پیہم عطائے عسرتِ دوراں نہ پوچھیے ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح

لائبریرین
ایک تازہ ترین غزل آپ احباب کی بصارتوں کی نذر۔
پیہم عطائے عسرتِ دوراں نہ پوچھیے
بارے عجیب رحمتِ رحماں نہ پوچھیے

موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے

دردِ ہزار کہنہ کیے گو کشید پر
لمسِ طبیب و حدّتِ درماں نہ پوچھیے

سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے

دریافت کیجے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے

جب سے خبر ہوئی کہ ہے بسمل ابھی حیات
اٹھتی نہیں ہیں، غیرتِ مژگاں نہ پوچھیے
(فاتح الدین بشیر)
 

ابوشامل

محفلین
کیا کہنے حضور کیا کہنے ۔۔۔۔۔ ! مشاعرہ ہوتا تو مکرر مکرر کی صدائیں گونجتیں۔ سارے ہی شعر بہت بھائے لیکن مندرجہ ذیل پر بلا اختیار سبحان اللہ نکل پڑا:
دریافت کیجیے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے
 

فرخ منظور

لائبریرین
واہ واہ۔ کیا ہی خوبصورت غزل ہے فاتح صاحب۔ ایک ایک شعر نگینے کی طرح اپنی آب دکھلا رہا ہے۔ بہت ہی خوب۔ روایتی غزل کا ایک بہت ہی خوبصورت تسلسل۔ بہت داد قبول ہو قبلہ! اللہ کرئے زورِ قلم اور زیادہ۔ :)
 
بلاشبہ بہت اچھی غزل ہے فاتح صاحب! مبارک ہو

اس مصرع میں کیجیے کی بجائے کیجے ہونا چاہے
دریافت کیجے گردشِ صد کہکشاں مگر
 

فاتح

لائبریرین
کیا کہنے حضور کیا کہنے ۔۔۔۔۔ ! مشاعرہ ہوتا تو مکرر مکرر کی صدائیں گونجتیں۔ سارے ہی شعر بہت بھائے لیکن مندرجہ ذیل پر بلا اختیار سبحان اللہ نکل پڑا:
دریافت کیجیے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے
ابو شامل صاحب! بندہ پروری ہے آپ کی۔ بے حد شکریہ جناب۔
اگر دورِ جدید کے کسی کالج یا یونیورسٹی میں منعقدہ مشاعرہ ہوتا تو یہ یقیناً ایک مجرب لوری ثابت ہوتی۔:)
 

فاتح

لائبریرین
محفل شگاف اشعار ہیں۔ بہت ہی منفرد الفاظ اور چست مرکبات نے اسے جان لیوا بنا دیا ہے۔
محفل شگاف جیسا ایک منفرد مرکب تو آپ نے بھی چست کر ڈالا حضور جو یقیناً ہمارے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا مگر دعا دیجیے ہماری سخت جانی کو۔:)
بہت شکریہ جناب۔ محبتیں ہیں آپ کی۔
 

فاتح

لائبریرین
واہ واہ۔ کیا ہی خوبصورت غزل ہے فاتح صاحب۔ ایک ایک شعر نگینے کی طرح اپنی آب دکھلا رہا ہے۔ بہت ہی خوب۔ روایتی غزل کا ایک بہت ہی خوبصورت تسلسل۔ بہت داد قبول ہو قبلہ! اللہ کرئے زورِ قلم اور زیادہ۔ :)
حضور! آپ ایسے سخنور اور ناقدِ خالص کے قلم سے اپنے اشعار کے لیے اس قدر توصیفی کلمات پڑھ کر گویا ہفت اقلیم ہاتھ لگ گئی ہے۔ بے حد شکریہ جناب۔
 

فاتح

لائبریرین
بلاشبہ بہت اچھی غزل ہے فاتح صاحب! مبارک ہو

اس مصرع میں کیجیے کی بجائے کیجے ہونا چاہے
دریافت کیجے گردشِ صد کہکشاں مگر
عمران شناور صاحب! غزل پسند کرنے اور املا کی درستگی کا بہت شکریہ!
یقیناً "کیجے" ہی ہونا چاہیے، املا درست کر رہا ہوں۔ شکریہ!
 

محمد وارث

لائبریرین
کافی عرصے کے بعد آپ کا کلام پڑھنے کو ملا فاتح صاحب اور وہ بھی تازہ، گویا دو آتشہ ہوگئی ہے غزل۔

کلاسیکی رنگ میں رنگی ہوئی غزل بلا شبہ خوبصورت ہے، تراکیب کے خوبصورت استعمال نے جان ڈال دی ہے اشعار میں

سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے

دریافت کیجیے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے

جب سے خبر ہوئی کہ ہے بسمل ابھی حیات
اٹھتی نہیں ہیں، غیرتِ مژگاں نہ پوچھیے

واہ واہ واہ، لاجواب، بہت داد قبول کیجیئے جناب۔
 

ایم اے راجا

محفلین
سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے

واہ واہ کیا ہی خوبصورت غزل کہی ہے پڑھ کر دل خوش ہو گیا واہ واہ، داد قبول ہو۔ شکریہ۔
 

فاتح

لائبریرین
کافی عرصے کے بعد آپ کا کلام پڑھنے کو ملا فاتح صاحب اور وہ بھی تازہ، گویا دو آتشہ ہوگئی ہے غزل۔

کلاسیکی رنگ میں رنگی ہوئی غزل بلا شبہ خوبصورت ہے، تراکیب کے خوبصورت استعمال نے جان ڈال دی ہے اشعار میں

سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے

دریافت کیجیے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے

جب سے خبر ہوئی کہ ہے بسمل ابھی حیات
اٹھتی نہیں ہیں، غیرتِ مژگاں نہ پوچھیے

واہ واہ واہ، لاجواب، بہت داد قبول کیجیئے جناب۔
بہت شکریہ قبلہ وارث صاحب۔
آپ کہ ایک شاعر ہیں پھر نقاد بھی، ماہرِ عروض بھی اور ماہر انشا پرداز بھی۔ آپ ایسے عالم کی داد خاکسار کے لیے باعث افتخار ہے اور اس کے لیے بے حد شکر گزار ہوں۔
لیکن۔۔۔ ہمیں شاعروں، نقادوں، عروض دانوں، انشا پردازوں سے کہیں بڑھ کر ہمارے دوست عزیز ہیں اور آپ اپنی تمام تر حیثیتوں کو پسِ پشت ڈال کر سب سے پہلے ایک دوست ہیں اور دوست سے تعریف اور تنقید وصول کرنا ہمارا حق ہے لہٰذا بطور دوست آپ کے توصیفی کلمات یا ناقدانہ رائے پر آپ کا قطعاً شکریہ ادا نہیں کر رہا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
بہت شکریہ قبلہ وارث صاحب۔
آپ کہ ایک شاعر ہیں پھر نقاد بھی، ماہرِ عروض بھی اور ماہر انشا پرداز بھی۔ آپ ایسے عالم کی داد خاکسار کے لیے باعث افتخار ہے اور اس کے لیے بے حد شکر گزار ہوں۔
لیکن۔۔۔ ہمیں شاعروں، نقادوں، عروض دانوں، انشا پردازوں سے کہیں بڑھ کر ہمارے دوست عزیز ہیں اور آپ اپنی تمام تر حیثیتوں کو پسِ پشت ڈال کر سب سے پہلے ایک دوست ہیں اور دوست سے تعریف اور تنقید وصول کرنا ہمارا حق ہے لہٰذا بطور دوست آپ کے توصیفی کلمات یا ناقدانہ رائے پر آپ کا قطعاً شکریہ ادا نہیں کر رہا۔

آپ کے اس انداز نے تو مار ہی ڈالا قبلہ، یا اگر کچھ جان باقی ہے تو

جب سے خبر ہوئی کہ ہے بسمل ابھی حیات
اٹھتی نہیں ہیں، غیرتِ مژگاں نہ پوچھیے :)
 

مغزل

محفلین
رسید کے بعد حاضر ہوں :
’’ پیہم عطائے عسرتِ دوراں نہ پوچھیے
بارے عجیب رحمتِ رحماں نہ پوچھیے

موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے

دردِ ہزار کہنہ کیے گو کشید پر
لمسِ طبیب و حدّتِ درماں نہ پوچھیے

سنجاب فرشِ خاک بنے یادِ یار میں
لطف و گدازِ وحشتِ زنداں نہ پوچھیے

دریافت کیجے گردشِ صد کہکشاں مگر
بس اک مقامِ حضرتِ انساں نہ پوچھیے

جب سے خبر ہوئی کہ ہے بسمل ابھی حیات
اٹھتی نہیں ہیں، غیرتِ مژگاں نہ پوچھیے‘‘

فاتح صاحب کا تازہ کلامِ بلاغت نظام سب سے پہلے سمعی نظام پر واردات کرتا ہوا موصول ہوا، گوکہ مواصلاتی نظام اپنے تمام تر خناس کے ساتھ حملہ آور رہا کہ جناب کی غزل میں رخنہ در سماعیات رکھے لیکن صاحب ہم بھی ’’ محاورے کے جنور کی طریوں ڈھیٹ اور اڑی باز نکلے ‘‘ اور رابطہ کی مشین سمیت پہاڑ پر جلوہ افروز ہوئے اس عرصے جناب کا کلام صوتی آہنگ میں محفوظ بھی کرتے رہے ،داد و تحیسن توخیر کوئی معنی نہیں رکھتی مگر ’’ شرما حضوری ‘‘ بھی کوئی شے ہوتی ہے ۔اب چونکہ کلام صوری آہنگ میں پیش ہے تو بھی ، خاکسار کی جانب سے سکہ بند معرب مفرس مورّد ، ( صنائع بدائع بھی شامل ہی سمجھیے ) مرصع مسجع، مقفیٰ ، خالصتاً روایت کے آئینہ دار کلام پر صمیمِ قلب سے ہدیہ مبارکباد قبول کیجے ، ۔ صرف دو ایک شعر کو ’’ مقتبس ‘‘ کا شرف بخشنا مجھے گراں گزرا سو پوری غزل ہی واوین کی قید میں رکھ دی ، ۔ایک بار پھر بہت بہت مبارک ہو حاملِ ’’ نفرت ‘‘ کو۔ والسلام
 

فاتح

لائبریرین
آپ کے اس انداز نے تو مار ہی ڈالا قبلہ، یا اگر کچھ جان باقی ہے تو

جب سے خبر ہوئی کہ ہے بسمل ابھی حیات
اٹھتی نہیں ہیں، غیرتِ مژگاں نہ پوچھیے :)
حضور! مقتول تو ہم ہیں کہ آپ کی ناوکِ مژگاں سے نچھاور ہونے والی محبت کے بعد ہم میں بسملِ محض رہنے کی سکت ہی نہیں بچتی۔
 
Top