کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا ۔۔۔افضل منہاس

محمد بلال اعظم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 9, 2013

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا
    ہم کو لوگوں نے بلایا ہمیں چھو کر دیکھا

    وہ برسات میں بھیگا تو نگاہیں اٹھیں
    یوں لگا ہے کوئی ترشا ہوا پتھر دیکھا

    کوئی سایہ بھی نہ سہمے ہوئے گھر سے نکلا
    ہم نے ٹوٹی ہوئی دہلیز کو اکثر دیکھا

    سوچ کا پیڑ جواں ہو کے بنا ایسا رفیق
    ذہن کے قد نے اُسے اپنے برابر دیکھا

    جب بھی چاہا ہے کہ ملبوسِ وفا کو چُھو لیں
    مثلِ خوشبو کوئی اڑتا ہوا پیکر دیکھا

    رقص کرتے ہوئے لمحوں کی زباں گنگ ہوئی
    اپنے سینے میں جو اترا ہوا خنجر دیکھا

    زندگی اتنی پریشاں ہے یہ سوچا بھی نہ تھا
    اس کے اطراف میں شعلوں کا سمندر دیکھا

    رات بھر خوف سے چٹخے تھے سحر کی خاطر
    صبح دَم خود کو بکھرتے ہوئے در پر دیکھا

    آ گئی غم کی ہوا پھر تیرے گیسُو چھو کر
    ہم نے ویرانئہِ دل پھر سے معطّر دیکھا

    وہ جو اڑتی ہے صدا دشتِ وفا میں افضل
    اسی مٹّی میں نہاں درد گوہر دیکھا

    (افضل منہاس)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر