اقبال کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباس مجاز میں

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو،تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردہء ساز میں


تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

دم طوف کرمک شمع نےیہ کہا کہ وہ اثر کہن
نہ تری حکایت سوز میں،نہ مری حدیث گداز میں

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں


نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی،نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملےگا نماز میں
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہ
علامہ صاحب کیا سچ کہتے تھے
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا​
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملے نماز میں​
 

عاطف بٹ

محفلین
تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

اس شعر کا تو واقعی جواب نہیں۔ بہت خوب!
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو،تو نوائے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردہء ساز میں


تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

دم طوف کرمک شمع نےیہ کہا کہ وہ اثر کہن
نہ تری حکایت سوز میں،نہ مری حدیث گداز میں

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں


نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی،نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملے نماز میں

بہت سے اشعار مجھے بعد میں ملے
 

طارق شاہ

محفلین
طرب آشنائے خروش ہو، تونوائے محرمِ گوش ہو
وہ سرود کیا، کہ چھپا ہوا ہوسکوتِ پردۂ ساز میں

دمِ طوف کِرمَکِ شمع نے یہ کہا، کہ وہ اثرِ کُہن
نہ تِری حکایتِ سوز میں، نہ مِری حدیثِ گداز میں

بہت خوب!
 

طارق شاہ

محفلین
طرب آشنائے خروش ہو، تونوائے محرمِ گوش ہو
وہ سرود کیا، کہ چھپا ہوا ہوسکوتِ پردۂ ساز میں

دمِ طوف کِرمَکِ شمع نے یہ کہا، کہ وہ اثرِ کُہن
نہ تِری حکایتِ سوز میں، نہ مِری حدیثِ گداز میں

بہت خوب!
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

دوسرے مصرع میں ' گا ' ٹائپ ہونے سے رہ گیا
 
بہت سے اشعار مجھے بعد میں ملے
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

دوسرے مصرع میں ' گا ' ٹائپ ہونے سے رہ گیا

تدوین کردی ہے۔
شکریہ قرۃالعین اعوان بہنا! مزہ آگیا
 

رانا

محفلین
بہت پیاری نظم ہے۔ بہت شکریہ شیئرنگ کے لئے۔
اس نظم سے دھیان اس نظم کی ایک جوابی نظم کی طرف چلا گیا جو میں نے یہاں شئیر کردی ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
کیا ہی خوبصورت غزل ہے یہ اقبال کی۔۔۔۔!

خاص طور پر یہ اشعار تو مجھے دل و جان سے پسند ہیں۔

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی،نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملےگا نماز میں
 
Top