کراچی

F@rzana

محفلین
کراچی کا خرمن جلایا گیا ہے
کراچی کو مقتل بنایا گیا ہے

وطن کے لٹیروں کا میلہ لگا کر
کراچی کو ننگا نچایا گیا ہے

بہو بیٹیوں کی پھٹی چادروں سے
کراچی کا پرچم بنایا گیا ہے

لٹیروں کی دعوت کا سامان کر کے
کراچی کا ہر گھر لٹایا گیا ہے

کراچی کے اندر کراچی کے باہر
سبق نفرتوں کا پڑھایا گیا ہے

کراچی میں طوفان آیا نہیں ہے
کراچی میں طوفان لایا گیا ہے

بھڑکنے کو ہے آگ ان محفلوں میں
جہاں سے یہ فتنہ اٹھایا گیا ہے

لہو صورتوں سے برہنہ بدن سے
کراچی کا گلشن سجایا گیا ہے
ناظر فاروقی​
 

F@rzana

محفلین
کتاب “ورق ورق گلاب“

گھر کے اندر کوئی محفوظ نہ باہر محفوظ
کوئی دسترا ہی محفوظ نہ چادر محفوظ

حکم ہے ظل الہی کا جھکائے رکھئے
گر اٹھایا تو رہے گا نہ کوئی سر محفوظ

آگ لگوائیں گے جب آگ لگانے والے
کیسے بستی میں رہے گا کوئی چھپر محفوظ

ڈاکوؤں سے جو بچے گا تو یہ خود لوٹیں گے
کیونکہ قانون کے ہاتھوں میں ہیں لیڈر محفوظ

چند جو اونچے مکان ہوتے ہیں سب شہروں میں
آگ لگتی ہے تو رہ جاتے ہیں اکثر محفوظ

در پہ دستک کی جگہ آکے لگائیں ٹھوکر
یہ وطیرہ ہو تو رہتی نہیں چادر محفوظ

آبرو اپنی بچانے کو بہن چھپ جائے
بھائیو ڈھونڈ کے بتلاؤ کوئی گھر محفوظ

وقت آیا ہے کہ اب شیخ بتائیں ناظر
کیوں نہیں ہے کوئی مسجد کوئی ممبر محفوظ​
 

شمشاد

لائبریرین

0002.gif

0002.gif

0002.gif

0002.gif

0002.gif

0002.gif

0002.gif

0002.gif
 

F@rzana

محفلین
ورق ورق گلاب

آہ شہر کراچی عروس البلاد
کربلائے وطن مرحبا زندہ باد
تونے سارے وطن میں اجالا کیا
تونے مزدور کا بول بالا کیا
کارخانوں میں چاندی پگھلتی رہی
جھگیوں میں مگر بھوک پلتی رہی
حکمرانوں کے محلات بنتے رہے
تیرے بچے غلاضت میں پلتے رہے
جب بھی تیار کوئی پلازہ ہوا
زخم ایک اور سینے میں تازہ ہوا
فیز سیون بنا فیز فائیو بنا
کتنا بڑھیا کلفٹن درائیو بنا
پھر بھی جھگی کی دیوار گرتی رہی
قوم پانی کی خاطر ترستی رہی
ختم جس دن سے دور غلامی ہوا
اک مہاجر ہوا اک مقامی ہوا
رہنما ووٹ لینے کو آتے رہے
جھوٹے وعدوں سے الو بناتے رہے
اور جب بھی شہیدوں کا میلہ لگا
تب کراچی اکیلا اکیلا لگا
حکمراں ظلم پہ ظلم ڈھاتے رہے
ہم شہیدوں کے لاشے اٹھاتے رہے
قرض قائد کا ایسے اتارا گیا
سب سے پہلے لیاقت کو مارا گیا
بس اسی دن سے سازش پہ سازش ہوئی
ملک و ملت پہ بیحد نوازش ہوئی
جو بھی گردی اٹھی وہ جھکادی گئی
مرتضی پر بھی گولی چلادی گئی
اس سیاست نے وہ دن بھی دکھلادیا
ایک بازو ہی دشن سے کٹوادیا
حیف رائج ہے اب تک سیاست وہی
اور پھیلی ہے ہر سو غلاظت وہی
آج خیبر سے لے کر کراچی تک
سارے نادار تکتے ہیں سونے فلک
ہائے سونا اگلتی ہوئی یہ زمیں
جس کی بیٹی کے ہاتھوں میں چوڑی نہیں
وہ کراچی کے فٹ پاتھ پر دھوپ میں
ہاتھ پھیلائے بیٹھی ہو ئی مہہ جبیں
پوچھتی ہے وہ روٹی وہ کپڑا کہاں
آج تک میرا فٹ پاتھ پر ہے مکاں
سب یہ گندی سیاست کا فیضان ہے
لیڈروں میں نہ دین اور ایمان ہے
جب الیکشن ہوا رہنما آگئے
ایک آمر گیا دس خدا آگئے​
 

F@rzana

محفلین
ورق ورق گلاب

ادھر آؤ بچو ادھر آؤ جانی
کراچی کی تم کو سنائیں کہانی
یہی شہر تھا وہ جو سوتا نہیں تھا
اندھیرا محلوں میں ہوتا نہیں تھا
وہ تھیلے پہ بکتی ہوئی مونگ پھلیاں
بڑی دیر تک جاگتی تھی یہ گلیاں
بسوں کی صدا سونے دیتی نہیں تھی
یہ سمجھو یہاں رات ہوتی نہیں تھی
یہاں رہنے والوں میں تھا بھائی چارہ
جو دشمن کو ہرگز نہیں تھا گوارہ
ہوئی پھر ہمارے خلاف ایک سازش
تھمی ہی نہیں تب سے لاشوں کی بارش
اجڑتا رہا پھر ہمارا کراچی
گھروں میں یہاں موت جا جا کے ناچی
گلی میں سنو شور ہے گولیوں کا
یہ شیون بھی ماتم ہے ہمجولیوں کا
مری جان سوجا کہ ہے گھپ اندھیرا
بچیں گے تو دیکھیں گے کل پھر سویرا
قضا کیوں نہ آئی کہ مرجاتی نانی
سنانے سے پہلے ہی ایسی کہانی
 

F@rzana

محفلین
ورق ورق گلاب

اے کراچی کھاگئی تجھ کو بتا کس کی نظر
روز اخباروں میں چھپتی ہے فقط تیری خبر

کیوں دلہنوں کو تری ہوتا نہیں سہرا نصیب
قتل ہوجاتا ہے کیوں بارات میں دولہا غریب

شاہراہوں پر جہاں بکتے تھے کل گجروں کے پھول
کیا غضب ہے آج اڑتی ہے وہاں قبروں کی دھول

پھول گئے گجرے تحفہ جاتے تھے سگائی کی جگہ
اب جنازہ بھیج دیتے ہیں مٹھائی کی جگہ

گولیاں جو دشمنوں کے واسطے لائی گئیں
اپنے بچوں اپنی ماں بہنوں پہ چلوائی گئیں

سامنے دشمن کھڑا ہے اپنا سینہ تان کر
اور ہماری گولیوں کا رخ ہماری جان پر

کتنا خوشحالی میں یکتا اپنا پاکستان ہے
شہر قائد میں بسا ایک شہر قبرستان ہے

گھر کے اندر کب تلک بیٹھے رہیں سہمے ہوئے
لوگ اب نکلا کریں گھر سے کفن پہنے ہوئے
 

F@rzana

محفلین
ورق ورق گلاب

کہتے ہیں یہ شہر مثالی ہے
ہر سمت یہاں ہریالی ہے
سڑکوں پہ بڑی خوشحالی ہے
بس تھوڑا خالی خالی ہے
یہ سن کے بہت شرمائے ہم
کچھ جھجھکے کچھ گھبرائے ہم
پھر سوچا ان کا دوش نہیں
یہ عینک سبز لگائے ہیں
اسلام آباد سے آئے ہیں
شاہ فیصل روڈ سے گزرے ہیں
محلات میں جاکر ٹہرے ہیں
آرام ابھی فرمائیں گے
پھر رات کو دعوت کھائیں گے
کل جلسے میں بھی جائیں گے
حکام سے ہاتھ ملائیں گے
کچھ تصویریں بنوائیں گے
تقریریں بھی فرمائیں گے
سب اچھا ہے بتلائیں گے
اخباروں کو جھٹلائیں گے
کچھ بھی نہ دکھائی دے ان کو
یہ عینک سبز لگائے ہیں
اسلام آباد سے آئے ہیں
جب شہر میں گولی چلتی ہے
کہتے ہیں پٹاخے چھوٹے ہیں
اس طرح سے دھوکے دے دے کر
کتنے ہی محلے لوٹے ہیں
فریاد اگر کچھ لوگ کریں
کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹے ہیں
وہ خون میں لت پت اک بچہ
کب ان کو دکھائی دیتا ہے
سڑکوں پہ ہے مقتل کا منظر
سب شہر دہائی دیتا ہے
یہ کل کی بنی گیلی قبریں
اس شہر کے پیارے لوگوں کی
وہ کچی وہ گندی بستی
سب ظلم کے مارے لوگوں کی
یہ شہر نہیں اک میت ہے
مظلوم بچارے لوگوں کی
اس شہر سے روزی چلتی ہے
اس دیس کے سارے لوگوں کی
یہ سب کا شہر کراچی ہے
اور تم سے ہی فریادی ہے
اس شہر کے دن ویران ہوئے
اور کتنی بھیانک راتیں ہیں
ہر بستی میں ہر کوچے میں
بس لاشوں کی سوغاتیں ہیں
سرکار کے گھر میں روز مگر
یا شادی یا باراتیں ہیں
بے جرم بھی پکڑے جائیں اگر
تقدیر میں گھونسے لاتیں ہیں
سرکار یہ بپتا سن کر بھی
جھجھکے ہیں نہ کچھ شرمائے ہیں
اسلام آباد سے آئے ہیں
اور عینک سبز لگائے ہیں
جو شہر کبھی سوتا ہی نہ تھا
کس نے اس کو بیمار کیا
سب چپ ہیں مگر سب جانتے ہیں
جو کچھ تم نے سرکار کیا
 

F@rzana

محفلین
باپ ماں کے سامنے بچوں کو مارا جائے گا
اور اسے جمہوریت کہہ کر بنایا جائے گا

فیصلہ مجرم کو تھانیدار جب لکھنے لگے
کیا عدالت میں کوئی شامت کا مارا جائے گا

آج اک لڑکی کے دولہا کو پکڑ کر لے گئے
کل کسی ماں کے بڑھاپے کا سہارا جائے گا

جس کی بیٹی پر نظر پڑجائے تھانیدار کی
اپنی بستی اپنے گھر سے وہ بچارا جائے گا

لڑکیاں مہندی کا سپنا دیکھتی رہ جائیں گی
نوجوانوں کو اگر چن چن کے مارا جائے گا

حکمراں جب بینک لوٹیں قرض کہہ کر بخش دیں
قسط جو گھر کی نہ دے مجرم پکارا جائے گا

پوچھتے ہیں باادب اپنی حکومت سے عوام
ہے کوئی بستی جہاں شب خوں نہ مارا جائے گا
 

F@rzana

محفلین
خون پودوں کو دیا کتنی جواں لاشوں کا
جاکے اب دیکھئے ہر شاخ ثمر لائی ہے

کچھ تو بتلائیے تاریخ میں لکھنے کے لئے
جرم ! جس کی مرے بچوں نے سزا پائی ہے
 

F@rzana

محفلین
ورق ورق گلاب

زندہ ہیں بہت سے سر کٹانے والے
آواز صداقت کی اٹھانے والے

تاریخ بتاتی ہے کہ مٹ جاتے ہیں
خود نعرہ تکبیر دبانے والے
 

شمشاد

لائبریرین
بہت خوب نیناں جی، بہت اچھی شاعری شیئر کی ہے آپ نے۔

اب کیا کہیں اربابِ اختیار کو وہ جانتے تو ہیں سب کچھ۔ اور جو جانتے بوجھتے انجان بنا رہے اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔

اللہ جانتا ہے یہ خون ایک دن رنگ لا کر رہے گا۔ رائیگاں نہیں جائے گا۔
 

F@rzana

محفلین
آپ تمام کی اس داد کا شکریہ میں محترم شاعر “ناظر فاروقی “ کی جانب سے ادا کرتی ہوں۔
نوازش
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
کون سا دکھ ہے جو اہلِ کراچی نے نہیں سہا اور سب سے زیادہ مسلک کے نام پر۔۔۔۔ مسلکانہ نفرت و عصبیت کے نام پر کیا کیا نہیں ہوا یہاں اور کیا کچھ نہیں کیا گیا۔۔۔ اور کیا کچھ نہیں کیا جائے گا۔۔۔ جو ہونا ہے ابھی۔۔۔ !
 

ڈاکٹر عباس

محفلین
اَعصاب شکستہ ہیں تو چھلنی ہیں نگاہیں
احساسِ بہاراں ، نہ غمِ فصلِ خزاں ہے
آندھی کی ہتھیلی پہ ہے جگنو کی طرح دل
شعلوں کے تصرف میں رگِ غُنچہ جاں ہے

ہر سمت ہے رنج و غم و آلام کی بارش
سینے میں ہر اک سانس بھی نیزے کی انی ہے
اب آنکھ کا آئینہ سنبھالوں میں کہاں تک
جو اَشک بھی بہتا ہے وہ ہیرے کی کنی ہے

احباب بھی اعداء کی طرح تیر بکف ہیں
اب موت بھٹکتی ہے صفِ چارہ گراں میں
سنسان ہے مقتل کی طرح شہرِ تصور
سہمی ہوئی رہتی ہے فغاں خیمہِ جاں میںٍ​
 
Top