکوک افرادپر نظررکھیں اور اگر کہیں مشکوک سرگرمی نظر آئے تو فوراً ایم کیو ایم کے ذمہ داران کو مطلع کریں تاکہ فوری طورپرگورنر، وزیراعلیٰ سندھ، وزیرداخلہ ، پولیس اورسی پی ایل سی کے حکام کوآگاہ کیاجاسکے۔ خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی امدادی اورفلاحی سرگرمیوں پرروشنی ڈالتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ خدمت خلق فاوٴنڈیشن کے تحت غریب ومستحق افراد کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے اور انہیں رزق حلال کمانے کا موقع فراہم کرنے کیلئے ہرسال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سالانہ امدادی پروگرام منعقد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1978ء میں تحریک کے وجودمیں آنے کے ساتھ ہی ”خدمت خلق کمیٹی“ کے نام سے فلاحی ادارہ تشکیل دیا گیا تھا جو کہ آج 2008ء تک ہر کڑے اور مشکل حالات کے باوجود سالانہ امدادی پروگرام تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ الطاف حسین نے کہاکہ خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں کا دائرہ ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیوایم کی سیاست کا بنیاد ی مقصد اقتدار نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی بلاامتیاز رنگ و نسل خدمت ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ انسان کی زندگی کا مقصد اگر صرف اپنی ذات کیلئے جینا ہو تو پھر انسان اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا، زندگی کا اصل مقصد ہے کہ انسان اپنے ساتھ دوسروں کیلئے بھی جیے۔ الطا ف حسین نے خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی ایمبولینس و میت بس سروس، بلڈ بینک، اسپتال اور دیگر شعبہ جات کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ایمبولینس سروس کا دائرہ شہر بھر میں پھیلانے میں نمایاں کردار اداکرنے پر خدمت خلق فاوٴنڈیشن کے ایڈمنسٹریٹر سلیم انصاری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ الطاف حسین نے خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی امدادی سرگرمیوں میں بھرپورمالی تعاون پر حق پرست عوام بالخصوص مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

سورس
 

خاور بلال

محفلین
کراچی ( اسٹاف رپورٹر، پ ر ) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ہمارا فیصلہ اٹل ہے، ہم ڈنڈا بردار کلاشنکوفی شریعت ہرگز قبول نہیں کریں گے، کراچی کو جہادی مدرسوں نے گھیر لیا ہے، ایم کیو ایم کسی سے محاذ آرائی نہیں چاہتی لیکن اگر انتہا پسندوں نے ہمارے علاقوں پر حملہ کیا تو ہم بھی اسلام اور شریعت کے مطابق اپنا بھرپور دفاع کریں گے اور صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ مقابلہ کریں گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سالانہ امدادی پروگرام کے شرکا سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں تاجروں، صنعتکاروں، سائٹ ایسوسی ایشنوں کے نمائندوں، مختلف شعبہٴ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، حق پرست ارکان پارلیمنٹ، وزرا، رابطہ کمیٹی کے ارکان اورخدمت خلق فاوٴنڈیشن کے ٹرسٹیز سمیت لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں طالبانائزیشن اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ کراچی پر طالبانائزیشن کا خطرہ منڈلا رہا ہے، طالبان کے جہادی مدرسوں نے شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے تاکہ کراچی میں بھی قبائلی علاقوں کی طرح طالبان کا نظام رائج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سیکٹرز اور یونٹوں کے کارکن اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کیلئے اپنے اپنے علاقوں میں دن رات جاگ کر محنت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اسلام اور شریعت کے نام پر لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کو آگ لگاتے ہیں، خواتین کو گھروں میں بندکرکے رکھتے ہیں، ان کے چہروں پرتیزاب پھینکتے ہیں، جس کوچاہیں الزام لگا کر تلواروں سے گردنیں کاٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے تمام حاظرین خصوصاً مخیر حضرات سے کہاکہ وہ اپنے گھروں اورعلاقوں کی حفاظت سے قطعی طورپرغافل نہ ہوں اور حفاظتی بندوبست میں کوئی کوتاہی نہ کریں، میں کافی عرصے سے عوام کو کراچی میں طالبانائزیشن کی سازشوں سے آگاہ کر رہا ہوں اورکل عوام نے دیکھ لیا کہ بلدیہ ٹاوٴن میں 3 جہادیوں نے خودکودھماکے سے اڑالیا، ہلاک ہونیوالوں میں ایک ایسا بیگناہ بھی شامل تھا جسے ان دہشت گردوں نے تاوان کیلئے اغوا کیا تھا، ان دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدارمیں انتہائی خطرناک بارود C4 بھی برآمد ہوا، اگر یہ دہشت گرد اس بارود کو استعمال کرلیتے توکراچی میں بہت بڑی تباہی آتی۔ الطاف حسین نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مشکوک افرادپر نظررکھیں اور اگر کہیں مشکوک سرگرمی نظر آئے تو فوراً ایم کیو ایم کے ذمہ داران کو مطلع کریں تاکہ فوری طورپرگورنر، وزیراعلیٰ سندھ، وزیرداخلہ ، پولیس اورسی پی ایل سی کے حکام کوآگاہ کیاجاسکے۔ خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی امدادی اورفلاحی سرگرمیوں پرروشنی ڈالتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ خدمت خلق فاوٴنڈیشن کے تحت غریب ومستحق افراد کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے اور انہیں رزق حلال کمانے کا موقع فراہم کرنے کیلئے ہرسال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سالانہ امدادی پروگرام منعقد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1978ء میں تحریک کے وجودمیں آنے کے ساتھ ہی ”خدمت خلق کمیٹی“ کے نام سے فلاحی ادارہ تشکیل دیا گیا تھا جو کہ آج 2008ء تک ہر کڑے اور مشکل حالات کے باوجود سالانہ امدادی پروگرام تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ الطاف حسین نے کہاکہ خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں کا دائرہ ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیوایم کی سیاست کا بنیاد ی مقصد اقتدار نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی بلاامتیاز رنگ و نسل خدمت ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ انسان کی زندگی کا مقصد اگر صرف اپنی ذات کیلئے جینا ہو تو پھر انسان اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا، زندگی کا اصل مقصد ہے کہ انسان اپنے ساتھ دوسروں کیلئے بھی جیے۔ الطا ف حسین نے خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی ایمبولینس و میت بس سروس، بلڈ بینک، اسپتال اور دیگر شعبہ جات کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ایمبولینس سروس کا دائرہ شہر بھر میں پھیلانے میں نمایاں کردار اداکرنے پر خدمت خلق فاوٴنڈیشن کے ایڈمنسٹریٹر سلیم انصاری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ الطاف حسین نے خدمت خلق فاوٴنڈیشن کی امدادی سرگرمیوں میں بھرپورمالی تعاون پر حق پرست عوام بالخصوص مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

سورس

الطاف بھائ کو لندن میں بیٹھ کر بیانات کی کیچڑ اچھالنے کا بہت شوق ہے۔ انہیں ہر کچھ عرصے بعد ایک بڑا خطرہ کراچی پر منڈلاتا ہوا نظر آتا ہے۔ کراچی الطاف بھائ کے والد صاحب کا نہیں ہے بلکہ یہاں رہنے والوں کا ہے۔ اور یہاں رہنے والوں میں مہاجر، سندھی، بلوچ، پنجابی، کشمیری اور سب سے بڑی تعداد میں پٹھان ہیں، اور یہ سب اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ اس بیان کا ایک مطلب یہ ہے کراچی والے ایک دفعہ پھر الطاف بھائ کی لگائ ہوئ آگ میں کودنے کےلیے تیار ہوجائیں۔ اگر طالبان ابھی تک کراچی پر قبضہ کا ارادہ نہیں بھی رکھتے تو اب الطاف بھائ انہیں چیلنج دے رہے ہیں کہ آؤ کراچی ہم تیار ہیں۔
 

طالوت

محفلین
اپنی کرسی کون چھیننے دیتا ہے ؟ یہ نہ تو کراچی سے محبت ہے اور نہ کراچی والوں سے ،،،،
وطن سے محبت میں ہی موصوف سالوں سے پاکستان نہیں آے اور نہ ہی آنے والے ہیں ،،، اسی طرح ہمارے جیالوں کی محترمہ بھی تھیں ،، موصوفہ حکومتی دنوں میں یہاں اور ویسے وہاں
پتہ نہیں اس قوم کو عقل کب آئے گی
وسلام
 

آبی ٹوکول

محفلین
اپنی کرسی کون چھیننے دیتا ہے ؟ یہ نہ تو کراچی سے محبت ہے اور نہ کراچی والوں سے ،،،،
وطن سے محبت میں ہی موصوف سالوں سے پاکستان نہیں آے اور نہ ہی آنے والے ہیں ،،، اسی طرح ہمارے جیالوں کی محترمہ بھی تھیں ،، موصوفہ حکومتی دنوں میں یہاں اور ویسے وہاں
پتہ نہیں اس قوم کو عقل کب آئے گی
وسلام
بھائی معذرت کے ساتھ کہ یہ معاملہ محض عقل کا نہیں عقل تو اس قوم کو بڑی ہے جہاں ذاتی منفعت ہو وہاں ہماری قوم خوب عقل کا مظاہرہ کرتی ہے کبھی اپنی زات کے لیے ہم نے گھاٹے کا سودا نہیں کیااور نہ ہی کبھی اپنی ذات کے حصار تک ہم کبھی خسارے میں رہے وجہ ہماری عقل و سوچ ہماریے پیٹ سے آگے ہی جو نہیں بڑھتی لہزا میرے نزدیک اصل مسئلہ شعور کا ہے :grin1:
۔ ۔ ۔
 

ساجداقبال

محفلین
جزاک اللہ حضرت الطاف حسین المعروف لندن والی سرکار کے خیالات واقعی قابل قدر ہیں۔ اگر کوئی آڈیو فراہم کر دیتا تو کچھ ہنسنے ہنسانے کا سامان ہو جاتا۔
 

مغزل

محفلین
اماں لاحول ولا قوۃ الا باللہ
یعنی آبیل مجھے مار !!
کون نہیں جانتا کہ کراچی کے لگ بھگ 24000 نفوس (جس میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی)
کو غارت کرنے والا کون ۔۔۔ چڈا گروپ چھلاوا گروپ کے نام پر اپنی ’’تحریک ‘‘ و نظریات سے
وابستہ لوگوں کے گھروں میں ’’ شہیدوں‘‘ کی کوئی کنواری بہن بیٹی لڑکی ان ظالموں نے نہیں
چھوڑی کہ جس کی عفت و حرمت نہ پامال کی ہو ۔۔۔ کھجی گراؤنڈ ۔۔ قلعے بندیاں ۔۔ ٹارچر ہاؤس
پولیس والوں کا قتل ۔۔۔ میں نے تو یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔
کون مانے کا تیری باتوں کو ۔۔۔۔۔۔ موٹی گردن والے فرعون !

اور یہ بیان ۔۔ یعنی چہ خوب !
نو سو چوہے کھا کے بلّی حج کو چلی
 

طالوت

محفلین
ایک ہی بات ہے خاتون طاقت سے ہی ڈر پیدا کیا جاتا ہے اور پیسہ کونسا ان کا پنا ہے ، کراچی کی عوام کا خون نچوڑتے ہیں کبھی کسی نام سے کبھی کسی نام سے۔۔۔۔۔۔ سب کے سب
وسلام
 

خرم

محفلین
پہلے تو خاور صاحب کی خدمت میں سلام۔ شائد انہیں تعجب ہو لیکن گزشتہ کئی روز سے سوچ رہا تھا کہ بخیر ہوں سہی کافی روز سے خیر خبر نہیں۔
اور جہاں تک طافو برطانوی کی بات ہے تو کراچی اور پاکستان سے تو موصوف کی محبت اسی روز واضح ہوجانا چاہئے تھی جب انہوں‌نے کراچی والوں کی محبت میں تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا۔ خیر اس قوم کو کبھی رنگ، نسل، عقیدہ ، ذات، زبان سے اوپر اُٹھ کر سوچنے کی توفیق ہوگی تو یہ سب نظر آئے گا نا۔
 

ساجداقبال

محفلین
1100492774-1.gif

آج ایکسپریس میں ”قائد“ عوام کے حوالے سے یہ خبر چھپی ہے۔ طالبان کی آڑ میں انکے مذموم مقاصد بخوبی واضح ہیں۔
 

خاور بلال

محفلین
پہلے تو خاور صاحب کی خدمت میں سلام۔ شائد انہیں تعجب ہو لیکن گزشتہ کئی روز سے سوچ رہا تھا کہ بخیر ہوں سہی کافی روز سے خیر خبر نہیں۔
اور جہاں تک طافو برطانوی کی بات ہے تو کراچی اور پاکستان سے تو موصوف کی محبت اسی روز واضح ہوجانا چاہئے تھی جب انہوں‌نے کراچی والوں کی محبت میں تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا۔ خیر اس قوم کو کبھی رنگ، نسل، عقیدہ ، ذات، زبان سے اوپر اُٹھ کر سوچنے کی توفیق ہوگی تو یہ سب نظر آئے گا نا۔

وعلیکم السلام
بہت شکریہ خرم صاحب یاد کرنے کا۔ ایک ہفتے کی چھٹی پر گھر گیا ہوا تھا۔
دورانِ سفر ایک پاکستانی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئ جو امریکی شہری بھی تھے ان سے بات کی تو پتہ چلا کہ وہ بھی کراچی والوں سے خائف ہیں۔ بتاتے ہیں کہ وہ ڈیفینس میں رہتے ہیں جو پڑھے لکھوں کا علاقہ کہلاتا ہے۔ پچھلے الیکشن میں انہوں نے اس امید کے ساتھ عمران خان کی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈالا کہ یہاں سے تو اسے ضرور جیتنا چاہیے۔ لیکن جیتنا تو کیا وہ اس بری طرح‌ ہارا کہ ضمانت ضبط ہوگئ۔ کہنے لگے کہ اب بتائیے کہ وہ لوگ جنہیں ہم پڑھا لکھا سمجھتے ہیں وہ بھی انہی لفنگوں کو ووٹ ڈالتے ہیں تو باقی قوم کا کیا رونا روئیے۔
 

طالوت

محفلین
"ضمانت ضبط ہو گئی" پر ہنستے مسکراتے آنسو نکل آئے ۔۔۔ پھر دوست احباب شکایت کرتے ہیں کہ ہنستا بہت ہوں ۔۔۔ پڑھے لکھے یہ ویسے ہی پڑھے لکھے ہیں جیسا سرکار کا پڑھا لکھا پنجاب ۔۔۔۔۔۔۔ ان کی اکثریت تو لوگوں کا خون نچوڑ کر کڑوڑوں اربوں کے گھروں میں بیٹھی ہے جن کی اپنی اور اپنے کتوں کی خوارک بھی ڈبوں میں بند برآمد کی جاتی ہے ۔۔۔ انھیں کیا فرق پڑتا ہے کوئی ہارے یا جیتے ۔۔۔۔
یہاں تو ایک انقلاب چاہیئے فرانسیسی طرز کا ۔۔۔ جس کے جسم سے خوشبو آئے گردن الگ ، جو انگ مٹکائے گردن الگ ، نرم و نازک نظر آئے گردن الگ ۔۔۔ کسی کا نعرہ لگائے گردن الگ ۔۔۔ کم و بیش 20/30 فیصد گردنیں الگ ہوں گی تو بہتری آئے گی ۔۔۔
وسلام
 
Top