ڈکٹیٹر کتابوں سے ڈرتے ہیں۔

نبیل

تکنیکی معاون
ماخذ: ڈیلی ایکسپریس 21 اپریل 2010

1100918699-2.gif
 

arifkarim

معطل
موجودہ جدید دور میں اب “کتب“ کو جلانا یا بین کرنا پرانے وقتوں کی طرح آسان نہیں رہا۔ کیونکہ اب چھوٹی سی مائکرو چپ میں ہزاروں لاکھوں کتابیں سمائی جا سکتی ہیں۔ البتہ انسانی فطرت کے عین موافق “آزاد“ ملکوں میں بھی بڑی کارپوریشنز کے سامنے حکومتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ آجکل یورپی ممالک “دہشت گردی“ کے نام پر شہری حقوق چھیننے میں پیش پیش ہیں۔ شروع میں محض آہستہ آہستہ ٹیلیفون اور نیٹ ایکٹیوٹی مانیٹر کی جاتی ہے۔ بعد ازاں فائل شیئرنگ اور یوٹیوب پر متنازعہ فائلز کو “کاپی رائٹ“ کا بہانہ کر کے بلاک کر دیا جاتا ہے۔ اور یوں چل سو چل۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ جونسی چاہے حکومت ہو، پلیٹ فارم ہو، طاقت ور ہمیشہ ان علوم کو دباتے ہیں، جس سے انکے اقتدار و طاقت کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ جیسے ایران کے خومینی نے سلمان رشدی کی فتنہ پرور کتاب Satanic Verses بین کرکے اسکی اشاعت سے منسلکہ ہر فرد، خواہ وہ پبلشر، ناشر ،پرنٹر ، ترجمان ہو، پر قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ بالکل ویسے ہی ہٹلر کے زمانہ میں ہزاروں متنازعہ کتب کو ڈھیروں کی شکل میں جلایا گیا۔۔۔۔
البتہ ۷۰ کی دہائی میں نسواں مہم کیےدوران فحاشی کے رسالے جلانے والی مہم قابل فخر ہے۔ گو کہ مستقبل پر اسکا کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
 

خورشیدآزاد

محفلین
اب کیا مدرسے اور کیا یونیورسٹیاں ہر جگہ سےبند ذہن رکھنے والوں کی اکثریت نکل رہی ہے۔ ان میں کچھ جہاد پر چلے جاتے ہیں، کچھ خودکش بمبار بن جاتے ہیں اور باقی رہ جانے والے سماج میں تعصب، فرقہ واریت، صنفی امتیاز اور عدم برداشت پھیلانے پر خود کو مامور کرلیتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ جو باقی رہ جاتے ہیں یہ بعد میں چاہے کوئی سا بھی شعبہ ہو مولویت، سیاسی کارکن، سرکاری نوکر وغیرہ وغیرہ یہ اپنے شعبے میں نیم حکیم ہوتے ہیں اور نیم حکیم کے ہاتھوں مریض کی کیا درگت بنتی ہے یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
حقیقت یہ ہے کہ جونسی چاہے حکومت ہو، پلیٹ فارم ہو، طاقت ور ہمیشہ ان علوم کو دباتے ہیں، جس سے انکے اقتدار و طاقت کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ جیسے ایران کے خومینی نے سلمان رشدی کی فتنہ پرور کتاب Satanic Verses بین کرکے اسکی اشاعت سے منسلکہ ہر فرد، خواہ وہ پبلشر، ناشر ،پرنٹر ، ترجمان ہو، پر قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔
معاف کیجئے گا ‘ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘ والا معاملہ لگ رہا ہے۔ بھلا رشدی کی اس کتاب پر پابندی سے خمینی کے اقتدار کا کیا تعلق ہے:)
 

arifkarim

معطل

x boy

محفلین
اب ڈکٹیٹر کتابوں میں بستے ہیں
جیسے مشرف کی کتاب جس لکھا گیا کہ اس نے چھ ماہ کے بچے کو تک نہ بخشا اور امریکہ کے حوالے کیا۔
 
Top