کریڈیٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کا حکم

محمداحمد

لائبریرین
ایک اور مسئلہ بھی ہے۔
ایک شخص نے دوسرے کو دس ہزار روپیہ قرض دیا، جس سے اس وقت ایک تولہ سونا خریدا جا سکتا تھا۔ دوسرے شخص نے بیس سال بعد پیسہ واپس کرنا چاہا۔ اس وقت سونا چالیس ہزار روپے کا تولہ ہے۔
اب چالیس ہزار روپیہ واپس لیتا ہے تو اس میں تیس ہزار سود ہو گا یا نہیں۔ اور اگر فقط دس ہزار واپس کیا جائے تو پہلے شخص کا کیا قصور؟

اس سوال کے ممکنہ جوابات تو احباب نے مختلف پہلو سے دے ہی دئیے ہیں۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ اسلام قرضِ حسنہ کی بات کر تا ہے۔ جس میں اللہ کی رضا کے لئے دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے یا معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لئے بلا سود قرض دینا بھی شامل ہے۔

اسلام کہتا ہے کہ مقروض کو ادائیگی کی مہلت دی جائے، اُسے تقاضے کرکر عاجز نہ کیا جائے اور اگر اُس کی واپسی کی گنجائش نہ ہو تو بہتر ہے کہ اُسے قرض معاف کر دیا جائے۔

سو ایک اچھا مسلمان قرض اللہ کی رضا کے لئے دیتا ہے (اور اسے کسب معاش کے لئے کاروبار نہیں بناتا) اور وہ اس سلسلے میں ہر قسم کے نفع (سود) کی توقع اللہ سے (آخرت میں) چاہتا ہے۔
 

یاز

محفلین
اس سوال کے ممکنہ جوابات تو احباب نے مختلف پہلو سے دے ہی دئیے ہیں۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ اسلام قرضِ حسنہ کی بات کر تا ہے۔ جس میں اللہ کی رضا کے لئے دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے یا معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لئے بلا سود قرض دینا بھی شامل ہے۔

اسلام کہتا ہے کہ مقروض کو ادائیگی کی مہلت دی جائے، اُسے تقاضے کرکر عاجز نہ کیا جائے اور اگر اُس کی واپسی کی گنجائش نہ ہو تو بہتر ہے کہ اُسے قرض معاف کر دیا جائے۔

سو ایک اچھا مسلمان قرض اللہ کی رضا کے لئے دیتا ہے (اور اسے کسب معاش کے لئے کاروبار نہیں بناتا) اور وہ اس سلسلے میں ہر قسم کے نفع (سود) کی توقع اللہ سے (آخرت میں) چاہتا ہے۔
بالکل درست فرمایا جناب۔
ساتھ میں ہم یہ بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام قرض لینے والے کو بھی سخت تاکید کرتا ہے کہ قرض لوٹایا جائے۔ حتیٰ کہ فوت ہو جانے والے یا شہید ہو جانے والے کو بھی قرض سے معافی نہیں ہے۔
ہمارا معاشرے میں رشتہ داریوں اور تعلقات کا بندھن ایسا ہے کہ ہم نے لوگوں کو دوسروں سے تقریباً زبردستی قرضہ لیتے بھی دیکھا ہے۔ ایسے کیس بھی دیکھے ہیں جس میں قرضہ دینے کے لئے لوگوں نے خود کسی سے قرض لیا۔ اور پھر یہ بھی دیکھا ہے کہ قرض لینے کے بعد لوگوں نے سالوں بلکہ دہائیوں تک مڑ کے نہ پوچھا واپس کرنے کے لئے۔
اور آخری بات پھر وہی کہ جب قرضہ واپس کریں گے تو اس کو قوتِ خرید کے حساب سے واپس کرنا چاہئے، جس کا ہمارے معاشرے میں تصور ہی نہیں پایا جاتا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بالکل درست فرمایا جناب۔
:)
ساتھ میں ہم یہ بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام قرض لینے والے کو بھی سخت تاکید کرتا ہے کہ قرض لوٹایا جائے۔ حتیٰ کہ فوت ہو جانے والے یا شہید ہو جانے والے کو بھی قرض سے معافی نہیں ہے۔
بلاشبہ!

قرض کی ادائیگی کی بے حد اہمیت ہے۔ اور اسلاف انتہائی مجبوری کے علاوہ قرض لینے کو اچھا بھی نہیں سمجھتے تھے۔

ہمارا معاشرے میں رشتہ داریوں اور تعلقات کا بندھن ایسا ہے کہ ہم نے لوگوں کو دوسروں سے تقریباً زبردستی قرضہ لیتے بھی دیکھا ہے۔
ایسے کیس بھی دیکھے ہیں جس میں قرضہ دینے کے لئے لوگوں نے خود کسی سے قرض لیا۔

بہت افسوس کی بات ہے یہ۔

ایسے لوگ تو دراصل معاشرے پر بوجھ ہیں جو دوسروں کو بلیک میل کرتے ہیں اور اپنی بے جا منواتے ہیں۔

اور پھر یہ بھی دیکھا ہے کہ قرض لینے کے بعد لوگوں نے سالوں بلکہ دہائیوں تک مڑ کے نہ پوچھا واپس کرنے کے لئے۔

یہ رویہ کافی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اچھے خاصے کھاتے کماتے لوگ قرض لے کر بھول جاتے ہیں اور برسوں مسکرا مسکرا کر ملتے رہتے ہیں۔ شاید جو لوگ تقاضے کرتے ہوں گے اُن کے پیسے واپس کر دیتے ہوں گے اور تقاضے نہ کرنے والوں کے پیسے کھا جاتے ہوں گے۔

غالباً جوابدہی اور حساب کتاب کے خوف کی عدم موجودگی کے باعث لوگ یہ رویہ اپناتے ہیں۔

رویہ کی ی پر لگانے کے لئے تشدید نہیں مل رہی۔ :sad:

اور آخری بات پھر وہی کہ جب قرضہ واپس کریں گے تو اس کو قوتِ خرید کے حساب سے واپس کرنا چاہئے، جس کا ہمارے معاشرے میں تصور ہی نہیں پایا جاتا۔

اسلام اس بات کا حکم نہیں دیتا کہ قرض کی واپسی قوتِ خرید کے اعتبار سے کی جائے۔

پھر ایسے معاشرے میں کیا ہوگا کہ جس میں کرنسی بڑھوتری کی طرف مائل ہے کیا وہ لی جانے والی رقم سے بھی کم ادا کرے گا۔

بلکہ اسلام تو کہتا ہے کہ قرض کی اصل رقم لوٹا دی تو قرض ادا ہو گیا۔ ہاں البتہ اسلام ہر ہر معاملے میں حُسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے اور حُسنِ سلوک کے بعد "احسان" کا بھی حکم دیتا ہے۔ فرض کیجے کہ ایک شخص آپ سے بس کا کرایہ مانگتا ہے جو پچاس روپے ہے تو آپ اُسے پچاس روپے بس کا کرایہ دیتے ہیں جو اُس کی مانگ ہے اور اس کے علاوہ دو چار سو روپے اور دیتے ہیں یہ سوچ کر جس شخص کے پاس کرایہ کے پیسے نہیں ہیں اُسے اور معاملات میں بھی تنگی کا سامنا ہوگا۔ یہ احسان ہے یا احسان کے حوالے سے ایک معمولی سی مثال ہے۔

قرض ادا کرنے والے عموماً قرض چکانے کی اہلیت بھی بامشکل پیدا کر پاتے ہیں چہ جائیکہ وہ مارکیٹ کے حساب سے اضافی ادائیگی کرے۔ پھر تو ان کا حال بھی وہی ہوگا جو کہ ہندو بنیے کے حضور میں قرض خواہ ہاریوں کا ہوا کرتا ہے اور وہ ساری زندگی قرض چکا چکا کر مر جاتے ہیں اور قرض اُن کی اولاد کو منتقل ہو جاتا ہے۔
 

ٹرومین

محفلین
ٹرومین بھائی آپ میرے مراسلے سے کس نتیجے پر پہنچے ہیں؟
یاز بھائی کے مراسلے سے گفتگو کا رُخ دوسری جانب مڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا (یا شاید مجھے ایسا لگا کہ بات کریڈٹ کارڈ کی حلت وحرمت کے بجائے جرمانے کو حلال یا حرام سمجھنے کی طرف نہ مڑجائے کیوں کہ اس میں بھی رقم کی ادائیگی مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد سود کی رقم شامل کردی جاتی ہے۔) لہٰذا اپنے تئیں گفتگو کو کریڈٹ کارڈ تک محدود رکھنے اور کسی دوسری بحث میں الجھنے کے بجائے سود کے حوالے سے آپ کا مراسلہ نقل کردیا۔:)
باقی آپ کے پورے مراسلے بشمول ’’اثاثے پر منافع شریعتِ اسلامیہ میں"بیع" ہے اور محض "زر" پر منافع سود۔‘‘ سے مکمل متفق ہوں۔ :)
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم!

کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کا حکم : از احسان اللہ کیانی
ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟ یہ جاننے کیلئے ضروری ہے ،کہ پہلے ان کے متعلق کچھ اہم باتوں کو سمجھ لیا جائے
ڈیبٹ کارڈ : اس کارڈ کو آپ صرف اس وقت تک استعمال کر سکتے ہیں ،جب تک آپ کے اکاونٹ میں بیلنس موجود ہے ،جب آپ کے اکاونٹ میں بیلنس ختم ہوتا ہے ،آپ اس سے مزید خریداری نہیں کر سکتے یہ کارڈ آپ کو ادھار یا قرض کی سہولت نہیں دیتا ۔
اس کا استعمال بلا شبہ جائز ہے ۔


کریڈٹ کارڈ : اس کارڈ کو آپ اس وقت بھی استعمال کر سکتے ہیں ،جب آپ کے اکاونٹ میں بیلنس نہیں ہوتا ہے،اس وقت یہ کارڈ آپ کو مخصوص مدت کیلئے قرض دیتا ہے ،اس قرض کی شرط یہ ہوتی ہے کہ اگر آپ نے اسے مقرر ہ مدت میں ادا کر دیا ،تو یہی رقم ادا کرنی ہو گی ،ورنہ آپ کو اتنا اتنا سود بھی دینا پڑے گا ۔
کریڈ ٹ کارڈ کے حصول کیلئے ،ہمیں اس معاہدے پر رضا مند ہو کر دستخط کرنے پڑتے ہیں
جی ہاں
اگر میں مقررہ مدت پر قرض ادا نہ کر سکا ،تو سود ادا کروں گا ۔
اس لیے کریڈٹ کارڈ کا استعمال ناجائز ہے

ڈیبٹ کارڈ کس طرح جائز ہو گا جبکہ یہ کارڈ انہی کو ملتا ہے جس کا بینک میں کھاتہ یا اکاؤنٹ ہو؟
  • یہ کارڈ بھی بیلنس نہ ہونے پر رقم کی ادائیگی کرتا ہے جب آپ نے اوور ڈرافٹ پیمنٹس کی سہولت حاصل کی ہوئی ہو،
  • جب آپ بینک میں رقم رکھتے ہیں یا تنخواہ کی مد رقم آپ کے اکاؤنٹ میں آتی ہے تو اس سے بینک کو فائدہ حاصل ہوتا ہے آپکی رقم سے ہی بینک سود کا لین دین کرتا ہے۔
  • آپ کے اکاؤنٹ سے رقم بھی کاٹی جاتی ہے چند پیسوں کی شکل میں تو کیا یہ بھی سود نہیں۔
تو یہ کارڈ کیسے جائز ہو گا؟
==========

کریڈٹ کارڈ میں ہر ایکسٹرا پیمنٹس سود نہیں ہوتی دینی بھائیوں کو سسٹم کا علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ سود لگتی ہے۔

جن لوگوں کا خیال ہے کریڈٹ کارڈ پر سود ہے اس لئے یہ جائز نہیں تو اس پر گفتگو کرتے ہیں۔

کچھ ممالک میں کریڈٹ کارڈ پر ایک سال کی فیس لی جاتی ہے، تو یہ فیس سود نہیں ہوتی بلکہ یہ فیس اس لئے لی جاتی ہے کہ اس کارڈ کو انشورڈ کروایا جاتا ہے۔ اس کا دونوں کو فائدہ ہے،

  • جیسے آپ کے کارڈ سے کہیں بھی ہیک کر کے رقم نکلوا لی گئی یا شاپنگ کر لی گئی تو انکوائری سے ثابت ہو گیا کہ یہ کارڈ آپ نے نہیں استعمال کیا تھا تو کارڈ پرووائڈر یہ رقم انشورنس کمپنی سے حاصل کرتا ہے۔
  • اگر کسی نے کارڈ استعمال کیا اور دبئی یا سعودی عرب چھوڑ کے اپنے ملک چلا گیا، تو کارڈ پروائیڈر وہ رقم انشورنس کمپنی سے حاصل کر لیتا ہے۔
کریڈٹ کارڈ پر جو سال کی فیس لی جاتی یہ کارڈ کی انشورنس فیس ہوتی ہے سود نہیں۔

کریڈٹ کارڈ استعمال پر 60 دن میں رقم واپسی کی مہلت دیتا ہے۔ اس مدت تک رقم واپس کر دیں تو بہتر اس کے بعد کی مدت میں لیٹ فیس چارج لئے جاتے ہیں سود نہیں، اس لئے کہ بینک سے کسی بھی رقم پر سود کی شروع پوچھ لیں کتنی ہے اور اتنی ہی رقم آپ کریڈٹ کارڈ سے استعمال کر لیں اس پر چارج چیک کر لیں فرق خود ہی جان جائیں گے۔

کارڈ پرووائڈر نے پیمنٹس لیٹ ہونے پر جو لیٹ فیس چارجز لینے ہیں، اس پر ایک عملہ کام کر رہا ہوتا ہے ان کی تنخواہیں، اس پر سٹیشنری خرچ ہوتی ہے، سیاہی خرچ ہوتی ہے، کارسپنڈنس ہوتی ہے، پوسٹ کا خرچہ وغیرہ! یہاں کوئی عزیز بوقت ضرورت ادھا نہیں دیتا کسی کو اور کریڈٹ کارڈ جو ضرورت پوری کرتا ہے لیٹ فیس پر چارجز سود نہیں۔ باقی جسے سود لگتا ہے وہ اسے نہ حاصل کریں۔

والسلام
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
السلام علیکم!



ڈیبٹ کارڈ کس طرح جائز ہو گا جبکہ یہ کارڈ انہی کو ملتا ہے جس کا بینک میں کھاتہ یا اکاؤنٹ ہو؟
  • یہ کارڈ بھی بیلنس نہ ہونے پر رقم کی ادائیگی کرتا ہے جب آپ نے اوور ڈرافٹ پیمنٹس کی سہولت حاصل کی ہوئی ہو،
  • جب آپ بینک میں رقم رکھتے ہیں یا تنخواہ کی مد رقم آپ کے اکاؤنٹ میں آتی ہے تو اس سے بینک کو فائدہ حاصل ہوتا ہے آپکی رقم سے ہی بینک سود کا لین دین کرتا ہے۔
  • آپ کے اکاؤنٹ سے رقم بھی کاٹی جاتی ہے چند پیسوں کی شکل میں تو کیا یہ بھی سود نہیں۔
تو یہ کارڈ کیسے جائز ہو گا؟
==========

کریڈٹ کارڈ میں ہر ایکسٹرا پیمنٹس سود نہیں ہوتی دینی بھائیوں کو سسٹم کا علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ سود لگتی ہے۔

جن لوگوں کا خیال ہے کریڈٹ کارڈ پر سود ہے اس لئے یہ جائز نہیں تو اس پر گفتگو کرتے ہیں۔

کچھ ممالک میں کریڈٹ کارڈ پر ایک سال کی فیس لی جاتی ہے، تو یہ فیس سود نہیں ہوتی بلکہ یہ فیس اس لئے لی جاتی ہے کہ اس کارڈ کو انشورڈ کروایا جاتا ہے۔ اس کا دونوں کو فائدہ ہے،

  • جیسے آپ کے کارڈ سے کہیں بھی ہیک کر کے رقم نکلوا لی گئی یا شاپنگ کر لی گئی تو انکوائری سے ثابت ہو گیا کہ یہ کارڈ آپ نے نہیں استعمال کیا تھا تو کارڈ پرووائڈر یہ رقم انشورنس کمپنی سے حاصل کرتا ہے۔
  • اگر کسی نے کارڈ استعمال کیا اور دبئی یا سعودی عرب چھوڑ کے اپنے ملک چلا گیا، تو کارڈ پروائیڈر وہ رقم انشورنس کمپنی سے حاصل کر لیتا ہے۔
کریڈٹ کارڈ پر جو سال کی فیس لی جاتی یہ کارڈ کی انشورنس فیس ہوتی ہے سود نہیں۔

کریڈٹ کارڈ استعمال پر 60 دن میں رقم واپسی کی مہلت دیتا ہے۔ اس مدت تک رقم واپس کر دیں تو بہتر اس کے بعد کی مدت میں لیٹ فیس چارج لئے جاتے ہیں سود نہیں، اس لئے کہ بینک سے کسی بھی رقم پر سود کی شروع پوچھ لیں کتنی ہے اور اتنی ہی رقم آپ کریڈٹ کارڈ سے استعمال کر لیں اس پر چارج چیک کر لیں فرق خود ہی جان جائیں گے۔

کارڈ پرووائڈر نے پیمنٹس لیٹ ہونے پر جو لیٹ فیس چارجز لینے ہیں، اس پر ایک عملہ کام کر رہا ہوتا ہے ان کی تنخواہیں، اس پر سٹیشنری خرچ ہوتی ہے، سیاہی خرچ ہوتی ہے، کارسپنڈنس ہوتی ہے، پوسٹ کا خرچہ وغیرہ! یہاں کوئی عزیز بوقت ضرورت ادھا نہیں دیتا کسی کو اور کریڈٹ کارڈ جو ضرورت پوری کرتا ہے لیٹ فیس پر چارجز سود نہیں۔ باقی جسے سود لگتا ہے وہ اسے نہ حاصل کریں۔

والسلام

یعنی بنک ہم سے سود کے بجائے لیٹ فیس چارج وصول کرتا ہے؟

یعنی کریڈٹ کارڈ کا سود وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم

مجبوری کی بات اور ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کریڈٹ کارڈ بنوانا سودی معیشت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے، چاہے آپ سود لگنے سے پہلے ہی ادائیگی کرتے رہیں۔

اگر کوئی سعودی عرب میں رہتا ہے تو سعودی حکومت اعلان نہیں کرتی کہ یہاں آؤ، بلکہ اپنے معاشی حالات کی بہتری کے لئے لوگ وہاں جاتے ہیں، ایک سعودی ریال کے پاکستانی 30 روپے کے قریب بنتے ہیں، جب وہاں کام کریں گے ریال لیں گے تو اس سے جو وہاں خرچ کریں گے اس سے معیشت مضبوط نہیں ہو گی، رہائش، یوٹیلیٹی بلز خوراک پر بھی تو خرچ کریں گے من سلوی تو نہیں اترے گا، اس بات کو سمجھیں۔


پھر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کسی کو کیا پڑی کہ پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اُدھار لینے پر آمادہ کرتا پھرے۔ کچھ تو پھیر ہے نا اس سب کھیل میں۔

اسی طرح کریڈٹ کارڈ بھی ضرورتمند خود ہی حاصل کرتے ہیں اور یہ کر کسی کو نہیں ملتا بلکہ اس میں تنخواہ کی سکیل اور کریڈٹ ریٹنگ چیک کی جاتی ہے، جو ریجیکٹ بھی ہو سکتا ہے اور سلیکٹ بھی، انٹرنیشل ٹریڈ میں اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسے سمجھنے میں آپکو وقت لگے گا۔
والسلام
 
آخری تدوین:

کعنان

محفلین
السلام علیکم

میرے پاس ایک کوآپ آؤٹ ڈور سٹور کا کریڈٹ کارڈ ہے۔ اس پر جو خریداری ہوتی ہے اس پر سالانہ ڈیویڈنڈ ملتا ہے جس سے پھر میں ٹینٹ، سلیپنگ بیگ، ہائیکنگ پینٹ اور دیگر اشیا خریدتا رہتا ہوں

میرے پاس ہر بڑے بینک کا کریڈٹ کارڈ ہے، امیرکن ایکسپریس ریڈ پر جتنا بھی ڈیویڈنڈ ہے اسے میں نے افریکن کے لئے ڈونیٹ کیا ہوا ہے۔

والسلام
 

محمداحمد

لائبریرین
اسی طرح کریڈٹ کارڈ بھی ضرورتمند خود ہی حاصل کرتے ہیں اور یہ کر کسی کو نہیں ملتا بلکہ اس میں تنخواہ کی سکیل اور کریڈٹ ریٹنگ چیک کی جاتی ہے، جو ریجیکٹ بھی ہو سکتا ہے اور سلیکٹ بھی، انٹرنیشل ٹریڈ میں اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسے سمجھنے میں آپکو وقت لگے گا۔

وقت تو خیر ہر چیز میں لگتا ہے۔

ویسے ہمیں جو بینک ملازمین فون کرکے کریڈٹ کارڈ بنانے کی آفرز کیا کرتے ہیں اُن کو سمجھانے میں بھی وقت لگتا ہے کہ ہم کیوں اُدھار نہیں لینا چاہتے۔

کریڈٹ ریٹنگ کی ضرورت کاروبار کی حد تک تو سمجھ آتی ہے لیکن انفرادی حیثیت میں انسان اگر خود کفیل ہوتو زیادہ اچھی بات ہے۔
 

زیک

تقریباً غائب
کریڈٹ ریٹنگ کی ضرورت کاروبار کی حد تک تو سمجھ آتی ہے لیکن انفرادی حیثیت میں انسان اگر خود کفیل ہوتو زیادہ اچھی بات ہے۔
اس کا اثر مکان کی مارٹگیج کے حوالے سے سوچیں۔ اکثر گھروں کی قیمتیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ خود خریدنے کے لئے سالہا سال پیسے بچانے پڑتے ہیں۔ اس دوران آپ والدین کے گھر میں رہیں گے یا کرائے کے۔ مارٹگیج کے ذریعہ آپ انہی کرائے کے پیسوں سے گھر میں equity بڑھا رہے ہیں۔

اب اتنے بڑے ادھار کے لئے کریڈٹ ریٹنگ تو لازمی ہو گی
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم

وقت تو خیر ہر چیز میں لگتا ہے۔

ویسے ہمیں جو بینک ملازمین فون کرکے کریڈٹ کارڈ بنانے کی آفرز کیا کرتے ہیں اُن کو سمجھانے میں بھی وقت لگتا ہے کہ ہم کیوں اُدھار نہیں لینا چاہتے۔

کریڈٹ ریٹنگ کی ضرورت کاروبار کی حد تک تو سمجھ آتی ہے لیکن انفرادی حیثیت میں انسان اگر خود کفیل ہوتو زیادہ اچھی بات ہے۔

کریڈٹ کارڈ بنانے والے فون، ای میل، پوسٹ کے ذریعے سب کو آفر کرتے ہیں کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ جن کو کارڈ جاری کئے ہوں انہیں بھی آفر کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کارڈ بھی جاری کریں گے، اس کے لئے تنخواہ کے مطابق چیک کرتے ہیں اپرووڈ ہونے پر کارڈ جاری کیا جاتا ہے اور رفیوز بھی۔

فورمز پر بےشمار ایسے ممبران کی پوسٹ مل جائیں گی جنہیں کسی ضروری خریداری کے لئے انٹرنیشنل آن لائن رقم ٹرانسفر کرنی ہوتی ہے تو پھر وہ فورمز پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنے کے لئے مدد کی اپیل کرتے ہیں۔

ہم نے اگر یہاں سے نادرا کا اوریجن کارڈ بنوانا ہے جس سے برٹ پاسپورٹ پر پاکستانی ویزہ کی ضرورت نہیں تو دوسرے شہر پاکستانی ایمبیسی میں جائیں، ایک دن میں اتنا کم وقت اور لوگوں کا ہجوم کہ کام نہیں بنے گا یا تو وہیں ہوٹل میں رہیں یا رات کو ایمبیسی کے باہر جا کر بیٹھ جائیں، اب گھر بیٹھے چند منٹس میں آنلائن پر یہ پراسس مکمل ہو جاتا ہے اور رقم بھی آنلائن ٹرانسفر ہو جاتی ہے، سہولت ہی سہولت۔

ایسے ہی ایک مرتبہ ابوظہبئی سے مسقط کار میں انٹری تھی بارڈر میں ویزہ لیا وہ فیس کیش میں نہیں لیتے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے فیس لیتے ہیں اور وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو لوگوں کی منت سماجت کر رہے تھے کہ ہمارے پاس کارڈ نہیں آپ ہم سے کیش لے لیں اور اپنے کارڈ سے ہمارے فیس ادا کر دیں، ایک بندے کی فیس تو میں نے بھی ادا کی تھی۔

ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے۔

والسلام
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
بات یہ ہے کہ اچھے خاصے کھاتے کماتے لوگ قرض لے کر بھول جاتے ہیں اور برسوں مسکرا مسکرا کر ملتے رہتے ہیں۔ شاید جو لوگ تقاضے کرتے ہوں گے اُن کے پیسے واپس کر دیتے ہوں گے اور تقاضے نہ کرنے والوں کے پیسے کھا جاتے ہوں گے۔
میرا ذاتی تجربہ ہے کہ قرض دے کے بس بھول جاؤ کہ کوئی واپس بھی کرے گا۔ نہ صرف یہ کہ واپس نہیں کرتے۔۔۔بلکہ تقاضا کرنے پہ خود شرمندگی اپنی پڑتی ہے۔ اکادکا کوئی واپس کر بھی دے تو توڑ توڑ کے دیتا ہے کہ رقم "کھلو بلو" ہو جاتی ہے۔
 
Top