میر مہدی مجروح چھُپ کے میں نے نہ پھر دکھایا مُنہ - میر مہدی مجروح

کاشفی

محفلین
غزل
(میر مہدی مجروح)
چھُپ کے میں نے نہ پھر دکھایا مُنہ
کھُل گیا خواب میں جو اُس کا مُنہ

میں نے بوسہ طلب کیا تو کہا
دھو تو رکھو ذرا تم اپنا مُنہ

ہے اک عالم کو دیکھنے کا شوق
عید کا چاند ہے تمہارا مُنہ

خیر ہے دل کہیں لگا بیٹھے
کیوں ہے اُترا ہوا تمہارا مُنہ

آئینہ سے نصیب ہیں کس کے
دیکھ لیتا ہے روز اُن کا مُنہ

بات تک بھی کبھی نہیں کرتے
تم نے کیا سی رکھا ہے اپنا مُنہ

کبھی زلفوں کو دل نہ دیں اپنا
بیچ میں نہ ہو گر تمہارا مُنہ

اُس کا مُنہ دیکھنا نصیب ہوا
صبح دیکھا تھا آج کس کا مُنہ

لپٹیں لگتی ہیں روز آہوں کی
شبِ غم کا نہ کیوں ہو کالا مُنہ

برق اپنی نظر میں کوند گئی
کس نے غرفہ سے یہ نکالا مُنہ

ساری محفل کی کج رُخی دیکھی
اک فقط تھامیں تمہارا مُنہ

اُس کی محفل میں بےبسی سے کل
تکتا مجروح تھا ہر اک کا مُنہ
 
Top