پچھتر سالہ پرانا کلام +ج کے تناظر میں

سید زبیر

محفلین
مولانا ظفر علی خاں نے لاہور میں ۱۴ مئی ۱۹۳۷ ء میں جب وزیرستان پر انگریزوں نے بمباری کی تھی تو کانگرس کو مخطب کرتے ہوئے چند اشعار کہے تھے جو پیش خدمت ہیں پچھتر سالہ پرانی ۱۹۳۷ کی تحریر کو ۲۰۱۲ کے تناظر میں دیکھیے​
ہے کیوں چپ جب آ زاد ہے کانگرس پھڑ کتی نہیں کیوں یہ بھارت کی نس​
ہے ان کی حمائت میں کیوں پیش و پس پٹھانوں پہ جب بم رہے ہوں برس​
نہیں ہے جب اس ہاتھ پر دسترس جھکایا ہے جس نے وطن کا کلس​
تو کیوں ہے قیادت کی دل میں ہوس تمنا عقابی کی ہو کر مگس​
کسی طرح ہوتی نہیں ٹس سے مس ہے کیا وہ بھی انگریز کی ہم نفس​
 

سید زبیر

محفلین
امر لطیف یہ ہے کہ ماشاءاللہ پاکستان میں انہی کی شرح افزائش زیادہ ہے گویا
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی :cool:
 

الف عین

لائبریرین
عزیزم یہاں ’بھارت‘ سے مراد غیر منقسم ہندوستان ہے، آزاد ہندوستان نہیں۔
ویسے یہاں میں یہ اطلاع دینے آیا تھا کہ محفل کے کی بورڈ میں ’آ‘ بڑے اے A کی کنجی پر ہے۔
 
Top