ڈیٹابیس

قیصرانی نے 'پروگرامنگ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 4, 2012

  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پیارے بھائی محب علوی کی فرمائش پر یہ دھاگہ شروع کر رہا ہوں۔ مجھے نہ تو اچھا طالبعلم ہونے کا دعویٰ ہے اور نہ ہی اچھا استاد ہونے کا۔ تاہم کوشش کرتا ہوں کہ سادہ سے الفاظ میں بیان کروں کہ ڈیٹابیس ہوتا ہے کیا اور اسے استعمال کیوں کیا جاتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ڈیٹابیس بنیادی طور پر کمپیوٹر کا ایسا پروگرام ہوتا ہے جو ڈیٹا کو نہ صرف محفوظ کرنے کا کام کرے بلکہ بوقتِ ضرورت اسے تلاش کر کے سامنے لانے کا کام بھی کرے

    ڈیٹا بیس پروگرام سے ہر وہ بندہ براہ راست یا بالواسطہ واقف ہوتا ہے جس نے کمپیوٹر کو استعمال کیا ہو۔ کمپیوٹر کا آپریٹنگ سسٹم یعنی ونڈوز، ڈاس، لینکس وغیرہ، یہ سب کے سب ڈیٹا بیس بھی ہوتے ہیں۔ یعنی ہمارے کمپیوٹر میں موجود ہر لفظ یا ہر علامت انہی کی مدد سے محفوظ ہوتی ہے اور انہی کی مدد سے دوبارہ تلاش کی جاتی ہے

    شروع شروع میں کمپیوٹرز کی یاداشت یعنی میموری بہت کم ہوتی تھی اور اسے خوب چھان پھٹک کر استعمال کرنا پڑتا تھا۔ تاہم ان دنوں ڈیٹا کی مقدار بھی بہت کم ہوتی تھی جو ہمیں محفوظ کرنی پڑتی تھی۔ اس لئے شروع کے ڈیٹا بیس پروگرام بہت سادہ سے ہوتے تھے۔ تاہم اب ہماری بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ پروگرام بھی چالاک ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لئے اب اب کی بے شمار اقسام ہیں جو مختلف طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کو محفوظ اور دوبارہ پیش کرنے کا کام کرتے ہیں

    ڈیٹا بیس پروگرام کی چند بنیادی خصوصیات ایسی ہیں جن کے ذریعے ہم ان کی درجہ بندی کر سکتے ہیں کہ کون بہتر ہے اور کون زیادہ بہتر

    سب سے اہم خاصیت ڈیٹا کی حفاظت ہے۔ اس کے بعد اس کی رفتار اور اس کے کام کرنے میں کتنی درستگی ہوتی ہے، سامنے آتے ہیں۔ یعنی اگر ایک پروگرام ڈیٹا کو بہت تیزی سے محفوظ کر سکتا ہو اور اس کو پیش بھی کرنے میں کافی تیز ہو لیکن اس میں یہ "معجزہ نما خوبی" ہو کہ بعض اوقات ڈیٹا "گم" ہو جائے تو ایسا پروگرام کسی کام کا نہیں۔ تاہم محض حفاظت کا کوئی فائدہ نہیں کہ جو انتہائی کم رفتار ہو یا بوقتِ ضرورت اول جلول پیش کر دے۔ ایک اور خاصیت یہ بھی ہے کہ ڈیٹابیس کم سے کم جگہ زیادہ سے زیادہ ڈیٹا محفوظ کر سکے

    آج کل کے انٹرنیٹ کے دور میں اس کی مثال یوں لیں کہ جیسے گوگل اور یاہو اور بنگ ہیں۔ تینوں سرچ انجن ہیں۔ تینوں کے پاس دنیا کے جدید ترین ڈیٹا بیسز ہیں۔ لیکن گوگل اور دیگر کمپنیوں کے سرچ کے نتائج میں زمین آسمان کا فرق اسی لئے ہوتا ہے کہ گوگل سرچ کا کام انتہائی تیزی اور انتہائی درستگی سے کرتا ہے

    کمپیوٹر سے ہٹ کر اگر آپ مثال دیکھنا چاہیں تو بینک کی مثال لے لیں۔ کئی سال قبل تک جب بینکوں میں کمپیوٹر نہیں ہوتا تھا تو آپ چیک لے کر بینک جاتے تھے۔ بینک والے آپ کے اکاؤنٹ کو چیک کرتے کہ آیا یہ اکاؤنٹ آپ کا ہے یا نہیں، پھر آپ کے دستخط چیک ہوتے تھے۔ پھر آپ کے اکاؤنٹ میں موجود رقم کو چیک کیا جاتا تھا۔ پھر اگر پولیس وغیرہ نے کوئی پابندی لگائی ہے تو وہ چیک ہوتی تھی۔ پھر جا کر آپ کو اپنے پیسے ملتے تھے۔ اکاؤنٹ کی تفصیل، دستخط وغیرہ سب کے سب ہی ڈیٹابیس میں محفوظ ہوتے تھے لیکن ان کے کام کی رفتار بہت سُست ہوتی تھی۔ اب وہی کام کرنے کے لئے کمپیوٹر ہے جو یہ سارے کام ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں کر کے آپ کا چیک کلیئر کر دیتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    یہاں تک جو بھی سوال ذہن میں آ رہا ہے وہ مجھے پی ایم یعنی ذاتی پیغام میں بھیج سکتے ہیں۔ جونہی موضوع کی مناسبت سے ان کا وقت آیا، ساتھ جواب دیتا جاؤں گا۔ ادھر کچھ مت لکھئے گا
     
    • متفق متفق × 1
  4. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اب ایک فطری سا سوال پیدا ہوتا ہے ذہن میں کہ یہ کون سا بڑا تیر مار رہا ہے ڈیٹا بیس پروگرام کہ ڈیٹا کو رکھا اور جب ضرورت پڑی تو نکال لیا۔ یہ کام تو ہم خود بھی تو کر سکتے ہیں نا۔ مائی کمپیوٹر کھولا۔ سی ڈرائیو پر ڈبل کلک کیا مطلوبہ فولڈر پر جا کر گانا چلا لیا یا تصویر کھول لی۔ پھر کیوں اس پروگرام کو بنایا گیا۔ اس کا جواب کچھ یوں ہے

    کمپیوٹر میں ڈیٹا کو محفوظ کرنے کی اکائی ایک بٹ ہوتی ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ مقناطیسی چارج موجود ہے تو وہ ایک کہلائے گا اور جہاں موجود نہیں وہ صفر۔ اس طرح کے آٹھ یونٹ یعنی اکائیاں مل کر ایک بڑی اکائی بناتے ہیں جسے ہم بائٹ کہتے ہیں۔ ایک بائٹ ایک حرف کو محفوظ کرنے کے کام آتا ہے۔ یعنی جب آپ A لکھتے ہیں تو کمپیوٹر اس کو اپنی زبان میں آٹھ خانوں میں رکھ دیتا ہے۔ ہر خانے میں صفر یا ایک لکھا ہوگا۔ اسی طرح B اور اسی طرح دیگر حروفِ تہجی۔ ہر ہندسہ بھی ایک جگہ گھیرے گا۔ تاہم یہ بات ہمارے موجودہ موضوع سے ہٹ کر ہے کہ کمپیوٹر کیوں ڈیٹا کو اپنی زبان میں منتقل کرتا ہے اور صٍفر اور ایک کی کیا کہانی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کمپیوٹر ہر ڈیٹا کو کسی جگہ رکھتا ہے اور پھر اپنے پاس مقام کا پتہ بھی رکھتا ہے کہ کون سی چیز کہاں رکھی گئی۔ سچ کہا۔ اس میں کون سا کمال ہے؟ یہ کام تو آپ بھی کر سکتے ہیں نا؟ پھر ڈیٹابیس کا کیا کمال ہوا؟

    اب آپ یہ دیکھیں کہ ایک کتاب کو آپ یاد کرتے ہیں تو کتنی مشکل ہوتی ہے کہ کون سا لفظ کس جگہ لکھا ہوا ہے؟ کون سے صفحے اور کون سے پیراگراف پر موجود ہے؟ ہے نا مشکل؟ اگر آپ کو بیک وقت کئی سو کتابیں محفوظ کرنی ہوں تو کیا کریں گے؟ ہے نا مشکل کام۔ اچھا چلیں ایک اور گڑبڑ کرتے ہیں۔ آپ کو کہا جاتا ہے کہ فلاں کتاب ہٹا دو یعنی اپنی یاداشت سے ایک منٹ کے اندر اس کتاب کو ختم کر دیں (اس میں دو سو صٍفحات ہیں)۔ پھر فلاں ایک اور جگہ سے دوسری کتاب ہٹا دو، جس کے اڑھائی سو صٍفحات ہیں۔ پھر ایک اور کتاب کے درمیان سے ادھر ادھر سے پچاس صفحات مزید ہٹا دیں۔ اب کل کتنے صفحات کی جگہ خالی بچ گئی؟ یعنی پانچ سو صفحات کی جگہ بچ گئی۔ اب ایک کتاب آتی ہے جس میں پانچ سو صفحات ہیں۔ اب آپ کتاب کو ایک جگہ نہیں رکھ سکتے کہ کوئی بھی خانہ اتنا بڑا نہیں۔ اب آپ اس کتاب کے کچھ صفحات ایک جگہ، کچھ دوسری جگہ اور کچھ تیسری جگہ رکھتے ہیں۔ کیا اب بھی ہر کتاب کو تلاش کرنا اتنا ہی آسان ہے؟ کیا اب بھی یہ کام آسان ہے کہ کون سی کتاب کا کون سا صفحہ کس جگہ ہے اور کون سا حرف کس جگہ؟ نہیں نا؟ اس کام کے لئے ڈیٹابیس پروگرام بنائے گئے ہیں جو یہ سارا مشکل مشکل کام خود کرتے ہیں

    اب ایک اور مثال دیکھیں

    آپ نے مائی کمپیوٹر کھولا، سی ڈرائیو پر جا کر مائی ڈاکومنٹس میں ایک ورڈ کی فائل بنائی۔ اس میں کچھ لکھا۔ اسے سیو کر دیا۔ اب دوبارہ جب بھی کھولنا ہوگا تو یہ کام کتنا آسان ہے؟ مائی کمپیوٹر پر گئے، سی ڈرائیو، مائی ڈاکومنٹس اور مطلوبہ فائل پر ڈبل کلک کیا اور فائل حاضر۔ لیکن یہ سارا کام اتنا آسان نہیں۔ آپ کے کمپیوٹر پر آپریٹنگ سسٹم کو پتہ ہے کہ مائی کمپیوٹر کیا ہے۔ سی ڈرائیو کہاں ہے۔ مائی ڈاکومنٹس کا فولڈر کہاں رکھا ہے۔ مطلوبہ فائل کہاں رکھی گئی تھی۔ اب عین ممکن ہے کہ آپ کی مطلوبہ فائل کے کئی ہزار ٹکڑے کر کے انہیں مختلف جگہوں پر رکھ دیا ہو۔ لیکن جب آپ کام کرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ سارا ڈیٹا ایک ہی جگہ موجود ہے۔ یہ سارا جادو کا کام بے چارہ ڈیٹابیس ہی کرتا ہے۔ امید ہے کہ ڈیٹابیس کی اہمیت کا کچھ اندازہ ہو گیا ہوگا
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اگر یہاں تک ہر بات سمجھ آ گئی ہے تو اوپر والی پوسٹ پر "متفق" کا بٹن دبا دیں۔ تاکہ سلسلہ آگے بڑھ سکے۔ اگر کوئی سوال ہو تو پی ایم کر دیں :)
     

اس صفحے کی تشہیر