چاند تارے بھی کار کرتے ہیں میری سانسیں شمار کرتے ہیں

میاں وقاص نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 29, 2015

  1. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    چاند تارے بھی کار کرتے ہیں
    میری سانسیں شمار کرتے ہیں

    چل کہ آوارگی ہوئی کافی
    گھر کی آباد غار کرتے ہیں

    آج دیوار کچھ نہیں کہتی
    "آج ساے شکار کرتے ہیں "

    ہم قضا کو خریدنے کے لئے
    زندگی کا ادھار کرتے ہیں

    ہم عجب کاروبار کرتے ہیں
    بس خسارے شمار کرتے ہیں

    پھینکتے ہیں وجود ہی اپنا
    کچھ تو ٹھنڈی یہ نار کرتے ہیں

    تم بچھاتے رہو صف_ماتم
    ہم ابھی جشن_ہار کرتے ہیں

    درد و آلام کو ہوا کیا ہے؟
    غمزدوں کا حصار کرتے ہیں

    آپ بیتی یہ کون سنتا ہے
    خود کو ہی واگزار کرتے ہیں

    آئنہ تو یہ ٹوٹ جاے گا
    عکس سوئے مدار کرتے ہیں

    میری خوشیوں کی خاک اڑتی ہے
    کوئی قائم مزار کرتے ہیں

    میں نہیں مانتا، ارے قاصد!
    وہ مرا انتظار کرتے ہیں

    یہ جو دریاے عشق ہے صاحب
    لوگ جذبوں سے پار کرتے ہیں

    آگ اپنی ہے، اور جلتے ہیں
    خود پہ یوں انحصار کرتے ہیں

    کچھ تو ہو نظم و ضبط بھی شاہین
    آنسوں کو قطار کرتے ہیں

    حافظ اقبال شاہین
     

اس صفحے کی تشہیر