چلو کچھ ہنستے ہیں

قمر اِقبال

محفلین
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں محبت پر عنایت پر.....!
کہ بے بنیاد باتیں ہیں سبھی رشتتے سبھی ناتے.....!
ضرورت کی ہیں ایجادیں، کہیں کوئی نہیں مرتا.....!
کہ سب ہے پھیر لفظوں کا، ہے سارا کھیل ہرفوں کا...!
نہ ہے محبوب کوئی بھی،سبھی جملے سے کَستے ہیں....!
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں،محبت پر 'عنایت پر....!
جِسے ہم زندگی کہتے ،جسے ہم شاعری کہتے....!
غزل کا قافیہ تھا جو عنوان نظموں کا....!
وہ لہجہ جب بدلتا تھا قیامت خیز لگتا تھا....!
وقت سے آگے چلتا تھا بلّا کا تیز لگتا تھا....!
جو سایہ بن کے رہتا تھا،جُدا اب اُس کے رسّتے ہیں....!
چلو کچھ دیر روتے ہیں،چلو کچھ دیر ہنستے ہیں.....!
 

ابن رضا

لائبریرین
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں محبت پر عنایت پر.....!

کہ سب ہے پھیر لفظوں کا، ہے سارا کھیل ہرفوں کا...!
وقت سے آگے چلتا تھا بلّا کا تیز لگتا تھا....!
جو سایہ بن کے رہتا تھا،جُدا اب اُس کے رسّتے ہیں....!
چلو کچھ دیر روتے ہیں،چلو کچھ دیر ہنستے ہیں.....!

بہت خوب۔

(حرفوں، بلا، رستے) ہجے درست کر لیجیے

نیز یہ معمولی سی تدوین کے ساتھ پابندِ بحور نظم ہے (مفاعیلن مفاعیلن)

چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
محبت پر عنایت پر
کہ بے بنیاد باتیں ہیں
سبھی رشتے سبھی ناتے
کہ سب ہے پھیر لفظوں کا
ہے سارا کھیل حرفوں کا
نہیں محبوب کوئی بھی،
سبھی جملے ہی کستے ہیں....!
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
محبت پر 'عنایت پر....!
جِسے ہیں زندگی کہتے
جسے ہم شاعری کہتے....!
غزل کا قافیہ تھا جو
وہی عنوان نظموں کا....!
وہ لہجہ جب بدلتا تھا
قیامت خیز لگتا تھا....!
سمے سے آگے چلتا تھا
بلا کا تیز لگتا تھا....!
جو سایہ بن کے رہتا تھا
جُدا اب اُس کے رستے ہیں....!
چلو کچھ دیر روتے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں....
 
آخری تدوین:
Top