ڈرون :امریکا کا آخری ہتھیار؟ زبیر احمد ظہیر

امکانات نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 5, 2009

  1. امکانات

    امکانات محفلین

    مراسلے:
    382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ڈرون :امریکا کا آخری ہتھیار؟

    تحریر : :زبیر احمد ظہیر

    کیا چیف جسٹس کی بحالی کو امریکانے قبول نہیں کیا؟ یہ بڑا الجھا ہوا سوال ہے ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چیف جسٹس کی بحالی کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں یہ پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے عام طور پر کسی ملک کے داخلی معاملات سے دوسرے ممالک دوررہتے ہیں اورسفارتی آداب میں ملک کی خود مختاری کا خیال رکھا جاتا ہے، ان ہی عالمی سفارتی آداب کے تحت امریکا نے چیف جسٹس کی بحالی کا برملا برا بھی نہیں منایا۔

    رہی بات تحفظات کی اگر امریکی دفترخارجہ نے رسمی طورپر برا منایا بھی ہو تو تحفظات کے اظہار کو کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت تصور نہیں کیاجاتا ہے لہذااگر امریکا کے چیف جسٹس کی بحالی پر تحفظات رہے ہوں تو رہے ہونگے ان تحفظات کو مداخلت تو نہیں کہا جاسکتا۔

    امریکا نے اگرچیف جسٹس کی بحالی پر بُرا منایا بھی تو اس کا اظہار سفارتی زبان میں ڈھکے چھپے لفظوں میں کیا ہوگا اور ایسا دنیا بھر کی سفارت کاری میں ہوتا رہتا ہے ملکوں کے مفادات میں اتنی نوک جھونک چلتی رہتی ہے۔ اس نوک جھونک کو مداخلت کوئی نہیں کہتا ہے۔ اس تمہیدسے یہ تسلیم کرتے بنے گی کہ چیف جسٹس کی بحالی پر امریکا کے تحفظات ضرور رہے ہوں گے مگر امریکا نے چیف جسٹس کی بحالی کو تسلیم کر لیا ہے۔

    اگلا سوال یہ ہے کہ امریکا نے ڈرون حملوں میں اچانک تیزی کیوں شروع کر دی ہے اور اس کے ساتھ ہی اوباما نے پاک ،افغان نئی پالیسی کا اعلان کیوں کیا؟ خاص طور پر جب چیف جسٹس کو بحال ہوئے محض چند دن گزرے تھے ۔چیف جسٹس کی بحالی کی خبروں کے بعد ہی ڈرون حملوں میں شدت ،پاکستان اور افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی کا اعلان یہ دو بڑے اقدامات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔

    کہنے کو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ڈرون حملے تو پہلے سے جاری ہیں، عین ممکن ہے امریکا نے پاکستان کے سیاسی بحران کے پیش نظر چند دن کا وقفہ لیا ہو۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ اوباما انتظامیہ نئی نئی ہے اور اسے نئی پالیسی تک پہنچنے او رمنصوبہ بندی کرنے میں اتنے دن لگ گئے ہوں کہ یہ سب کچھ جو عجلت میں کیا جانا دکھلائی دے رہا ہے ۔

    ہوا تو معمول کے مطابق مگر دکھائی ایسا دیاکہ یہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد امریکا کواچانک کرنا پڑ گیا ہے اگر یہ اتفاق نہیں اور بدلتی ہوئی صورتحال کے تحت امریکا کی نئی حکمت عملی ہے تو اس معاملے کو چیف جسٹس کی بحالی سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔اس نقطہ نظر کوثابت کرنا چنداں مشکل نہیں ۔دلائل کا انبار موجود ہے جو اس نقطہ نظر کو ثابت کر سکتا ہے ۔

    پہلی بات تو یہ ہے کہ چیف جسٹس کی بحالی کے متعلق مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان ریکارڈپر موجود ہے جس میں انہوں نے صدر آصف علی زرداری کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی پر وہ ہی قوتیں رکاوٹ ہیں جنہوں نے صدر مشرف کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔پاکستان کے سیاسی نظام سے آگاہی رکھنے والاکوئی ادنی شخص بھی اس قوت سے ناواقف نہیں۔ یہ قوت اس کے علاوہ اورکون ہوسکتی ہے جس نے اپنی جنگ کیلئے پاکستان کی ایک لاکھ 20 ہزار فوج کوسب سے طویل سرحد پر لگا رکھاہے اور اسے جنگ سے واپس آنے نہیں دے رہی ۔


    چیف جسٹس کی بحالی بزوربازو ہوئی ، یہ امریکا کے دباؤ یا صدر زرداری کی رضا مندی سے ہر گز نہیں ہوئی بلکہ عوامی طاقت کے بل بوتے پر ہوئی ہے جسے حکومت اور امریکا نے بادل ناخواستہ قبول کیا ہے چونکہ چیف جسٹس کی بحالی سے زمینی حقائق یکسر تبدیل ہو چکے ہیں اور امریکا کے لئے وہ آسانیاں نہیں رہیں جو پہلے تھیں۔

    صدر مشرف اور چیف جسٹس میں سب سے زیادہ بگاڑ جس اقدام نے پیدا کیا تھا وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا تھا جس نے امریکا کی طنابیں ہلا کر رکھ دیں تھیں۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا چیف جسٹس کا کوئی جرم ایسانہ تھا جسے مشرف ہضم نہ کرسکتے۔ باقی جو کچھ چیف جسٹس نے کیا صدر مشرف وہ سب بھول سکتے تھے۔ یہ بات صدر مشرف سے اس لئے ہضم نہ ہوئی کہ لاپتہ افراد کا معاملہ امریکا کی گردن میں اٹک گیاتھا لہٰذا صدر مشرف نے امریکی آشیرباد پر چیف جسٹس کو معزول کردیا۔

    چیف جسٹس کی بحالی سے ان تمام خدشات نے جن کی وجہ سے ان کی معزولی عمل میں آئی ایک بار پھرسے سراٹھانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے اب امریکا کو دکھائی دے رہا ہے کہ چیف جسٹس لاکھ یقین دہانیاں کروائیں انہوں نے اس عوامی دباؤ پر جس کے تحت‘ بحال ہوئے ہیں لازمی طو رپر لاپتہ افراد کے معاملے کوایک نہ ایک دن اٹھانا ہے جب یہ سلسلہ اٹھے گا تو امریکا کو خطرہ ہے اس مسئلہ کے اٹھنے سے اس کی دہشت گردی کیخلاف جنگ متاثر ہوسکتی ہے ۔جس کی بنا پر اس کا القاعدہ کے خلاف برسوں سے بچھایاہواجال بے کا رہو کر رہ جائے گا اور دہشت گردی کیخلاف جو جنگ ناکامی کے گڑھے کے کنارے پر آکر رکی ہوئی ہے دھڑام سے ناکامی کے گڑھے میں جا گر ئے گی ۔

    اس ناکامی سے بچنے کیلئے امریکا کے پاس اس جنگ کو جاری رکھنے کیلئے صرف ایک ہی ہتھیارباقی بچتا ہے کہ بجائے ان عسکریت پسندوں کو زندہ گرفتار کرنے کہ جنہیں بھاری اخراجات کے بعد گرفتارکیاجائے اور کل پھر انہیں چھوڑ نا پڑے اس طویل دقت طلب کام سے بچنے کیلئے ایک ہی راستہ رہ جاتاہے ۔پاکستان میں اپنی جاسوسی کے بچھائے ہوئے جال کی مدد سے ان کا سراغ لگا کر ڈرون حملوں میں انہیں مار دیا جائے۔ اسی واحد کارآمد ہتھیار کو امریکا نے اپنی نئی پالیسی کی بنیاد بنا لیا ہے جس کی وجہ سے چیف جسٹس کی بحالی کے بعد اچانک امریکا کے ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے۔

    اگر چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ڈرون حملوں میں آنے والی تیزی اور امریکا کی نئی پالیسی اتفاق نہیں بلکہ بدلتے ہوئے زمینی حقائق کی بنیاد پر بننے والی نئی حکمت عملی کا نتیجہ ہے تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ امریکا نے اب اپنی ساری جنگ کا انحصار ڈرون حملوں پر کر دیا ہے لہذا اب ڈرون حملوں کے بندہونے کی امید دم توڑ گئی ہے تب یہ بھی سچ ہوگا کہ امریکا نے چیف جسٹس کی بحالی قبول نہیں کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  2. راشد احمد

    راشد احمد محفلین

    مراسلے:
    695
    اچھی تحریر ہے شکریہ زبیر بھائی
     
  3. امکانات

    امکانات محفلین

    مراسلے:
    382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    آپ کا بھی شکریہ
     
  4. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    يہ تجزيہ حقائق کے منافی ہے کہ صدر اوبامہ کی پاکستان کے حوالے سے نئ پاليسی چيف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی سميت پاکستان کے سياسی منظرنامے ميں تبديلی کے ردعمل ميں تيار کی گئ ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ يہ پاليسی پاکستان، افغانستان اور ديگر ممالک کے بے شمار اداروں، تنظيموں اور ان سے وابستہ ماہرين کی مشترکہ کوششوں کے بعد تشکيل دی گئ ہے۔ يہ عمل کئ ہفتوں سے جاری تھا اور پاکستان ميں ہونے والی سياسی تبديليوں سے اس کا کوئ تعلق نہيں ہے۔

    افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے نئ حکمت عملی کسی فوری ردعمل کے نتيجے ميں نہيں بلکہ کئ سالوں سے درپيش دہشت گردی کے خطرے سے نبٹنے کے ليے ايک جامع تجزيے کے مستقل عمل کے بعد تشکيل دی گئ ہے۔

    اس تجزياتی عمل کے دوران بے شمار کانفرنسوں، سيمينارز اور فورمز پر رپورٹس، بحث ومباحثہ اور ماہرين کی رائے پر بڑی باريک بينی سے غور کيا گيا۔ ايسی ہی ايک کانفرنس ميں مجھے ذاتی طور بھی شرکت کا موقع ملا اور ميں نے اس کا ذکر بھی اسی فورم پر کيا تھا جو آپ اس لنک پر ديکھ سکتے ہيں۔

    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?p=446627#post446627

    آپ ديکھ سکتے ہيں کہ اس کانفرنس کا انعقاد چيف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی سے کافی پہلے کيا گيا تھا۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. امکانات

    امکانات محفلین

    مراسلے:
    382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,502
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    زبیر بھائی انکا قصور نہیں یہ ڈیضیٹل والے جو ٹھرے سو ڈیجیٹل بنیادوں پر سب ‌آسانیاں میسر ہیں :grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. محسن حجازی

    محسن حجازی محفلین

    مراسلے:
    2,513
    موڈ:
    Breezy
    ابھی دفتر آتے ہوئے میرے بالکل سامنے سے سیاہ رنگ کی کار میں چینی سفیر گزر رہے تھے۔ نہ آگے کوئی سیکیورٹی نہ پیچھے کوئی کارواں۔
    امریکیوں کو سوچنا چاہئے کہ انہوں نے خود کو کیوں غیر محفوظ کر لیا ہے؟
    یا وہ کیوں غیر محفوظ ہیں؟
    وہ کیوں اس طرح نہیں گھوم سکتے؟
    اگر واقعی امریکی اہل دانش ہیں تو انہیں بہت کچھ Rethink کرنے کی ضرورت ہے۔

    سادہ سا تجربہ کیجئے۔ محلے کے دوچار افراد کے ساتھ بلاوجہ گالم گلوچ کیجئے، ان کے معاملات میں ٹانگ اڑائیے، ان کے وسائل پر قبضے کی ہوس میں رہئے۔
    پھر بس آپ کو بھی امریکی سفیر کی طرح گھومنا ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  8. عبدالمجید

    عبدالمجید محفلین

    مراسلے:
    933
    واہ محسن بھائی واہ کیسے آسان الفاظ میں‌ تجزیہ کیا آپنے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. امکانات

    امکانات محفلین

    مراسلے:
    382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    محسن صاحب کے انہی تجزیوں کو دیکھ کر ہم نے کالم لکھنے مشورہ دیا اور روزنامہ مقدمہ کراچی کے ادارتی صفحات پر شائع کر نے کا یقین دلایا مگر ہوا یہ کہ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد والی بات ہو گئی سچ کہتے ہیں مفت کے مشورے کی قدر نہین ہوتی اگر میں نے ان سے موٹی سے دعوت کھا کر انہیں‌یہ مشورہ دیا ہوتا تو انہوں نے کالم لکھ دیا ہوتا عبدالمجید میں تو ہمت ہار چکا ہوں اآپ ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں پانی اگر مسلسل پتھر پے گرے سوراخ کر دیتاہے ان کا تو دل ہے ہمت مت ہاریئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. امکانات

    امکانات محفلین

    مراسلے:
    382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    فواد جو کچھ پیش کر تے ہیں یہ امریکا کا سرکاری موقف ہوتا ہے امریکا کی یہ وسعت ظرفی کیا کم ہے کہ اس نے ہم جیسوں کے لیے بھی سرکاری موقف کا بندوبست کر رکھا ہے پھر بھی سب لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ امریکہ پوچھتا نہیں ہم یہ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ کیا ہمدردی ہو گی کہ ہر جگہ آپ کا خیال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر