ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب شیطانیاں سے

نور وجدان

لائبریرین
مہاتما بدھ کہتا ہے ۔“ اگر دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے مجھ سے پوچھا جاتا اور مجھے چوائس ملتی تو میں بوڑھا پیدا ہوتا اور بچہ ہو کر مرتا ۔“ ہر آدمی چاہے وہ کتنا بھی جوان نظر آنا چاہے مگر وہ رہنا بوڑھوں کی طرح چاہے گا ۔
ہر پرانی چیز قیمتی ہوتی ہے ۔ پرانا تو جھوٹ بھی نئے سچ سے زیادہ قابل اعتبار ہوتا ہے انسان کی جتنی عزت بڑھاپے میں ہوتی ہے اتنی ساری زندگی نہیں ہوتی جس کی وجہ یہ ے کہ بڑھاپے میں اس لیے عزت ہوتی ہے کہ اس وقت تک بندے کو جاننے والے ہم عمر بہت کم زندہ ہوتے ہیں ، دنیا میں کوئی بوڑھا بے وقوف نہیں ہوتا ، کیونکہ جو بے وقوف ہوتا ہے وہ بوڑھا نہیں ہوتا ۔
دنیا میں تین قسم کے بوڑھے ہوتے ہیں ایک وہ جو خود کو بوڑھا سمجھتے ہیں دوسرے وہ جنھیں دوسرے بوڑھا سمجھتے ہیں اور تیسرے وہ جو واقعی بوڑھے ہوتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ مخلص ، بوڑھا مخلص ہوتا ہے اور سب سے برا دشمن بوڑھا دشمن کیونکہ اس کا اپنا تو کوئی مستقبل نہیں لیکن وہ آپ کا مستقبل خراب کرا سکتا ہے ۔
بڑھاپے کی اس سے زیادہ برائی اور کیا ہوگی کہ آپ کو پاکستان کا صدر بننے کے لیے جس کوالیفیکیشن کی ضرورت ہے وہ صرف بڑھاپا ہے ۔
دنیا میں جتنی عبادت ہوتی ہے اس میں نوے فیصد بڑھاپے میں ہوتی ہے ۔مجھے تو لگتا ہے قیامت میں بخشے نہ جانے والے لوگوں میں زیادہ تر وہی ہوں گے جنھیں بوڑھا ہونے کا موقع نہیں ملا ہوگا ، اس دنیا کو جنت بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تمام انسانوں کو بوڑھا کر دیا جائے ۔
( ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب شیطانیاں سے اقتباس )


Posted by S.N.Hijaab at 13:04
 

arifkarim

معطل
ڈاکٹر یونس بٹ کمال کے مزح نگار ہیں۔ پھر پتا نہیں کیوں جیو کے انتہائی مضحکہ خیز پروگرام ”ہم سب امید سے ہیں“ کے نگران ہیں۔
 
ڈاکٹر یونس بٹ کمال کے مزح نگار ہیں۔ پھر پتا نہیں کیوں جیو کے انتہائی مضحکہ خیز پروگرام ”ہم سب امید سے ہیں“ کے نگران ہیں۔
سب کا اپنا اپنا پیمانہ ہوتا ہے۔ اپنے فُٹے سے پیمائش چھوڑیں تو شاید آپ کو یہ پروگرام مضحکہ خیز نہ لگے
 

arifkarim

معطل
سب کا اپنا اپنا پیمانہ ہوتا ہے۔ اپنے فُٹے سے پیمائش چھوڑیں تو شاید آپ کو یہ پروگرام مضحکہ خیز نہ لگے
ایک زمانہ تھا یہ پروگرام مجھے بہت پسند تھا۔ پھر اسمیں انہوں نے نت نئی جدتیں ڈالنی شروع کر دیں جسکے بعد اس میں دلچسپی ختم ہو گئی۔
 
Top