کراچی: راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ،2 خواتین جاں بحق

کاشفی

محفلین
karachi-stampede-ration-nipa-women_7-8-2013_108439_l.jpg
کراچی…کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے 2 خواتین جاں بحق اور دو زخمی ہوگئیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب ایک شادی ہال میں راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں دو خواتین دم گھٹنے کے باعث جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئیں، زخمی خواتین کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق واقعہ بدبدنظمی کے باعث پیش آیا۔
 

شمشاد

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

کیسی بدقسمتی ہے کہ راشن لینے آئیں اور اپنے حصے کا راشن ہی ختم ہو گیا۔
 

کاشفی

محفلین
karachi-foodditribution-2womenkilled-pakistan_7-8-2013_108461_l.jpg
کراچی…گلشن چورنگی میں راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے دو خواتین جاں بحق ، جب کہ دو زخمی ہوگئیں۔ پولیس کے مطابق افسوس ناک واقعہ گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب ایک شادی ہال میں پیش آیا جہاں ایک مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سے خواتین میں راشن تقسیم کیا جارہا تھا۔ اس موقع پر لان کے اندر اور باہر ہزاروں کی تعداد میں خواتین جمع تھیں جن میں سے بیشتر نے آگے نکلنے کی کوشش میں دھکم پیل کی۔ اس دوران بھگدڑ مچ گئی اور خواتین ایک دوسرے کے نیچے دب گئیں۔ جس سے متعدد عورتیں زخمی اور بے ہوش ہوگئیں، جنہیں عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق اس واقعہ میں دو خواتین عظمیٰ جمال اور نصرت الطاف جاں بحق ہوگئیں جبکہ دو خواتین کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے۔ بدانتظامی اور ہلاکتوں کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد راشن کے حصول کے لئے جمع رہی۔ پورے واقعہ کے بعد جب کچھ دیرکیلئے راشن کی تقسیم روکی گئی تو اِس دوران وہاں بیٹھی خواتین اور ان کے ساتھ آئے ہوئے مردوں نے لوٹ مار شروع کردی اور جس کے ہاتھ جو آیا ،لے کر چلتابنا۔پولیس نے اِس موقع پر کچھ مردوں کو بھی حراست میں لیاہے۔ایس ایس پی ایسٹ عمران شوکت کے مطابق منتظمین کی جانب سے ماضی میں راشن کی تقسیم ایک مدرسے اور مسجد میں کی جاتی تھی تاہم گذشتہ ایک سال سے ویلفیئر کے اس کام وسعت کی وجہ سے شادی ہال میں انتظام کیا جارہا تھا۔ پولیس کے مطابق اس تقریب کی پولیس کو اطلاع نہیں دی گئی۔ایس ایچ او گلشن اقبال ،محمد عرفان کے مطابق واقعہ کے بعد پولیس نے ہال کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور راشن کی تقسیم عارضی طور پر بند کرادی ہے جو انتظامات کے بعد شروع کی جائے گی۔ کراچی میں اس سے قبل بھی اس نوعیت کے سانحات ہوچکے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اس نوعیت کے رفاحی کام منصوبہ بندی اور پولیس کو باخبر رکھ کر کئے جائیں تاکہ ایسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے۔
 

یوسف-2

محفلین
ایک طرف غربت کی انتہا ہے کہ خواتین چند دنوں کا راشن لینے کے لئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کرتیں۔ تو دوسری طرف یہ بھی المیہ ہے کہ ایسے ارب پتی لوگ جن کی سالانہ لاکھوں کی زکٰوۃ بنتی ہے، وہ اس زکٰوۃ کو نمود و نمائش کے اس غیر منظم اور بے ڈھنگے انداز میں تقسیم کرنے پر تُل جاتے ہیں کہ غرباء کی عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے ۔ تھوڑے سے لوگوں کو کچھ راشن مل جاتا ہے اور بقیہ لوگ نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔ اور اس دھکم پیل میں ایسے حادثات بھی جنم لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بڑا حادثہ چند سال قبل کراچی پہلے بھی میں پیش آچکا ہے۔
اگر ایسے امیر لوگوں کو صدقات خیرات تقسیم کرنے کا ہنر نہیں آتا تو انہیں چاہئے کہ وہ منظم رفاہی اداروں کی معرفت تقسیم کیا کریں۔ کراچی میں بہت سے ادارے سارا سال غرباء میں راشن اور کھانا تقسیم کرتے ہیں۔ پورے شہر میں جا بجا لنگر کھلے ہوئے ہیں۔ جہاں دو وقت نہایت عمدہ کھانا، انتہائی باعزت طریقہ سے غرباء کو کھلایا جاتا ہے اور کہیں بھی اور کبھی بھی کوئی اس قسم کا ہنگامہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ کاش یہ نام نہاد مخیر حضرات غریبوں کو ان کا حق دیتے ہوئے اس طرح نمود و نمائش کا اہتمام نہ کریں اور تھوڑی سی تکلیف کرکے غریبوں کی بستیوں میں وہاں کے مقامی سماجی کارکن کی معرفت ہی تقسیم اناج کا طریقہ اپنا لیں تو ایسے حادثات کبھی نہ ہوں۔
 
Top