چار اشعار سخن ورانِ محفل کی نذر

الف عین

لائبریرین
کل شام ایک مصرع یوں ہی ہو گیا
مگر ہم ہیں کہ غالب کی طرف داری میں رہتے ہیں۔
اس کا استعمال تو کسی شعر میں نہیں ہو سکا۔ لیکن رات اور آج صبح یہ چار اشعار وارد ہو گئے ہیں:
ہزاروں خواب ہیں جو دن کی ہشیاری میں رہتے ہیں
مگر ہم ہیں کہ راتوں کی طرف داری میں رہتے ہیں
بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں

یوں یہ مسلسل غزل کہی جا سکتی ہے کہ ہر شعر قومِ مسلم کے المیے کی نشان دہی کرتا ہے!!
 

محمداحمد

لائبریرین
محترم اعجاز عبید صاحب
آداب

بہت خوب، کیا اچھے شعر کہے ہیں آپ نے پڑھ کر بہت لطف آیا۔ خاص طور پر درمیانی دو اشعار بہت ہی عمدہ ہیں۔ ناچیز کی جانب سے داد حاضر ہے قبول کیجے۔

بہت شکریہ ،

مخلص
محمداحمد
 

محمد وارث

لائبریرین
واہ واہ واہ، سبحان اللہ لا جواب اشعار ہیں اعجاز صاحب

بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں


میں اس شعر کے سحر میں گم ہو گیا ہوں، واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ واہ، سبحان اللہ لا جواب اشعار ہیں اعجاز صاحب

بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں


میں اس شعر کے سحر میں گم ہو گیا ہوں، واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واقعی وارث صاحب

یہ شعر بہت لاجواب ہے۔
 

جیا راؤ

محفلین
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں

واہ !
سارے اشعار ہی خوبصورت ہیں مگر اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے
بہت ہی اعلٰی
 

ایم اے راجا

محفلین
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں

بہت خوبصورت اشعار ہیں، شاگرد اس قابل نہیں کہ استاد کو داد دے۔
مندرجہ بالا شعر، کیا بات اور خیال باندھا ہے، یوں لگا جیسے ہمارے ہی بارے میں کہا ہو، دل کو چیر گیا، پوری غزل کا ہمیں بھی بیتابی سے انتظار رہے گا۔
 

تفسیر

محفلین
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں

بہت ہی عمدہ تخیل ہے
 

فاتح

لائبریرین
واہ واہ واہ سبحان اللہ!

اس شعر کو تو بیت الغزل ہی کہا جانا چاہیے:
بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں​
 

الف عین

لائبریرین
دوستو اور بچو۔۔۔۔ مجھے داد و تحسین کے ٹوکروں کی ضرورت نہیں (ہاں۔ آم کی ہو تو بات دوسری ہے!!!(
یہاں تعریفیں تو ہو گئیں لیکن کسی نے ایک غلطی نہیں دیکھی، جو میں نے ٹائپ کرتے ہوئے کر دی تھی۔
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں
یہ لیکن اور مگر کی تکرارقابل؟ اعتراض نہیں لگی۔ اصل شعر یوں تھا
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی کب کی
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
اور مشورہ دیں کہ یہ شعر
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں
اگر یوں کر دیں تو
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم اپنے جنوں کی چار دیواری میں رہتے ہیں
فصلِ گل اور جنوں کا تعلق زیادہ بہتر رہے گا نا!!!
ایک اور شعر سن لیں

بہت کافی ہے اقلیم سخن کا منصبِ ادنیٰ
ہم اپنی اس عملداری کی سرشاری میں رہتے ہیں
 

ایم اے راجا

محفلین
حضور بندہ اس قابل تو ہر گز نہیں کہ استاد کو مشورہ دے لیکن میرا ذوق کہتا ہیکہ پہلے والا شعر زیادہ بلکہ بہت بہتر ہے، جو لوگ دکھوں اور غموں کی چار دیواریوں میں مقیم ہوتے ہیں انھیں بہاروں کا کب احساس ہوتا ہے کب آئیں اور گذر گئیں۔ جنوں میں بسنے والے کبھی کبھی سجاگ اور ہشیار بھی ہو جاتے ہیں، ادنیٰ سی رائے ہے، امید ہیکہ محسوس نہیں کریں گے۔ شکریہ۔
 

ایم اے راجا

محفلین
لگتا ہے تمہاری بات ماننی پڑے گی راجا۔ تم ویسے بھی دباؤ میں ہو!!

میں شکر گذار ہوں کہ آپ نے میری نہایت ادنیٰ رائے کو اس قابل سمجھا، میں اس لیئے بھی بہت زیادہ شکر گذار ہوں کہ یہ شعر مجھے بہت زیادہ پسند آیا، معنوی طور پر بھی اور لفظوں کی نشست کے لحاظ سے بھی۔ شکریہ۔
 

ایم اے راجا

محفلین
اور ہاں یاد آیا کہ آپ نے آموں کے ٹوکروں کی بات کی تھی تو عرض ہیکہ حضور اگر آپ نزدیک ہوتے تو کئی ٹوکرے نظر کرتا، مگر آپ دل کے قریب ہیں تو یہ دعا کرتا ہوں کہ، خدا کرے کہ آپ کے دسترخوان کبھی آموں سے خالی نہ ہو :)
 

زھرا علوی

محفلین
کل شام ایک مصرع یوں ہی ہو گیا
مگر ہم ہیں کہ غالب کی طرف داری میں رہتے ہیں۔
اس کا استعمال تو کسی شعر میں نہیں ہو سکا۔ لیکن رات اور آج صبح یہ چار اشعار وارد ہو گئے ہیں:
ہزاروں خواب ہیں جو دن کی ہشیاری میں رہتے ہیں
مگر ہم ہیں کہ راتوں کی طرف داری میں رہتے ہیں
بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں
مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں

یوں یہ مسلسل غزل کہی جا سکتی ہے کہ ہر شعر قومِ مسلم کے المیے کی نشان دہی کرتا ہے!!

بہت بہت بہت زبردست
بہت مرجھا گئے ہوں، پھر بھی خوشبو کم نہیں ہوتی
بہت سے پھول ایسے اپنی الماری میں رہتے ہیں

یہ شعر تو بہت اچھا لگا مجھے۔۔۔

مرصع تخت کے پایوں کو دیمک کھا چکی لیکن
مگر شاہانِ قوم اپنی طرحداری میں رہتے ہیں

یہ شعر پڑھ کر ایک سوال پیدا ہوا ہے ذہن میں، پہلے مصرعے کے آخر میں" لیکن" ہے اور دوسرے مصرعے کی شروع میں "مگر"۔۔۔۔
تو کیا یہ repitition نہیں ہو گی میرا مطلب ہے ایک لفظ اضافی نہیں بنتا اور اگر ہے تو کیا یہ ایسے چل سکتا ہے؟
 

الف عین

لائبریرین
زہرا پوسٹ نمبر 11 پھر دیکھو۔ میں نے اپنی تائپنگ کی غلطی کا لکھ ہی دیا ہے۔ کاغذ پر جب لکھی تھی تو ’کب کی‘ الفاظ تھے پہلے مصرعے کے‌آخر میں جو یہاں ٹائپ کرتے وقت غلط ’لیکن‘ لکھ گیا۔
بہت شکریہ نشان دہی کا۔
لیکن اپنی پہلی پوسٹ میں اس لئے تدوین نہیں کی تاکہ کم از کم شاگردوں کو اس کا احساس ہو جائے!!!
 

زھرا علوی

محفلین
اور مشورہ دیں کہ یہ شعر
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم بند اپنے دکھ کی چار دیواری میں رہتے ہیں
اگر یوں کر دیں تو
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر گزرے تو گزرے
کہ ہم اپنے جنوں کی چار دیواری میں رہتے ہیں
فصلِ گل اور جنوں کا تعلق زیادہ بہتر رہے گا نا!!!
ایک اور شعر سن لیں

بہت کافی ہے اقلیم سخن کا منصبِ ادنیٰ
ہم اپنی اس عملداری کی سرشاری میں رہتے ہیں


مجھے دوسرا تعلق زیادہ اچھا لگا۔۔۔

بہت کافی ہے اقلیم سخن کا منصبِ ادنیٰ
ہم اپنی اس عملداری کی سرشاری میں رہتے ہیں

اس شعر سے پتہ چل رہا ہے آپ کو اپنے کام سے کتنی محبت ہے مگر ہمارے لحاظ سے تو آپ منصبِ اعلٰی پر ہیں۔۔۔:):)
 
Top