تبسم کاروان حُسن کے کیا کیا نہ نظر سے گزرے ۔ صوفی تبسمن

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 22, 2015

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کارواں، حُسن کے کیا کیا نہ نظر سے گزرے
    کاش وہ بھی کبھی اس راہ گزر سے گزرے

    کوئی صورت نظر آئی نہیں آبادی کی
    ہم تو ان اجڑے ہوئے شام و سحر سے گزرے

    سفرِ عشق میں کھلتی ہیں ہزاروں راہیں
    دل مسافر ہے خدا جانے کدھر سے گزرے

    پھر بھی کیوں خشک ہیں دامن میرے غم خواروں کے
    کتنے طوفان مرے دیدۂ تر سے گزرے

    یوں تو طوفاں سے گزرتے ہیں سفینے اکثر
    وہی کشتی ہے جو ساحل کے بھنور سے گزرے

    دل کو یارا نہ ہوا آنکھ بھی جھپکانے کا
    ایسے نظارے بھی کچھ اپنی نظر سے گزرے

    اور بھی پھیل گئیں رنج و الم کی راہیں
    رہ نوردانِ رہِ عشق جدھر سے گزرے

    (صوفی تبسم)​
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 23, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کیا کیا نہ نظر سے گزرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر