پر چی ۔۔۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ س ن مخمور

loneliness4ever

محفلین
پرچی
س ن مخمور


’’ مسٹر آپ کی تعلیمی اسناد تو واقعی قابل ِ دید ہیں مگر ۔۔۔۔ ‘‘
اس مگر نے اپنی تعریف سن کر جو خوشی مجھے حاصل ہوئی تھی وہ تمام کی تمام مجھ سے چھین لی ،ملازمت کے لئے انٹرویو کے دوران میں اس مگر سے باخوبی واقف ہو چکا تھا۔سوٹ بوٹ میں میز کے دوسری جانب بیٹھا تقریباََ ہر دوسرا فرد اس’’ مگر ‘‘کو استعمال کرکے مجھے ناامیدی اور مایوسی کے مہیب اندھیروں میں دھکیل دیتا۔پھر بھی ایک مدہم سی امید کی کرن آنکھوں میں سجائے میں نے کرسی پر تن کر بیٹھتے ہوئے کہا
’’ جی ۔۔ فرمائیں۔۔۔‘‘
’’ دیکھیں ہماری کمپنی کا ایک اصول ہے، ہم میرٹ کے قائل ہیں مگر بزنس انڈسٹری میں کسی کے ریفرنس کو جو اہمیت حاصل ہے ہم اس کو پس پشت نہیں ڈال سکتے‘‘
یہ کہتے ہوئے منیجر صاحب نے پہلو بدلا اور میز کی دوسری جانب رکھی ایک اور نوجوان کی درخواست میرے سامنے رکھ دی
’’ دیکھیں یہ نوجوان آپ سے کم تعلیم یافتہ ہے مگر اس وقت اس کی درخواست آپ کی درخواست سے زیادہ جاندار ہے، وجہ جانتے ہیں؟؟‘‘
منیجر صاحب نے مجھ سے استفسار کیا،
’’ جی میں سمجھا نہیں ۔۔۔‘‘
میں نے انجان بنتے ہوئے کہا، کیونکہ شاید اب مجھے انسان کی حقیقت اس کی اپنی زبانی سننے میں لطف آنے لگا تھا، معاشرے کے غیر متوازن رویوں نے تلخی میری رگوں میں خون کی مانند گھول دی تھی۔
’’ مطلب یہ کہ ان کی درخواست پر ریفرنس کے طور پر دو ایسے نام ہیں جو بزنس حلقے میں کسی تعریف کے محتاج نہیں اس کے برعکس آپ کی درخواست میں ایسا کچھ نہیں‘‘
اپنے طور پر منیجر صاحب نے زمانے کی برائی کو میری خامی بیان کرتے ہوئے مجھے سمجھاناچاہا مگر میرا ضبط ناراض ہو گیا، اور میں نے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سامنے رکھی ہوئی اپنی درخواست اٹھا کر فائل میں رکھ لی اور مصافحہ کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا
’’ میرٹ کی بات کرکے آپ ریفرنس کی طلب کیوں کرتے ہیں؟ آپ کا اپنا معیار دہرا ہے‘‘
میری بات سن کر منیجر صاحب مسکرا دئیے اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’ دیکھیں آج کل میرٹ میں قابلیت کے علاوہ درخواست گزار کی معاشرے میں جان پہچان بھی اہمیت رکھتی ہے اور ریفرنس بھی اسی نظر سے دیکھا اور مانگا جاتا ہے، مگر آپ جیسے جذباتی جوان ان باتوں کو سمجھے کے بجائے سوچنے اور بولنے کے لئے غلط زویوں کو اختیار کرتے ہیں۔‘‘
میں نے ان کی جانب سے مزید بیٹھنے کی دعوت کو نظر انداز کرکے جواباََ کہا
’’یعقوب صاحب !!میرے ہاتھ میں یہ تمام پرچے میری تعلیمی قابلیت کا واضح ثبوت ہیں مگر آپ کی نظر میں بے معنی، البتہ ان تمام پرچوں کے علاوہ میرے ہاتھ میں کسی نام کی کوئی چھوٹی سی پرچی ہوتی تو مجھے آپ کی یہ تمام باتیں نہ سننا پڑتیں‘‘
’’ دیکھیں جی اگر آپ عام لوگوں کی طرح سوچیں گے تو سوشل ہونے جیسی خوبی کو پرچی سمجھ کر رد کرکے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھے رہیں گے‘‘
’’ جناب معذرت کے ساتھ سوشل ہونا بہت اچھی خوبی اور زندگی کے لئے مفید ہے مگراس خوبی کا ناجائز فائدہ اٹھانا نامناسب ہے‘‘
میں نے تلخ لہجے میں یعقوب صاحب کو جواب دیا اور کمرے سے نکل گیا۔تقریباََ اس جیسی بحث روز کا معمول بن چکی تھی، ایک چھوٹی سی پرچی نہ ہونے کے سبب میں گذشتہ سال بھر سے جوتیوں پر روز گرد سجائے گھر میں داخل ہورہا تھا۔ اپنے خرچے نکالنے کے لئے دو تین ٹیوشن شروع کر رکھی تھیں۔کیونکہ اس عمر میں ابو سے مانگتے ہوئے شرم آنے لگی تھی۔ آخر جب ہر روز کی محنت بے سود ثابت ہونے لگی تو میرے مزاج میں تلخی اور چڑچڑے پن نے جگہ لے لی اور میری ہر اچھائی پر یہ برائی غالب آنے لگی۔امی ابو کو میری نوکری سے زیادہ میری شادی کی فکر لگی ہوئی تھی کیونکہ وٹے سٹے کے تحت باجی کا رشتہ طے کرنے کے سبب وہ اس بات کے پابند ہو چکے تھے کہ شادیاں ہونگی تو ساتھ ہی ہونگی، لڑکے والے میری بڑی بہن کو اس وقت ہی رخصت کر کے لے کر جائیں گے جب ان کی بہن کی رخصتی بھی ساتھ ہو، اور ان کی بہن کی رخصتی مجھے ملازمت ملنے کے انتظار میں تھی یوںیہ معاملہ میری نوکری کی وجہ سے التوا میں پڑا ہوا تھا۔ امی ابو چاہتے تھے کہ میں نوکری ملے بنا شادی کر لوںاور اس بات پرلڑکی والے بھی راضی تھے اور چاہتے تھے کہ وہ مجھے کوئی بزنس شروع کر کے دے دیں تاکہ آمدنی کا ذریعہ بھی ہو جائے اور شادی کی تیاریوں کی ابتدا بھی۔ مگرغیرت اس بات کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ دن یوں ہی پر لگا کے اڑے جا رہے تھے۔ آخر جب گھر والوں کی جانب سے شادی کے لئے اصرار بڑھنے لگا تو میں نے اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرکے امی کو ابو جان سے میری نوکری کے لئے اپنے کسی دوست سے بات کرنے کا کہا۔ ایک عرصے سے مارکیٹنگ کی فیلڈ میں رہنے کے سبب ابو جان کے بعض لوگوں سے ایسے اچھے مراسم ہو گئے تھے کہ مجھے امید تھی کہ ان کے نام کا سہارا یعنی پرچی مل جانے سے مجھے نوکری ضرور مل جائے گی اور پھر امی جان کے اصرار اور باجی کی شادی کی خاطر ابوجان نے ہتھیار ڈال دئیے اور نادر انکل کے نام کی پرچی لئے میں ایک اچھی گارمنٹ فیکٹری میں اکاونٹ آفیسر کے طور پر بھرتی کر لیا گیا، اور یوں میری نوکری کے ہوتے ہی سال بھر میں میری اور باجی کی شادی کر دی گئی۔وقت پر لگا کر اڑنے لگا،باجی کی بڑھتی عمر کے سبب وٹے سٹے کی شادی پر رضامند ہوکر تمام گھرانہ ہی پریشان تھا مگر اب الحمداللہ تین سال ہونے کو آئے تھے، اور دونوں لڑکیاں اپنے اپنے گھروں میں ایسے رہ رہی تھیں کہ جیسے وہیں پلی بڑھی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

’’ سنیں نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے، پہلے نماز پڑھ لیں، یہ کرکٹ میچ کہیں بھاگا نہیں جا رہا‘‘
عالیہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے مجھے خبردار کیا مگر میں تو غفلت کی چادر نہ اتارنے کی قسم کھائے بیٹھا تھا۔
’’بھئی اب آخر کے اوورز رہ گئے ہیں، کچھ وقت بعد پڑھ لوں گا جماعت تو ویسے بھی نکل چکی ہے‘‘
میں نے لاپروائی سے جواب دیا اور نگاہ جمائے پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے میں مشغول ہو گیا، عالی میری اس حالت پرکڑھتی ہوئی کمرے سے باہر جانے کے لئے مڑی ہی تھی کہ بجلی چلی گئی اور عالی کی زور دار ہنسی نے الیکڑک سپلائی کمپنی پر آئے میرے غصے کو بھڑکا دیا اور میں د ل میں جانے کتنی ہی سلاواتیں الیکڑک سپلائی کمپنی والوں کو غائبانہ سناتا ہوا وضو کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ چار رکعت فرض عصر کے ایسے پڑھے کہ یاد ہی نہیں رہا کہ پہلی رکعت میں کون سی سورۃ پڑھی تو دوسری رکعت میں کونسی۔ نماز پڑھ کر میں وقت گزاری کے لئے محلے میں دوستوں کی بیٹھک میں جا بیٹھا۔ چھ دن کام میں اور اتوار کا ایک دن ادھر ادھر اٹھنے بیٹھنے میں گزر جاتا۔ میری نوکری کے برعکس ابو کی ملازمت دوسری قسم کی تھی، ان کاسارا دن اوپن مارکیٹ میں گزرتا، سخت بھاگ دوڑ کرنا ان کے لئے روز کا معمول تھا۔ وہ چھٹی کے دن کا آغاز بھی روز صبح کو معمول کے مطابق بیدار ہو کر کرتے تھے اور ان کی بہ نسبت چھٹی کے دن میری صبح کاآغاز ہوتے ہوتے ظہر کا وقت لگ جاتا تھا۔ ساری عمر موٹر سائیکل پر دن بھر بھاگ دوڑ میں گزار کر بھی ابو جان کا اپنے دوست ، احباب سے ملنے کے اوقات، نماز قرآن پڑھنے کے معمولات میں بال برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔ ابو اکثر مجھے بھی اپنے معمولات کو ایک ترتیب ، نظم و ضبط ، اصول اورقاعدے کے ساتھ گزارنے کا کہتے تھے۔ مگرشادی شدہ ہونے کے باوجود میری زندگی اصول ، قاعدے، نظم و ضبط سے عاری گزر رہی تھی وہ تو خیر عالیہ نیک خصلت کی تھی اس لئے باآسانی گزارہ ہو رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

مجھے ملازمت کرتےہوئے چار سال ہو چکے تھے اور ان چار سالوں میں میرے بعد اپائنٹ ہونے والا مجھ سے آگے جا چکا تھا، مگر میں جس کرسی پر بیٹھا تھا بیٹھا ہی رہا تھا، فیکٹری کے اندر آنے کے لئے پرچی کی ضرورت تھی اور فیکٹری میں اوپر تک جانے کے لئے بھی پرچی کی ضرورت سے آنکھیں نہیں موڑی جا سکتی تھیں۔ یہ حالات دیکھ کر میں نے چاپلوسی اور خوشامد کا دامن تھام لیا۔ اپنے منیجر اور سینئرز کی خوشدلی سے جی حضوری کو اپنی عادات میں شامل کر لیا۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود مجھے ایک مرتبہ پھر پرچی کی ضرورت تھی۔ جو میری جی حضوری کی محنت کے خاکے میں میرے مطلوبہ رنگ جلد اور بہتر انداز سے بھر سکتی تھی۔ میں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے عالم میں اولاد کی متوقع آمد کے پیش نظر امی جان کو ابو جان سے بات کرنے پر راضی کر لیا۔کچھ دن امی جان کو ابو کو راضی کرنے میں گزر گئے۔ اور آخر کار ایک دن یہ طے پا ہی گیا کہ میں اور ابو ایک مرتبہ پھر اکٹھے نادر انکل سے ان کے گھر جاکر ملاقات کریں اور ابوان سے میری ترقی کے لئے بات کریں ۔ نادر انکل نے پہلے کی طرح اپنے تعاون کا بھرپور یقین دلایا مگر مہینے بھر انتظار کرنے کا مشورہ دیا ، دراصل جس شخص سے ان کو میری ترقی کے لئے کہنا تھا وہ شخص کاروباری سلسلے کے سبب ملک سے باہرگیا ہوا تھا۔ ہم دونوں باپ بیٹے ان سے ملاقات کے بعد واپس گھر لوٹ آئے، والد صاحب میری حرکت سے نالاں تھے، وہ تو امی اور ان کی چہیتی بہو کا منہ تھا ورنہ اس مرتبہ ابو میری سفارش کرنے کبھی نادر انکل کے پاس نہیں جاتے۔ابو کے برعکس میں کافی مطمئن تھا مگرقدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا، ہوا یوں کہ جن صاحب سے نادر انکل کو میری ترقی کے لئے سفارش کی بات کرنا تھی وہ صاحب وطن وآپس آتے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔اور میری آنکھوں میں ترقی کے تمام خواب مجھ پر بوجھ بنتے چلے گئے۔ آخر کار میرے چڑچڑے پن اور عالیہ پر دوران حمل ہوتے ہوئے خرچے کے بوجھ کے سبب ایک مرتبہ پھر والد صاحب کی نہ کا سر جھک گیااور وہ مجھے لیکر نادر انکل کے گھر جا پہنچے۔ نادر انکل نے ہمیشہ ہی کی طرح ہمارا استقبال کیا مگر ۔۔۔ اس مگر ہی نے میری ہر امید توڑ ڈالی۔ لفظ ’’ مگر‘‘ ایک بار پھر میرے راستے کی رکاوٹ بن گیا۔ قصہ یہ ہوا تھا کہ نادر انکل سے جن صاحب کی جان پہچان تھی وہ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے اور ان صاحب کے علاوہ ان کے شناسائوں کی فہرست میں کوئی ایسا نام نہ تھا جو پرچی پر لکھا جاتا۔ اس مرتبہ گھر واپسی کے سفر میں میں بے حد پریشان ،مگر والد صاحب کافی مطمئن نظر آ رہے تھے۔ بس ان کے ذہن پر دو ماہ بعد عالیہ کے آپریشن کی مد میں ہونے والے متوقع خرچہ کا بوجھ تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ کافی مطمئن تھے۔ اور پھر عالیہ کا آپریشن بھی ہو ہی گیا، اللہ پاک نے ایک نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں مجھے دو بیٹوں سے نوازا۔ میری خوشی دیدنی تھی۔آپریشن کا خرچہ والدصاحب اور میں نے مل کر اٹھایا تھا۔میراپورا گھر خوش تھا،مگر ہر شے ، ہر احساس کی طرح میری اس خوشی کو بھی ایک روزمٹ جانا تھا، سودونوں بیٹوں کی آمد کی خوشی مٹتے مٹتے میرے اوپر بوجھ بن گئی۔ میں ایک وقت جن دو بیٹوں کو اپنی خوش نصیبی سمجھ رہا تھا ،اب ان میں سے ایک کو اپنی بدنصیبی سمجھنے لگا۔ فکر معاش نے مجھے بگاڑنے شروع کر دیا۔ مجھے بچوں کا بھوک سے رونا، خوشی میں کھیلنا سب کچھ برا لگنے لگا۔ ایک تو کم آمدنی کے عفریت نے پریشان کر رکھاتھا دوسرا قدرت نے بھی اپنے فیصلےتبدیل نہیں کرنے تھے اور میرے بچوں کی پیدائش کے ڈھائی سال بعد قدرت میرے گھر سے ابو جان کو لے گئی، یوں اچانک ان کے انتقال نے گھر والوں کے پائوں کے نیچے سےزمین کھسکا دی، اچانک ہی کہنا درست ہےکیونکہ وہ نہ بیمار تھے اور نہ ہی کسی قسم کی تکلیف میں مبتلا تھے، بس معمول کے مطابق فجر پڑھنے کو اٹھے اور پھر وضو کرتے کرتے سینے پر ہاتھ رکھ کر لمحے بھر میں ہم سب سے روٹھ کر چل دئیے۔ابو جان کیا گئے، میری تو کمر ٹوٹ گئی۔ مہنگائی ، غم اور لوگوں کی بے اعتنائی نے ایسا حملہ کیا کہ باپ کے جانے کے بعد رفتہ رفتہ گھر کا سامان بیچنے کی نوبت آ گئی۔ گھر بار کا سکون ، چین لٹ رہا تھا۔ مگر میں کیا کر سکتا تھا؟؟ ہر ممکن کوشش کی، کئی جگہوں پر رابطے کئے مگر ایسی کوئی پرچی ہاتھ نہ لگی جو مجھے اور میرے گھر کو استحکام دے پاتی۔ تنکا تنکا جوڑ کر والد صاحب نے جو آشیانہ بنایا تھا وہ بکھر رہا تھا۔ میں چاہتا تھا وقت پل کو رک جائے اور میں ٹھہری ہوئی ساعت میں منتشر ہوتے ہوئے گھر، سکون اور عزت کو اپنے ہاتھوں میں سمیٹ لوں مگر وقت بھلا کہاں رکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

آج ابو جان کا انتقال ہوئے قریبا َ َ سترہ سال گزر چکے ہیں ، میرے بالوں کی سیاہی سفیدی میں تبدیل ہو چکی ہے مگر ۔۔۔۔۔۔ میرے گھر میں اب چھپڑ پھاڑ کر سکون، عزت اور اطمینان برستاہے۔ اور یہ سب صرف اس لئے ہوا کہ مجھے جو سبق ابو جان اپنی زندگی میں یاد کروانا چاہتے تھے وہ سبق میں نے ان کے جانے کےتین سال بعد یاد کر ہی لیا۔ ابو جان کی وفات ہونے کے فورا َ َ بعد تین سال کا جو عرصہ مجھ پر اور میرے گھر والوں پر گزرا تھا وہ واقعی ایک بھیانک خواب سا ہے۔ عزت ، سکون ، رشتے دار ، دوست یار سب ساتھ چھوڑ چکے تھے بس مجھےاور گھر والوں کا سڑک پر آنا باقی رہ گیا تھا،مگر پھر وقت جو ایک سلطان کی طرح رہتا ہے بنا کسی کی پرواہ کئے، میرے آ گے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔اور پھر حالات یوں بدلے کہ پتہ ہی نہ چلا۔ مجھے آج تک اس بات کا قلق ہے کہ میں ابو جان کی زندگی میں اس سبق کو یاد نہ کر پایا جو انھوں نے اپنی زندگی کے ہر پل میں مجھے یاد کروانا چاہا، مگر ۔۔۔ ہاں اس مرتبہ اس’’ مگر‘‘ کی مجھے بے حد خوشی ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلنے سے قبل ابو جان کے جانے کے بعد ہی سہی میں نے وہ سبق یاد کر ہی لیا۔اور پھر اس سبق کے یاد کرنے کی برکت سے میرا ہر بگڑا کام سنورتا چلا گیا اور جو نہ سنور پایا اس کی جستجو ہی میرے دل سے مٹتی چلی گئی اور میں قدرت سے لیتا رہا اور جو اس نے مجھے نہ دیا میں اس پررنجیدہ خاطر نہ ہوا ۔ یہ سب ابو جان ہی سے حاصل سبق کا نتیجہ ہے۔میں آ ج بھی اسی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، جس کمپنی میں ترقی کی خاطر مجھے پرچی کی ضرورت تھی، میرے بعد آنے والے مجھ سے اوپر ترقی تو کرگئے مگر عزت کے ساتھ ملازمت جاری نہ رکھ سکے، میں آج بھی اس ہی پوسٹ پر ہوں مگر عزت سے مالا مال، اتنے عرصے میں میری تنخواہ مناسب حد سے بڑھتی گئی مگر مہنگائی کے عفریت کی نشو و نما میری تنخواہ میں اضافے کی شرح سے کہیں زیادہ رہی اور یوں ہر مرتبہ تنخواہ بڑھنے کے فورا َ َ بعد بھی مہنگائی کے عفریت کے آگے سر نہ اٹھا سکی مگر میری قلیل آمدنی ہی سے میرے گھر کا مکمل نظام سہولت اور بچت کے ساتھ چلتا رہا۔ اور یہ ہوا کیسے ؟؟ کچھ معلوم نہیں سوائے اس بات کے کہ جو کچھ ہوا اس ایک سبق کو یاد کرنے کے سبب ہوا۔ آج خیر سے میرا ایک بیٹامیڈیکل کالج کا ایڈمیشن ٹیسٹ پاس کرچکا ہے تو دوسرا چارٹرڈ اکاونٹینسی کی فیلڈ اپنانے کا ارادہ کئے ہوئے ہے۔ دونوں ہی طرز کی تعلیم وقت اور پیسہ مانگتی ہے مگر نہ میں فکر مند ہوں اور نہ میری اولاد۔ کیونکہ میری اولاد نے مجھ سے زیادہ لائق مند ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے باپ یعنی میری نگاہوں ہی کے سامنے وہ سبق یاد کر لیا ہے جو ان کے باپ نے یعنی میں نے ان کے دادا جان کے جانے کے بعد یاد کیا تھا۔ ہاں نہ صرف میرے ہاتھ میں ، بلکہ میری اولاد کے ہاتھ میں بھی یاد کیا ہوا، اپنایا ہوا وہ سبق ایک پرچی کی طرح ہے جس کے آگے تمام مشکلات گلاب بن جاتی ہیں، جو یا تومجھے اور میری اولاد کو اپنی رضا ، من چاہے مقصد کوحاصل کرنے کے لئے راستے، حالات آسان کر دیتی ہے یا پھرہمارے ذہنوں سے اس بات کا خیال جو ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتی یوں نکال دیتی ہے کہ کچھ ملال ہی نہیں ہوتا اور وقت گزر جانے کے بعد ہم اپنے آپ کو بہتر حال ہی میں پاتے ہیں۔ بیشک میرے اور میری اولاد کے ہاتھوں میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ، جنت کی کنجی اِس دنیا اور اُس دنیا میں ایسی ڈھال، ایسی پرچی ہے جس کو ہاتھ میں تھامتے ہوئے کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی۔ میری دعا ہے مالک اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک کو ہمیں عادت کے طور پر نہیں بلکہ عبادت کے طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، ایک عاشق کے طور پر محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین صد آمین

تَمَّت بِاالْخَیر

س ن مخمور
امر تنہائی
 
Top